الطاف فیروز صاحب کی کتاب

(Munir Bin Bashir, Karachi)

الطاف فیروز صاحب کی کتاب “ دبیز پانیوں کے نام ایک خط “ پڑھی تو مجھے یاد آیا کہ تقریباً آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے مارکیٹ میں ایک نیا مشروب یا سوفٹ ڈرنک آیا جس کا نام "اسٹنگ " تھا - میری بیٹی نے کہا ابو یہ آجکل خوب مقبول ہو رہا ہے - اس اسٹنگ کے معنی کیا ہیں ؟ اس وقت ایک دم تو معنی یاد نہیں آئے -پھر سوچا تو یاد آگئے - میں نے کہا اس کے معنی ہیں “ڈنگ مارنا “ - مزید کچھ دماغ کو ہلایا جلایا اور سوچا - اپنے ذہن کے مطابق تشریح کی کہ سانپ بچھو کاٹ لے تو اسے تو اسے اسٹنگ کر نا کہتے ہیں پھر مزید تشریح کی کہ یہ نام کیوں رکھا گیا ہے - میں نے کہا کہ یہ ڈنگ کی کاٹ ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کے ذہن کو ایک دم جھٹکا لگتا ہے یعنی اس کی سستی غائب ہو جاتی ہے - وہ چونک اٹھتا ہے -
بھائی الطاف فیروز کی کتاب میرے سامنے ہے - اسے بھی میں اسٹنگ کتاب کا نام دوں گا - (یا سٹنگ کتاب کہوں گا - اپنے علاقے کے لحاظ سے کچھ بھی کہہ لیں ) - یہ کتاب ذہنوں کو ایک دم اسٹنگ کرتی ہے --
کئی سماجی برائیوں کے خلاف --معاشرے کی غلط ناہمواریوں کے خلاف ---
یہ اسٹنگ نہیں تو کیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے افراد اپنے پیر یعنی مرشد کی تکریم کرتے ہیں اور اس لئے کرتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں اس کا درجہ مذہبی لحاظ سے ہم سے بہت بلند ہے - اور کتاب یہ بتا رہی ہے کہ وہ پیر ہمیں ذلالت کی گہرائی میں گرا کر ہمارے کھائے ہوئے برتن کو کتوں کے لئے رکھ دیتے ہیں ( ص 64) --- ذہن کو ایک جھٹکا سا لگتا ہے - ایک اسٹنگ لگتا ہے - انسان اشرف المخلوقات ہے --- اس کی یہ تذلیل اور وہ بھی اس فرد کے کے ہاتھوں جس پر ہمیں بھروسہ ہے کہ وہ مذہب کے اعلیٰ درجے کے اصولوں پر کاربند ہو گا - یہ اسٹنگ نہیں تو اور کیا ہے - الطاف فیروز یہ اسٹنگ لگا کر چھوڑ دیتےہیں کہ سوچو سوچو -- یہ کیا ہو رہا ہے
ایک اور جگہ نصیحت کر رہے ہیں لیکن وہ بھی ایک اسٹنگ لگا کر تاکہ کچھ تو اثر لیں - لوگوں کو غرور کا شکار نہیں ہونا چاہئے ‘ زندگی بہت سے لوگوں کو دوسروں کا اگلا ہوا نوالہ چبانے پر مجبور کر دیتی ہے ( ص 49 ) - اس اسٹنگ سے میں بہت تلملایا - اتنے بے درد انداز میں مثال دی - لیکن پھر سوچا کہ یہ ضروری بھی تھا - میرے سامنے شہنشاہ ایران کی تصویر گھوم گئی کہ بہادر شاہ ظفر کو تو مرنے کے بعد دو گز زمین نہیں مل رہی تھی اور شہنشاہ ایران اپنی حیات میں اپنے رہنے کے لئے دو گز زمیں مانگ رہے تھے - پھر مجھے لیبیا کے معمر قذافی بھی یاد آئے -

