سموگ کے نقصان دہ اثرات سے کیسے بچا جائے؟

(Ishrat Javed, )

آج کل اگر آپ صبح جلدی گھر سے نکلیں توہر طرف دھند کے چھائے بادل آپ کا استقبال کریں گے، گھنے درخت،بلند وبالا عمارتیں حتی کہ سڑک پہ موجود گاڑیاں بھی دھندلی دکھائی دیتی ہیں ،مگرکتنی حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود سردی نہیں لگتی ۔یہ سلسلہ ا کتوبر سے نومبر تک چلے گا۔گزشتہ سال تو جب لوگوں نے اسے دیکھا تو دھند ہی سمجھامگر اب لوگ جانتے ہیں کہ یہ دھند نہیں بلکہ’’سموگ‘‘ ہے۔سموگ کی وجہ سے گزشتہ سال کافی شہری بیمارر رہے خصوصاً طلباء طالبات اور موٹر سائیکل سوار اس سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔شہریوں کو بیمار کرنے والی سموگ ایک بار پھر لاہور میں حملہ کرنے کو تیار ہے ابھی اس کے آثار کم کم ہیں یعنی صرف صبح کے وقت ہی یہ نمایاں طور پر اپنا اثر دکھا رہی ہے مگرخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عنقریب اس میں اضافہ ہونے کے قوی امکان ہیں۔ کیونکہ بارش کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ محکمہ تحفظ ماحولیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ریڈ الرٹ جاری کردیاہے۔سموگ میں اضافے کی اہم وجہ فضائی آلودگی اورصنعتی خروج ہیں ،موسم سرما کے مہینوں میں تاخیر،بارش میں کمی ،سردی اورمسلسل خشک حالات ماحول میں موجودتمام آلودگیوں کواکٹھا کرتے ہیں جو کہ سموگ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یہ ایک مسئلہ ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضروت ہے کیونکہ اب ایشیاء کے سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے شہروں میں لاہور کا شمار بھی ہوتا ہے۔محکمہ تحفظ ماحولیات کے کمیشن کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن نے ’’سموگ‘‘ سے نمٹنے کا منصوبہ بنا لیاہے اور اس بار نتائج بہتر ہونگے۔ گزشتہ ہفتے اس سلسلے میں محکمہ تحفظ ماحولیات کے دفتر میں ایک اجلاس بھی ہوا ،جس میں صوبائی وزیر ماحولیات ذکیہ شاہنواز، سٹی ٹریفک پولیس، محکمہ زراعت، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ موسمیات کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہاکہ گزشتہ سال موسم سرما کی آمد پر ہونے والی سموگ کے پیش نظراس بار مثبت اور بہتر حکمت عملی اختیارکی جارہی ہے ہمارے پاس اس وقت ائیر مانیٹرنگ کے 6اسٹیشنز مکمل طور پر آپریشنل ہیں جو فضا ء میں پید اہونے والی آلودگی کے پارٹیکلز کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں، ماحولیاتی اسٹیشنز کی ریڈنگ سے ہی سکولوں کے بند ہونے کا تعین کیاجائے گا اور بروقت معلومات محکمہ تعلیم کودی جائیں گی ۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی بھارت اپنے مختلف علاقوں یوپی،انبالہ اورامرتسروغیرہ میں چاول کی باقی ماندہ فصلوں کو آگ لگائے ہوئے ہے ہواکا رخ سازگار ہونے کی بنا پر ابھی تک پاکستان اس کی زدسے بچا ہواہے لیکن ہم نے قبل از وقت ہی تما م متعلقہ اداروں کو سموگ کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔سٹی ٹریفک پولیس دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف ایکشن لیں، محکمہ زراعت کسانوں میں فصلوں کو کٹائی کے بعد آگ لگانے سے متعلق آگاہی پیدا کرے، ناکارہ فضلے کو آگ لگانے کے بجائے متبادل سدباب کیاجائے کیونکہ قبل ازوقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے سموگ سے بچا جاسکتا ہے۔ہوم ڈیپارٹمنٹ تمام اضلاع میں کوڑے کو آگ لگانے والے کے خلاف دفعہ 144سے متعلق احکامات جاری کرے تاکہ دوران سمو گ کہیں بھی کوڑے کو آگ لگانے سے شہری باز رہیں تمام محکمے اپنے اپنے اصول و ضوابط کے تحت اپنے اپنے فرائض انجام دیں محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے لاہور اور گردو نواح میں فضائی آلودگی کا موجب بننے والے صنعتی یونٹس اوررات کوغیر معیاری ایندھن استعمال کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے تاکہ انہیں کاربن کے اخراج سے باز رکھاجائے۔ اینٹوں کے بھٹوں کے مالکان کے ساتھ مشاورت کاعمل جاری ہے جلد از جلد ہمیں پنجاب میں ماڈرن ٹیکنالوجی پر مبنی ماحول دوست بھٹے نظر آئیں گے۔‘‘یہی وجہ ہے ٹریفک حکام شہریوں کو ہیلمنٹ پہننے اور منہ لپیٹنے کے احکامات جاری کر رہے ہیں کیونکہ سموگ کے باعث چھاتی اور سینے کے امراض جنم لے رہے ہیں۔
’’سموگ‘‘ در اصل گرد،دفوگ(دھند) اورسموک(دھوئیں) کا ملغوبہ ہے۔جو فضائی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے۔اگر ہم دھند کی بات کریں تودھند موسم کے باعث ہوتی ہے اور اس کے اندر کسی قسم کے کیمیکلز اور گیسیں نہیں ہوتی جو انسانی صحت کو نقصان پہنچائیں۔مگر جیسے ہی فضا میں کیمیکلز ،دھواں اورگیسیں شامل ہوتی ہیں وہ فضا کو اس حد تک گرد آلود کردیتی ہیں جو دیکھنے میں دھند نظر آتی ہے مگر اس کے انسانی صحت پر بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سموگ کے ہونے میں دوعوامل کار فرما ہیں۔بارش کا نہ ہونا بھی سموگ بننے کی ایک اہم وجہ ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نا ممکن ہے کہ پچھلے مہینے (ستمبر)اور رواں مہینے (اکتوبر) میں ابھی تک بارش نہیں ہو ئی اور ماہرین کے مطابق آنے والے مہینے(نومبر) میں بھی بارش کا کوئی خاص امکان نظر نہیں آ رہا۔جو خطرہ کی گھنٹی بجا رہا ہے۔سموگ پھیپھٹروں ،دل کے مریضوں،بچوں ارور بزرگوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

