چشمہ حیات آب زم زم

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

خلیل اﷲ حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی اور حضرت اسما عیل ؑ کی ماں جب بچے کی پیاس بجھا نے کے لیے پا نی کی تلاش میں آگ برساتے سورج کے نیچے گرم ریت نو کیلی چٹانوں پر دیوانہ وار پسینے میں شرابور دوڑتی ہے ‘ننھا اسماعیل ؑ گرمی اور پیاس کی شدت سے بے چینی بے قراری میں بار بار ایڑیاں زمین پر مارتا ہے تو رب کائنات کا پیما نہ رحمت چھلک پڑتا ہے فرشتے کو حکم دیا جاتاہے کہ جاؤ اور جہاں پر ننھا اسماعیل ؑ ایڑیاں مار رہا ہے وہاں پر اپنا پر مار کر زمین سے پانی کا چشمہ نکال دو اور پھر ننھے اسما عیل کے چاروں طرف ابلتا پا نی دیکھ کر ماں اپنی اور اپنے بیٹے کی پیاس بجھاتی ہے اور پانی کو حکم دیتی ہے زم زم ‘اے پا نی رک جاؤو‘ ہ دن اور آج کا دن تقریبا چار ہزار سال سے زیا دہ کا عرصہ بیت گیا بے قرار ماں کی سعی کے نتیجے میں پھوٹنے والا چشمہ حیات کروڑوں لوگوں کی مردہ رگوں میں حیا ت بخش لہریں دوڑا چکا ہے گردش لیل و نہار اور قافلہ شب و روز کب سے جاری و ساری ہے زمانہ کتنی کروٹیں لے چکا ہے کر ہ ارض بے شمار تبدیلیوں سے گزر چکی ہے زمانے بیت گئے بادشاہ مٹی کا ڈھیر بن گئے ساری سلطنتیں ماضی کے غبا ر میں کھو گئیں لیکن اماں ہاجرہ کی سعی کے نتیجے میں پھو ٹنے والا چشمہ حیات گردش ماہ و سال سے بے نیاز پہلے دن سے آجتک انسانوں کو زندگی بخش رہا ہے انسا نی عقل منکر خدا اور روحانیت کے منکر آج تک اِ س بات پر حیران ہیں کہ مکہ کے چاروں طرف جھلسے ہو ئے پہا ڑ پہاڑوں کے نیچے آگ کے دریا تیل اور گیس کی شکل میں بہہ رہے ہیں بنجر بے آب گیار وادی میں ہزاروں سال سے خالق کائنات کا یہ معجز ہ ملحدوں کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے روزانہ کروڑوں گلاس آب زم زم کے زائرین کے معدوں میں جاتے ہیں سعودی گورنمنٹ نے طاقتور پمپ لگا کر بہت زیا دہ مقدار میں پانی نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے لیکن یہ چشمہ حیات بند یا کم ہو نے کا نام نہیں لیتا یہ سلسلہ جا ریو ساری ہے یہ سلسلہ چند دنوں مہینوں سالوں یا صدیوں کی با ت نہیں ہزاروں سالوں سے مکہ کی سر زمین سے ابلتا یہ چشمہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہر سال لاکھوں دیوانوں کی پیاس بجھا رہا ہے حرم شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں کئی مقا مات پر گرم اور ٹھنڈے کو لروں میں آب زم زم وافر مقدار میں رکھا جاتا ہے حرم شریف میں کئی مقامات پر واٹر ٹینکس لگے ہو ئے ہیں پانی کی مسلسل فراہمی کے لیے سینکڑوں ورکر اِس کام پر لگے ہو ئے ہیں وہ پا نی کو کم نہیں ہو نے دیتے کو لروں میں پا نی ختم ہو نے سے پہلے ہی وہ اُن کو بھر یا تبدیل کر دیتے ہیں استعمال شدہ گلاس اٹھاکر اُن کی جگہ نئے گلاس رکھ دئیے جا تے ہیں دنیا بھر سے آئے ہو ئے لاکھوں دیوانے حرم اور مسجد نبوی ﷺ میں آب زم زم کے جام پر جام لنڈھاتے ہی ہیں وہ بو تلیں بھر کر اپنے ہوٹلوں میں بھی لے جاتے ہیں اسطرح دیوانے دن رات دنیا کے شیرین صحت بخش پا نی سے لطف اٹھاتے ہیں اور پھر یہ لاکھوں لو گ اپنے گھروں کو جاتے ہو ئے بھی زیا دہ سارا آب زم زم ساتھ لے جا تے ہیں بلا شبہ یہ دنیا کا بہترین پا نی ہے دیوانے خوب پیتے ہیں اپنے جسم پر ڈالتے ہیں جسم کے روئیں روئیں کو اِ س آب حیات سے بھگو تے ہیں یہ آب رحمت سے اماں ہاجرہ کی سعی کی ادا خالق کائنات کو اِس طرح بھا ئی کہ امت محمدی ﷺ کو بہترین تحفہ عطا کر دیا منکرین خدا اور اسلام کے دشمنوں نے آب زم زم کے بے شمار ٹیسٹ کئے گھنٹوں لیبارٹریوں میں تجربات سے گزارا دن رات ٹامک ٹو ئیاں ما ریں نقص کیڑے نکا لنے کی پو ری کوشش کی لیکن ہر بار آخر میں بے ساختہ منہ سے یہی نکلا کہ یہ دنیا کا بہترین