ریٹائرمنٹ کے بعد کی بات ہے کہ میں میرا ایک اور ساتھی سڑک پر چلے جارہے تھے - ہم دونوں ایک ساتھ ہی ریٹائر ہوئے تھے - اس روز ہڑتال تھی اور ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی - اس لئے فیصلہ ہوا کہ پیدل ہی چلے چلتے ہیں -موسم بھی اچھا ہے -اور ہم تار کول کی سڑک پر ایک طرف ہو کر درختوں کی چھاؤں تلے چلنے لگے -
اپنی اپنی پرانی یادوں کو ذہں میں لاتے ہوئے ہوئے ہم جانے کتنی دور نکل آئے - اچانک میرے دوست کے منہ سے نکلا " تو چنگا نہیو کیتا "( تم نے صحیح نہیں کیا ) میں نے بے اختیار چونک کر اسے دیکھا - وہ بھی ایک دم ہوش میں آیا -سر کو جھٹکا دیا اور کہا مجھے کچھ یاد آگیا تھا - اپنے کسی باس کا نام لیا - پھر اس سے پہلے میں سوال کرتا اس نے خود ہی کہنا شروع کیا "یار وہ تھا نہ حشمت -- کوئٹہ والا سپر وائزر - کالا سا - ایک مرتبہ اس کی باس سے کسی معاملے پر ان بن ہوگئی تو باس نے مجھے کہا اس کی اے سی آریں خراب کر دو - وہ جو پہلے بنی تھیں انہیں نکلوا کے دیتا ہوں انہیں نئے سرے سے بناؤ“
میرا دوست خلا میں دیکھے جا رہا تھا اوربولے جا رہا تھا - " میں باس کے روئیے پر صدمے میں آگیا تھا - صرف ایک دن کی معمولی بات پر پچھلے دو سال کی کارگردگی ملیا میٹ کر رہے تھے "
یہ کتاب پڑھ کر میرے منہ سے بھی اس دوست کی طرح بے ساختہ نکلا لیکن الفاظ الگ تھے "الطاف فیروز تم اتنے ظالم کب سے ہوگئے ہو "
میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا - شکر ہے سب سو رہے تھے -کسی نے میرا فقرہ نہیں سنا -میں سوچنے لگا کہ انہوں نے نہایت بے رحمانہ طریقے سے معاشرے کی خامیوں پر نشتر زنی کی ہے - کیا ان حقائق کو چھپا لینا چاہئے تھا جو ہم ہر روز دیکھتے ہیں اور گردن جھکا کر نکل جاتے ہیں - - میرا خیال ہے انہوں نے صحیح کیا ہے اور ہمیں آئینہ دکھایا ہے -مثلا“
گھر والے بڑے میاں کی فوتگی کے وقت بڑے میاں کو ٹھکانے لگانے سے زیادہ آنے والے مہمانوں کے ٹھہرنے کے انتظام کے بارے میں پریشان تھے ( صفحہ 126 )
یا باپ کی موت سے زیادہ دکھ و فکر اس وقت اس کے لئے کفن میسر نہ ہونے کی تھی - باپ کی میت پر رویا جا سکتا ہے لیکن کفن کا مسئلہ حل کر نے کے بعد - ( ص 14)
کیا کوئی بیٹا سب کے سامنے اپنا یہ پردہ کھول سکتا ہے اور یہ کہہ سکتا ہے ؟ اپنی برادری والوں کا ڈر ----- اپنے رشتے داروں کے طعنوں کا خوف --- محلے میں سبکی ہونے کا اندیشہ - کوئی شریکے ہیں تو ان کے سامنے ہمیشہ کے لئے شرمندگی سے جھکے رہنے والے سر کی فکر --- لیکن ان سب کے دلوں کی ترجمانی ان کی انگلیوں نے کی بورڈ کے بٹن دبا دبا کر کر دی ہے - بلا شبہ ان کے کی بورڈ نشتر سے زیادہ کاٹ رکھتے ہیں - مجھے تو یہ لگ رہا ہے جب وہ یہ فقرہ لکھنے کے لئے کی بورڈ کے بٹن دبارہے تھے تو کی بورڈ کے بٹن اپنی کاٹ رکھنے کے باوجود افسردہ ہو گئے ہوں گے اور ان کی آواز تبدیل ہو گئی ہو گی - اسی لئے تو میں نے لکھا ہے کہ جناب الطاف فیروز صاحب آپ اتنے ظالم کیوں بن گئے اور ہمارے پردوں کو کیوں ہٹا رہے ہیں -