سموگ ہونے کا قدرتی عمل توصرف ایک ہے جبکہ غیر قدرتی عوامل بہت سے ہیں۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے فضائی آلودگی مقررہ حد سے بڑھ گئی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے مگر اس کٹائی کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس کی وجہ سے لاہور سموگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں اس وقت بہت بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبے شروع ہیں جن کی وجہ سے گردو غبار اڑتا ہے نیزمیٹرو اورنج ٹرین کے بعد سیف سٹی پروگرام کے تحت کیبل بچھانے کے لئے پورا شہر کھود دیا گیا ہے اور مٹی کو یوں ہی رہنے دیا گیا جو سوکھ کر گرد بن گئی ا ور غبار کی صورت میں فضا میں گھل گئی ہے اور یہی گردو غبارسموگ کی ایک اہم وجہ ہے۔ جہاں تک دھوئیں کا تعلق ہے توشہروں میں ایسی فیکٹریوں کی بڑی تعداد ہے جن سے دھواں خارج ہوتا ہے، شہریوں،محکموں اور حکام کی ناک کے نیچے روزانہ کوڑا، درختوں کی ٹہنیاں اور سوکھے پتے جلائے جاتے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ کام عملہ صفائی اور مالیوں کے علاوہ بعض وہ لوگ بھی کرتے ہیں جنہوں نے بھینس اور بکریاں پال رکھی ہیں۔ اسی طرح جھگی نشین بھی ٹائر جلاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں چاول کی فصل کی کٹائی کے بعد کاشتکار جڑوں(مونڈ) کو آگ لگارہے ہیں جو اس آلودگی کا باعث بن رہا ہے یہ عمل کئی برسوں سے جاری ہے۔رہی سہی کسر دھواں اڑاتی گاڑیاں پوری کر دییی ہیں،یہ سب عوامل مل کر سموگ پیدا کرتے ہیں۔ مختصرا دھند کا رومانوی تصور سموگ میں دھندلا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی متعلقہ محکمے اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ ضلعی انتظامیہ اور پی۔ ایچ۔ اے خاموش تماشائی ہیں۔

