ایک انوکھی خبر

(Muhammad Abdullah, )

خبر ہے کہ سندھ اسمبلی کے ممبران نے پنجاب اسمبلی کے ممبران سے دوستانہ کرکٹ میچ جیت لیا ہے جس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے چوکے اور چھکے لگاتے ہوئے 40 رنز بنائے اور سندھ کے صوبائی وزیر کھیل سردار محمد خان بخش نے سنچری جڑ کر اپنی ٹیم کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ صوبوں کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بڑی خوش آئند پیش رفت ہے مگر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب کاش آپ نے اپنے صوبے کا انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے اور انتظام و انصرام کے معاملے میں بھی پنجاب کا مقابلی کیا ہوتا، کاش آپ نے صفائی ستھرائی کے میدان میں بھی پنجاب سے آگے بڑھتے ہوئے چوکے اور چھکے جڑے ہوتے۔ اندرون سندھ کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم اگر صرف کراچی اور حیدرآباد کی ہی بات کریں تو ہر طرف کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر جابجا دکھائی دیتے ہیں، بیچ چوراہوں میں ابلتے گٹر اور ان میں گرتے شہری سندھ کی انتظامیہ کی نااہلی کا نوحہ کرتے نظر آتے ہیں۔ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے انڈسٹریل سیکٹر کی تباہی کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ بارشوں کے موسم میں سندھ کے یہ دو بڑے شہر تالابوں اور گندے جوہڑوں ، جھیلوں کا منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ میں حیدرآباد اور کراچی کی بات اس لیے کر رہا ہوں کہ اندرون سندھ کے پسماندہ علاقوں کے لوگ انہی دو شہروں کو پیرس اور برمنگھم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اپنے شہروں کی بدترین حالت کو دیکھ کر لگتا ہے آپ ستر اسی سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ نہ کوئی روڈ ہے نہ اسکول، نہ بجلی ہے اور نہ صاف پانی، نہ انڈسٹری ہے اور نہ کوئی کارخانہ اور نہ ہی کوئی شفاخانہ (یہاں ہاسپٹل کا لفظ اس لیے استعمال نہیں کیا کہ شفاخانہ تک میسر نہیں ہاسپلٹز تو غریبوں نے دیکھے تک نہیں ہونگے)۔ آپ لاڑکانہ ،سکھر، دادو، سانگھڑ، خیرپور، تھرپارکر، بدین یا کسی بھی شہر اور اس کے دیہات میں چلے جائیں تو آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہم ہم کہاں آگئے۔ ایسے میں ان علاقوں کا کوئی بندہ زہے نصیب پنجاب میں لاہور، فیصل آباد، ملتان ، پنڈی وغیرہ میں چلا جائے تو مارے حیرت کے دیدے پھاڑے وہ ہر اک چیز کو تک رہا ہوتا ہے کہ آیا یہ ملک پاکستان ہی ہے؟۔ اسی بنیاد پر ہمارے لیڈران بجائے اپنی نااہلی اور کرپشن کو ختم کرکے اپنے صوبے میں کچھ کام کرنے پنجاب اور وفاق پر الزام تراشی کرنا شروع ہو جاتے ہیں اور سادہ لوح سندھی مانووں کو بے وقوف بنا دیتے ہیں کہ دیکھیں جی پنجاب کھا گیا سارا مال، وفاق ہمارے ساتھ زیادتی کرگیا۔ عقل کے اندھو جب تم صوبے کا سارا خزانہ اپنی سیکیورٹی، پروٹوکول اور عیش و عشرت میں صرف کردو اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق صحت، خوراک، تعلیم وغیرہ سے بالکل ہی محروم کردو تو اس میں پنجاب، کےپی کےیا وفاق کا کیا قصور۔ جب تم قانون سازی کو چھوڑ کر کرکٹ کے میدانوں میں جوہر دکھاؤ گے، جب تم انفرا اسٹرکچر پر محنت کرنے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں گھنٹوں اس بات پر بحث کرو کہ کچی شراب کو پکا کیسے کرتے ہیں اور کتوں کی لڑائی پر تم گھنٹوں تلک پارلیمان میں تبصرے کرو(بحوالہ سیلانی) تو پھر وفاق کو دوش کیوں؟

اور سندھ کے بھولے بھالے لوگو ایسے تمہارے مسائل حل نہیں ہونگے، تمہیں ان سرداروں، شاہوں، مرزوں، زرداریوں اور حق کے نام پر باطل پرستوں کی غلامی کے چنگل سے نکل کر صالح اور اہل قیادت کو منتخب کرنا ہوگا تب جاکر سندھ میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا پھر بھلے کرکٹ کے گراؤنڈ بھی آباد کرو مگر شرط یہ ہے کہ سندھ کی عوام تم اپنے ساتھ اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ مخلص ہو جاؤ ۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah

Read More Articles by Muhammad Abdullah: 39 Articles with 20191 views »
Muslim, Pakistani, Student of International Relations, Speaker, Social Worker, First Aid Trainer, Ideological Soldier of Pakistan.. View More
06 Nov, 2017 Views: 279

Comments

آپ کی رائے