کتاب میں افسانہ ان کا افسانہ جوٹھن پڑھ کر مجھے واجدہ تبسم کا افسانہ " اترن " یاد آگیا - ایسا ہی ایک خیال واجدہ تبسم اپنے افسانے میں پیش کیا ہے
اترن میں دکھایا گیا ہے کہ ہیروئن اپنی بے قدری اور بات بات پر ذلیل ہونے کا بدلہ لینے کے لئے ہیرو کو استعمال کرتی ہیں اور پوری طرح ‘ہر لحاظ سے اپنے آپ کو ہیرو کے سپرد کر دیتی ہے - اور ایسا ہی الطاف فییروز کے افسانے میں ہوا ہے
ایسا کرنے کے بعد اترن کی ہیروئن " چمکی " ہیرو کی ہونے والی دلہن سے کہتی ہے "میں زندگی بھر آپ کی اُترن استعمال کرتی آئی…. مگر اب آپ بھی….‘‘
اور وہ یوں دیوانوں کی طرح ہنسنے لگی…. ’’میری استعمال کری ہوئی چیز اب زندگی بھر آپ بھی….‘‘
چمکی کی ہنسی تھمتی ہی نہ تھی۔
سب لوگ یہی سمجھے کہ بچپن سے ساتھ کھیلی سہیلی کی جدائی کے غم نے عارضی طور سے چمکی کو پاگل کر دیا ہے۔

جناب الطاف فیروز کے افسانے کی ہیروئن زبیدہ کہتی ہے "شاہ جی سنا ہے آپ کے جس برتن میں کمیرا منہ مار دے وہ برتن آپ کتوں کے راتب کے واسطے الگ رکھ چھوڑتے ہیں "
لیکن یہاں ہیرو زبیدہ کو اپنی دلہن بنا لیتا ہے