پانی ہے اس جیسا پا نی پو رے کرہ ارض پر کہیں بھی مو جود نہیں ہے اِس پا نی کا ہر قطرہ حیات بخش تا ثیر کا حامل ہے یہ پارس ہے جو لو ہے سے مل کر اُسے بھی سونے میں ڈھا ل دیتا ہے اِسی طرح آب زم زم کوعام پا نی میں ملا دیں تو اُس کی تا ثیر بھی آب زم زم میں بدل جا تی ہے منکر خدا بھی پکا ر اُٹھتا ہے یہ خاص ہے اِس کا متبا دل کو ئی نہیں ہے انسانی سوچ حیر ت میں ڈوب جا تی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہزاروں سالوں سے کروڑوں انسان دن رات اِس چشمہ حیات سے سیراب ہو رہے ہیں لیکن نہ یہ ختم نہ ہی کم ہو رہا ہے دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر آپ زمین سے پا نی نکا لتے ہیں تو چند سالوں بعد ہی وہ پا نی ختم ہو جا تا ہے آپ کو دوبارہ نئی جگہ سے پا نی نکا لنا پڑتا ہے لیکن معجزہ خدا دیکھیں کہ چشمہ حیات پہلے دن کی طرح اُبل رہا ہے نہ اُس کی رفتا ر اور نہ ہی ذائقے میں کمی آئی آجکل دنیا جہاں میں منرل واٹر کا رحجان آگیا ہے دنیا جہاں کی واٹر کمپنیاں جدید مہنگے ترین یو نٹ لگا کر پا نی صاف اور پینے کے قابل کر تی ہیں لیکن حرم شریف کے نیچے خدا کی عظیم کا ریگری نظر آتی ہے جب فطری طو ر پر پانی اُبل رہا ہے اور دنیا کا بہترین پانی ہے خطہ عرب تیل دھویں گیس کے ذخا ئر سے بھرا ہوا ہے اِن کے درمیان کر ہ ارض کا بہترین پانی یہ صرف اور صرف خدا کی قدرت ہے جیسے دیکھ کر جبیں سجدے میں گر جاتی ہے دنیا جہاں کے ڈاکٹر اور ما ہرین آب زم زم پر بے شما ر تجربے کر نے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اِس پا نی میں بیما ریوں کے خلا ف لڑنے کی قدرتی صلا حیت مو جود ہے اب ما ہرین مختلف بیما ریوں کے خلا ف تجربات کر رہے دنیا کے کسی بھی ملک میں جب لو گ سیر کر نے کے لیے جا تے ہیں تو سب سے پہلا مسئلہ پیٹ کی خرا بی کا درپیش ہو تا ہے لیکن مکہ آنے والے قافلے اِس مرض کے قریب بھی نہیں پھٹکتے بلکہ یہاں آکر شفا کی دولت لے کر جاتے ہیں بینا ئی کے لیے یقینا یہ تحفہ خا ص ہے آپ کسی دن صبح نہا ر منہ ایک گھو نٹ آب زم زم جیسے ہی حلق سے اتا رتے ہیں تو آنکھوں کی بینا ئی میں چمک آجا تی ہے فالج مر گی کے مریض بھیاس سے افاقہ محسوس کر تے ہیں میں ذاتی طور پر بھی ہمیشہ اِسے مفید پا تا ہوں جب بھی جانے کی سعادت نصیب ہو تی ہے خوب لبریز ہوکرپیتا ہوں جس سے صحت ٹھیک رہتی ہے حرم شریف میں آب زم زم کے بے شما ر معجزے پھیلے ہو ئے ہیں کہ کسی کے پرا نے زخم ٹھیک ہو گئے تو نا بینا بینا ئی کی دولت سے سرفراز ہو گیا کسی کا بخا ر کم ہوگیا‘ لا علا ج مریض آخری کو شش کے طور پر یہاں آئے خو ب آب زم زم پیا جسم پر لگا یا اور پھر لوگوں نے کرامت دیکھی کہ شفا اُس کا مقدر بنی دشمنان اسلام اور منکرین خدا بھی ہزاروں سالوں سے جا ری و ساری اِس چشمہ حیات کی کرامت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔کہ کو ئی ایسی پراسرا قوت ہے کہ حیات بخش پا نی کا چشمہ ختم ہو نے کو ہی نہیں آرہا بلکہ پہلے دن کی طرح جاری و ساری ہے رشک آتا ہے مکہ مدینہ کے با سیوں پر جو یہ دنیا کی انمول نعمت سے مفت فیض یاب ہو رہے ہیں جن کے مقدر میں آب زم زم لکھ دیا گیا ہے جو دن رات مزے لے لے کر اِس نعمت سے لطف اندوز ہو تے ہیں جیسے ہی آب حیا ت آپ کے حلق سے اترتا ہے تو رگوں میں سرور نشہ دوڑتا محسوس ہو تا ہے بلا شبہ یہ آب حیات ہے آب رحمت اور آب شفا ء ہے آپ جس نیت سے بھی پئیں گے بفضل خدا پوری ہو گی ۔ بقول شاعر
مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا
جام زم زم کا پلا یا میں تو اِس قابل نہ تھا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 564 Articles with 286408 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 451

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