سموگ کی اصطلاح سب سے پہلے لندن میں 1900میں استعمال ہوئی۔آج دنیا بھر میں سموگ بڑھ رہی ہے، یہ ایشیائی ملکوں کا زیادہ تر سنگین مسئلہ بیان کیا جاتا ہے حالانکہ یہ پوری دنیا کا روگ بن چکی ہے۔دیکھا جائے تو دنیا بھر میں آلودگی ختم کرنے کے لئے کاغذی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے آلودگی کے زہریلے عناصر ہوا کی نمی میں شامل ہوجاتے ہیں اور آکسیجن کا لیول کم ہوجاتا ہے۔آکسیجن کے کم ہونے کی ایک بنیادی وجہ درختوں کی کاشت نہ کرنا اور درختوں کی کٹائی ہے۔ہوا میں زہریلی گیسوں کے ملاپ کی وجہ سے جہاں تازہ آکسیجن مفقود ہوجاتی ہے وہاں جب بارش ہوتی ہے تو یہ سموگ فصلوں کی کاشت کے علاوہ انسانوں کے لئے غیر متوقع بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔لہذا ہر ملک کو آنے والے وقت میں سموگ سے بچنے کی تدابیر کرنی ہوگی۔ان تدابیر اور احتیاط پر سب سے پہلے عمل ہوجانا چاہئے تھا کیونکہ سموگ اچانک پیدا نہیں ہوئی۔1952 میں لندن میں سموگ پیدا ہوئی تو اس نے دنیا میں آلارم بجادئیے تھے۔اس وقت لندن دنیا کا ترقی یافتہ شہر تھا جہاں ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر دھواں چھوڑتی تھیں اور فیکٹریوں کا دھواں عام تھا۔ اب یہ عالم ہے کہ امریکہ کے دس بڑے شہروں میں سموگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اگرچہ اکثر ممالک میں فضائی آلودگی کو مانیٹر کرنے کے لیے آن لائن ’’ائیر کوالٹی انڈیکس میپ‘‘کا سہارا لیا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے علاقے میں فضاء کیسی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے کئی دہائیوں سے امریکہ،چین سعودی عرب ایران،انڈیا،پاکستان،مصر ،روس سمیت کئی ملکوں کوٹریفک اورفیکٹریوں کی وجہ سے ایسے ممالک میں شامل کررکھا ہے جہاں سموگ کی مقدار بڑھ چکی ہے۔پاکستان کے چار بڑے شہرکراچی،لاہور،کوئٹہ اورپشاورمیں غیر معمولی طور پر سموگ کی مقدار کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہوچکا ہے۔اس بارے میں حکومت کو دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو بند کردینا چاہئے اور عوام کو بھی اپنا طرز زندگی بدلنا چاہئے۔ یہ آلودگی بھی بارش کے باعث ہی ختم ہوگی۔ فضائی آلودگی میں اضافہ شہر میں گاڑیوں کی آلودگی ،زیر تعمیر منصوبوں اور موسم میں تبدیلی کی وجہ اضافہ ہواہے۔اصل میں سب سے زیادہ کردار آلودگی کو بڑھانے میں گرم موسم نے ادا کیاہے۔

سموگ کس حد تک خطرنا ک ہے؟سموگ کے کیمیائی اجزا اپنی آزادانہ حیثیت میں بھی خطرناک ہوتے ہیں لیکن باہم ملنے کے بعد زہریلے ہو جاتے ہیں، سموگ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پودوں اور فطرت کی ہر چیز کو نقصان پہنچاتی ہے چین میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں افراد سموگ کی وجہ سے جان ہار بیٹھتے ہیں، وہاں 17 فیصد اموات سموگ کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔پاکستان، بھارت، چین اور تائیوان سب سے زیادہ سموگ سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوتے ہیں۔گزشتہ سا ل سموگ سے تہران میں صرف23 دنوں میں 412 افرادنے موت کو گلے لگایا۔ ہلاک ہونے والے سانس کی بیماریوں اور ٹریفک حادثات کا شکار ہوئے،جبکہ 1 کروڑ 40 لاکھ افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ گزشتہ سال چینی دارالحکومت بیجنگ میں گرد آلود ہواؤں اور سموگ الرٹ کے درجہ میں اضافہ سے اس شہر کو اورنج الرٹ کر دیا تھا جو کہ سب سے زیادہ یعنی ریڈالرٹ کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔نئی دہلی میں ہر سال زہریلی ہوا سے 10 سے 30 ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں جبکہ شہر کے 44 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کے پھیپھڑے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو چکے ہیں۔اسی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ سال سموگ سے شہری سانس،گلے کی تکلیف ،نمونیا اور دمے میں مبتلا ہو کر اسپتالوں میں پہنچے تھے۔ لاہور کے اسپتالوں میں1200سے زائد مریض پہنچے، جناح اسپتال میں 130 بچے اور 30 بزرگ شہری ایمرجنسی لائے گئے۔اس کے علاوہ سموگ کی وجہ سے بیشتر ٹریفک حادثات رونما ہوئے جس کے باعث موٹروے پر متعدد حادثات میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔

ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات نسیم الرحمن شاہ کے مطابق پچھلے سال کی طرح اس سال بھی سموگ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں حملہ آور ہونے کو تیار ہے ،اسی لیے محکمہ تحفظ ماحولیات نے اس سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔اس سلسلے میں منسٹر ذکیہ شاہ نواز روزانہ کی بنیاد پر میٹنگ کر رہی ہیں اور محکموں کو جاری کردہ احکامات کو چیک کر رہی ہیں۔سموگ دراصل گرد اور آلودہ مادوں پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے یہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اردگرد کے ماحول کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ سموگ کی بہت سی وجوہات ہیں ۔اصل میں فیکٹریوں سے خارج ہونے والا دھواں اور مٹی لاہور میں فضائی آلودگی کا سبب ہے، اور ضروری ہے کہ لاہور کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر حصوں میں بھی ماحولیاتی قوانین کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔ لاہور کے شمالی حصے میں تقریباً 300 اسٹیل ملز موجود ہیں، بٹاپور تک موجود ان فیکٹریوں میں فیول کے طور پر کچرے اور استعمال شدہ ٹائرز کو استعمال کیا جاتا ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والی تیزی کے ساتھ صنعت کاری اور مختلف اقسام کی گاڑیوں یا ٹریفک میں ہونے والے اضافے نے اس مسئلے کو اور بڑھادیا ہے۔اس لیے اس سال سموگ سے نمٹنے کے لیے سیکرٹری ہوم کے تعاون سے دفعہ 144نافذ کر دی ہے جس میں محکمہ زراعت اور ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،ان کی ڈیوٹی یہ ہو گی کی جہاں کہیں بھی کو ئی فصلوں کی کٹائی کے بعد باقی ماندہ مواد کو یا کوڑے کو آ گ لگائے گا تو ابتدائی طور پر پہلے ان کو اس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے گا اور ان کو روکا جائے گا اور اگر کوئی متشدد رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔اس کے علاوہ دھواں خارج کرنے والے بھٹوں اور کارخانوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا نیز سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور چنگ چی رکشہ چلانے والوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