الطاف فیروز سے اس بابت بات کی تو انہوں نے بھی تقریباً ایسا ہی جواب دیا - وہ کہتے ہیں "اس افسانے میں کردار کی کچھ کچھ سائیکی (نفسیات ) وہی ہے جو میرے افسانے کی ہے -------مگر حالات و واقعات نے کرداروں کی سائیکی پر جو اثرات ڈالے وہ ذرا مختلف ہیں-
------
ایک کثیرالاشاعت رسالہ تھا "ریڈر ڈائجسٹ " یہ مختلف ممالک سے شائع ہوتا تھا - اسے میں کافی عرصے تک ریگولر پڑھتا رہا تھا - اس کی وجہ اس میں کسی اچھی کتاب کا خلاصہ پڑھنے کو مل جاتا تھا - اور دوسری وجہ ایک صفحہ " وردی کے اندرمزاح " ہوتا تھا جس میں دنیا بھر کی آرمی کے بارے میں مختلف مزاحیہ پہلوؤں کا تذکرہ کیا جاتا تھا اور ایک صفحہ ہوتا تھا " حوالہ دینے والے حوالے "- یہ حوالہ دینے والے حوالے مختلف کتابوں افسانوں یا دانشوروں کے ایسی باتیں ہوتی تھیں جو انکی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہوتی تھیں - میں جناب الطاف فیروز کے افسانے پڑھا کرتا تھا -اور ان میں ایسے کئی جملے ملا کرتے تھے جو حوالہ دینے والے حوالے کی مد میں آتے تھے - جب ان کی کتاب کی آمد کا سنا تو دل سے بے ساختہ نکلا واہ اب تو حوالہ دینے والے حوالوں کی پوری کتاب ہی آگئی ہے - ---- واہ شاندار
اور کتاب کا مطالعہ کیا تو دل سے نکلنے والی بے ساختہ بات کی تصدیق ہو گئی - اب میں کتنے فقرے لکھوں - ایک پڑھنے والے قاری کو خود بخود ملتے رہیں گے - مثلا“ لکھنے کی لت مجھے ایک اچھا سامع ہو نے کی وجہ سے ملی (ص 8 ) بھارت کے مشہور اسلامی اسکالر عمر اسی سال سے زاید اپنے “الرسالہ “ میں بھی تقریبا“ یہی بات لکھتے ہیں کہ میں لوگوں سے ملاقات کے وقت خود کم بولتا ہوں اور سامنے والے کی زیادہ - اسی طرح جناب رئیس احمد ایڈیٹر “اپنی باتیں “ نے بھی ایسا ہی تذکرہ کیا ہے
یا ایک مختصر سے فقرے کا حوالہ دے کر ایک پوری نصیحت اخذ کر سکتے ہیں - مثلا“ “وہ محبت کرتا تھا مگر صرف اپنی ذات سے ---اسی سبب خود غرضی کی تمام اقسام اس کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں (ص 85 )
--------------
بھارت کے کسی ٹی وی چینل پر ایک ڈرامہ دیکھا تھا یا پھر شاید ان کی کوئی فلم تھی - شہرمیں کوئی دنگا ہو گیا تھا - لوگ منتری کے پاس فریاد کرنے جاتے ہیں - منتری کے چہرے پر گمبھیر سنجیدگی ہے - وہ لوگوں کو تسلی دیتا ہے اور رٹے رٹائے فقرے دہراتا ہے - کس کی سازش ہے - کیسے ہشیار رہنا چاہیئے وغیرہ وغیرہ
ڈرامے میں یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ جیسے ہی لٹے پٹے لوگ اس کے گھر سے باہر بکلتے ہیں وہ کسی کو فون کرتا ہے “ارے او چندن لال -- کتنے مرے دنگے میں ؟ صرف چھ --ارے چھ نہیں بارہ مرنے چاہئے تھے - بارہ نہیں بیس -- میں نے کہا تھا آگ لگا دو شہر میں -- ایک ایک گلی میں -- ایک ایک چالی میں -- اس کے بعد یہ سب میرے پاس آتے -میں ان کے مسئلے حل کرتا - ارے اگلے چناؤ میں جیتنا ہے یا نہیں - - "
اور اس قسم کے کردار ہر جگہ موجود ہیں -پاکستان میں بھی --بھارت میں بھی -اس قسم کے کر داروںسے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے جناب الطاف فیروز اس طرح لکھتے ہیں “پرسکوں گھرے پانیوں سے میں خوفزدہ نہیں تھا مگر مجھے اس ماحول سے نفرت تھی جو بظاہر خود نہایت سکون اور پاکیزگی کا حامل دکھائی دیتا ہے مگر دراصل طوفان اپنے اندر چھپائے ہوتا ہے - --------- وہ جرم کر کےچھپالیتا ہے (منتری کی طرح ) پھر چپکے سے اسے اتھل پانیوں کی جانب اچھال دیتا ہے اور خود بے قسور بن کر ایک طرف ہو جا تا ہے (ص 58 )
--------
اس کتاب میں الطاف فیروز نے منظر نگاری بھی کی ہے اور کامیاب بھی رہے ہیں ہمارے سامنے پوری تصویر آجاتی ہے - - لیکن ایک اچھے افسانہ نگار کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ منظر کشی کے دوران اعتدال سے آگے نہیں بڑھے--یہ نہیں کہ قاری آگے کے واقعات معلوم کر نے کے لئے بے چین ہے اور مصنف اسے مناظر دکھانے پر زور دے رہا ہے - اس حد کو معلوم کرنا ہر ایک کی بس کی بات نہیں لیکن الطاف فیروز نفسیات کی گہرائیوں کو بخوبی
پہچانتے ہیں اس لئے یہ حد پار نہیں کرتے - اس صحیح قسم کی آمیزش سے بار بار ایک کامیاب تخلیق سامنے آتی ہے
منظر کشی کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں
تختوں کی کیلیں اپنی جگہ چھوڑ کر چند سوت اوپر نکلی ہوئی تھیں
فسادی افسانہ اس قسم کی منظر کشی سے بھرا ہوا ہے - افسانہ "ڈکا " کا آغاز ہی ایک منظر کشی سے ہوتا ہے
---------------------------

کچھ پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں جو آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی ہیں لیکن کتاب بذات خود اتنی دلچسپی کے رنگ لئے ہوئے ہے کہ قاری سب کچھ بھلا دیتا ہے
لیکن اس کے باوجود میری پروف ریڈر حضرات سے درخواست ہے کہ اگر وہ اپنے فرائض ذرا توجہ سے ادا کریں تو سب پر ان کا احسان ہو گا - بہت سے طالب علم ان کتابوں سے ہی کچھ سیکھنا چاہتے ہیں اور مناسب نہیں لگتا کہ انہیں غلط رہنمائی ملے - ایسا ہی شکوہ جناب ادریس الیاس اپنے کالم شورش دل میں بعنوان ترجمہ اور مترجم کرتے ہیں کہ بیرون ملک میں چھپی انگریزی کتابوں میں ڈھونڈنے سے بھی ایسی غلطی نہیں ملتی - کبھی کبھی ہی نظر آتی ہے اورہمارے یہاں ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں - قران شریف کے ترجمے مستثنیٰ ہیں -
میں جناب الطاف فیروز کو اس کتاب کی اشاعت پر مبارک پیش کرتا ہوں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 502 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134514 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: