دہشت گردوں کا سرپرست بھارت

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

بھارت دنیا کا واحد جمہوری ملک ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانا پسند کرتا ہے مگر اس کے طور طریقے کسی بھی طور پر جمہوری نہیں کہے جا سکتے اس کی سب سے بڑی مثال بھارت کے زیر تسلط بہت سے ایسے خطے ہیں جو اپنے لئے آزادی مانگ رہے ہیں مگر بھارت اپنی طاقت اور دھونس کے بل بوتے پر ان کو ان کا حق دینے کے بجائے ظلم و جبر سے ان پر اپنا ناجائز تسلط قائم رکھے ہوئے ہے اسی طرح کی بیشمار تحریکیں بھارت میں سر گرم عمل ہیں جو کسی لاوے کی طرح پک رہی ہیں جس کا اظہار بھارتی میڈیا بھی رتا ہے یہ ایک ایسا لاوا ہے جو اگر پھٹ جائے تو بھارت کے اتنے ٹکڑے ہونگے کے شمار کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔کشمیر میں ہونے والے مظالم ساری دنیا کے سامنے ہیں مگر عالمی برادری بھی جہاں بات مسلمانوں کی آئے وہاں پر جھکاؤ غیر مسلموں کی طرف ہی رکھتی ہے بلا شبہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جس کے بارے میں عالمی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ بھارت کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق حق خود ارادیت دے گا جس کی قراردادیں آج بھی اقوام متحدہ میں گرد سے اٹ پڑی ہے لیکن عالمی برادری بھی شاید اپنے مفادات کو انسانی حقوق سے افضل سمجھ رہی ہے اور خود کئی بڑی طاقتیں اس میں بھارت کی آلہ کار ہیں یا شاید مسلم دنیا پر ہونے والے ظلم کو وہ ظلم نہیں سمجھتی ۔دوسری طرف بھارت پورے جنوبی ایشاء کا امن تہہ و بالا کرنے کے چکر میں ہے اور ہر طرح سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک ہمیشہ سے ہی عدم استحکام کا شکار رہیں تاکہ اس کی چوہدراہٹ قائم رہے اور اس کی اس سارے کھیل میں امریکہ اس کے شانہ بشانہ ہے جس کے اپنے مفادات ہیں جو شاید اس کو چین اور پاکستان کے مقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے خطے کے دیگر ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی وجہ یہ کہ بھارت شاید یہ سوچ رکھتا ہے کہ اگر یہ ممالک غیرمستحکم ہوئے تو اس کی چوہدراہٹ قائم رہے گی اس کے لئے بھارتی لابی بڑے زور و شور سے کام کر تی رہی ہے جس کی گواہی عالمی اور خود بھارتی میڈیا بھی دیتا رہا ہے پاکستان میں اسکے پکڑے جانے والے جاسوس اکثر انھیں منصوبوں کو پروان چڑھانے کے لئے آتے تھے کہ کسی طرح پاکستان میں دہشت گردی کروا سکیں لیکن جب کھبی بھارتی دم پر پاکستانی پاؤں آیا اس کی چینخیں عالمی دنیا نے بھی سنی ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے جاسوس بیٹے کا مقدمہ لیے عالمی عدالت تک پہنچ چکا ہے مگر شاید وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا جاسوس بیٹا اگلی پچھلی ساری باتیں اگل چکا ہے اس لئے اس اک انجام ایک جاسوس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔کشمیر میں جو بھارت گھنونا کھیل کھیل رہا ہے اس کی وجہ سے لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں اس ظلم ستم سے تنگ آ کر وہاں کے جوانوں نے اپنی جنگ خود لڑنے کا قصد کیا جس پر بھارت نے الزام پاکستان کے سر تھوپنے کی ناکام کوشش کی ہے کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پالیسی سے بھارت بخوبی واقف ہے اور یہ پالیسی کشمیر پر بھارتی موقف کے یکسر برعکس ہے۔ اور درحقیقت یہی کشمیر کا تنازعہ ہے پاکستان کا یہ اٹل موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے اور استصواب رائے کے ذریعے کشمیری خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بھارت نے فوج کے بل بوتے پر کشمیر پر اپنا تسلط جما رکھا ہے اور کشمیری عوام اس کے اس تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں پاکستان ہمیشہ سے ہی کہتا آیا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ ختم کیا جائے اپنے حقوق کی جدوجہد میں اب تک جتنے بھی کشمیری لیڈر اور عوام مارے گئے پاکستان نے انہیں ہمیشہ شہید قرار دیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی انہیں شہید کا اعزاز دیا گیا ہے پاکستان سے کشمیر پر ہونے والے مذاکرات سے بھارت کے انکار کی سب سے بڑی وجہ اس کی اپنی مذموم کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے کیا بھارت اس سے انکار کر سکتا ہے کہ اس کے وزیراعظم نے اعلانیہ بلوچستان میں مداخلت کی بات کی تھی؟ کیا وہ کل بھوشن یادیو کے وجود اور اس کی بلوچستان سے گرفتاری سے انکار کر سکتا ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات بھارت کو ہر صورت دینے ہونگے نریندر مودی کے بیان کے بعد ''را'' کے ایک حاضر سروس افسر کو خصوصی ٹاسک دے کر بھیجا گیا جس کو بعد ازاں ہمارے اداروں نے پکڑ کر سب کے سامنے کر دیاتمام شواہد کی موجودگی اور اس کے اعترافی بیان رکوانے کے لئے بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیامقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور امید یہی ہے کہ یہ کیس عالمی عدالت میں چلانے کے قابل ہی نہیں ہو گا جبکہ پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے والا بھارت خود پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اس کی طرف سے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ اور سرمایہ کی فراہمی بھی اب راز نہیں رہی درحقیقت مذاکرات نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ پورے خطہ کے مفاد میں ہیں بامعانی مذاکرات کے ذریعے ہی کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کیاجاسکتا ہے اوراس طرح خطے میں پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔جبکہ بھارت جس دہشت گردی کو دوسرے ممالک میں فروغ دے رہا ہے بہت جلد وہ خود اس کی لپیٹ میں ہو گا اور تب تک بھارت کے لئے بہت دیر ہو چکی ہو گی اور شاید تب تک یہ بات عالمی برادری کو باراور ہو جائے کہ بھارت جو اپنے آپ کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 128992 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
30 Oct, 2017 Views: 375

Comments

آپ کی رائے