انسانی صحت پر اثرات
سموگ میں زیادہ وقت گزارنے سے مختلف جز وقتی طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں صرف چند گھنٹوں میں ہی سموگ آپ کے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر جلن پیدا کر سکتی ہے، تاہم اگر جلن نہ بھی ہو تو یہ آپ کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے سموگ میں سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے، خاص کر گہری سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے اگر آپ دمہ کے مریض ہیں تو سموگ میں جانا آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔بعض اوقات گہری سموگ میں زہریلے مادے آنکھوں میں جلن اور چبھن پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو سکتی ہیں اور آنسو بہہ سکتے ہیں۔سموگ سے زیادہ منفی اثرات بچوں اور جوانوں پر پڑتے ہیں تاہم یہ کسی نہ کسی درجے میں تمام عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے اس صورتحال میں سب سے زیادہ چھوٹے بچے ، کھلے مقامات پر کام کرنیوالے لوگ، حاملہ خواتین اور سانس کی بیماری میں مبتلا مریض متاثر ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر
ماہرین نے عوام کو اس تمام صورتحال میں خبردار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی ہے کہ اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بندرکھیں۔ جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کیا جائے۔ خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں۔ ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔ ماسک پہن کر گھروں سے نکلیں،پنکھے نہ چلائیں۔سیکریٹری صحت ڈاکٹر مسعود کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کیلئے آنکھوں میں پانی کے چھینٹے ماریں، اسموگ کے باعث الرجی اور آنکھ، ناک سے پانی جاری ہوسکتا ہے، آنکھوں کو صاف کرنے کیلئے ڈراپس بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔سرجیکل یا دیگر اقسام کے فیس ماسک استعمال کریں۔کانٹیکٹ لینسز نکال دیں اور عینک استعمال کریں۔سگریٹ نوشی نہ کریں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم کر دیں۔پانی اور گرم چائے کا زیادہ استعمال کریں۔باقاعدگی کے ساتھ ناک صاف کریں۔باہر سے گھر لوٹنے پر ہر بار اپنے ہاتھ ، چہرہ اور جسم کے دیگر کھلے حصوں کو دھو لیں۔بلا ضرورت باہر جانے سے گریز کریں۔گھر میں موجود ہوا دانوں، کھڑکیوں اور دیگر کھلے حصوں کو ماسکنگ ٹیپ کے ساتھ بند کردیں یا پھر انہیں گیلے تولیے یا کسی کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دیں۔ہوا صاف کرنے والے ایئر پیوریفائرز کا استعمال کریں۔گھر سے باہر ہیں تواگر دھند کے باعث آپ کوکچھ بھی نظر نہیں آ رہا ہو تو سڑک پر قطعی طور پر کھڑے نہ ہوں، بلکہ ٹریفک سے فاصلے پر ایک سائیڈ پر گاڑی کو کھڑا کر دیں۔آہستہ ڈرائیونگ کریں۔فوگ لائٹ کا استعمال کریں۔گاڑی چلاتے وقت ہائی بیم لائٹس (تیز چمک والی روشنی) استعمال نہ کریں۔رش والے علاقوں، خاص طور پر جہاں زیادہ تر ٹریفک جام رہتا ہے ،میں جانے سے گریز کریں۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق 2010تک انٹرنیشنل لیول پر سانس کی بیماریاں سے اموات کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی تھی اور خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آنے والے 2020 تک فضائی آلودی کی بنا پر یہ تیسری بڑی وجہ بن جائے گی لیکن حالات اس قدر کشیدہ صورتحال اختیار کر چکے ہیں کہ 2020آنے سے قبل ہی یہ سانس کی بیماریوں سے تیسری بڑی وجہ بن چکی ہے۔جہاں تک سموگ کی بات ہے تو سانس کی بیماریوں کی وجہ سے سموگ دو طرح سے اثرات مرتب کر رہے ہیں ایک فوری اثرات ہیں تو دوسرا دیر پا اثرات ۔فوری اثرات اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ سموگ میں سلفر ڈائی آ کسائیڈ اور گیسوں کی موجودگی سے آنکھوں میں جلن ہوتی ہے ،ا سکے علاوہ جلدی امراض بھی لاحق ہوتے ہیں ۔نیز خشک کھانسی اور سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔لیکن دیر پا اثرات بہت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ اس کے اندر موجود خطرناک کیمیکلز اور گیسوں سے پھیپھٹروں کا کینسر اور سانس کی نالی سکڑنے کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے اس کے علاوہ کچھ لوگ سگریٹ پیتے ہیں اس لیے بھی ان کو سانس کی بیماری ہو رہی ہے لیکن جو لوگ سگریٹ بھی نہیں پیتے وہ بھی اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں ۔تو اس کی بڑی وجہ سموگ ہی ہے ۔سموگ کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور انفرادی سطحوں پر بھی کام کرنا ہو گا۔ جہاں تک انفرادی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہیے کہ جب بھی گھر سے نکلیں تو منہ پر ماسک چڑھائیں ،پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور بار بار اپنی آنکھوں کو پانی سے دھوئیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51587 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 891

Comments

آپ کی رائے