سموگ کیا ؟کہاں؟کیوں ؟کیسے؟

(Rashid Sudias, )

گزشتہ ہفتے مجھے نجی مصروفیت کی وجہ سے لاہور جانا پڑ ا جوں جوں لاہور قریب آرہاتھا سموگ کے اثرات دکھائی دے رہے تھے میرے ساتھ بیٹھے دوست نے کہا یہ عجیب طرح کی فوگ ہے میں اس پر خاموش رہا ،ہال روڈ پہنچ کر گاڑی پارک کی اورپیدل چلتے ہوئے اپنے دوست کے پاس پہنچے آنکھوں میں جلن سے پانی آنے لگا اورگلے میں خارش ہونے لگی میرے دوست نے دوبارہ وہ ہی سوال دہرایا یہ عجیب فوگ ہے اس میں نہ سردی ہے اورنہ یخ بستہ ٹھنڈی ہوا البتہ سانس لینا محال ہورہا ہے ۔۔۔خیر گھر پہنچے اتفاق سے وہاں بھی فوگ اورسموگ پر بحث جاری تھی مجھے اس پر گفتگوکرنے کا موقع ملا جوقارئین کے لیے رقم کررہا ہوں۔فوگ کیسے بنتی ہے؟ ٹھنڈی ہوا زیادہ درجہ حرارت رکھنے والی زمین یا پانی سے ٹکراتی ہے تو فوگ پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین اور ہوا میں درجہ حرارت کا فرق ہوتا ہے۔ عام طور پر فوگ سردیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ہوا میں نمی زیادہ ہو اور گرم پانی سے اٹھنے والے بخارات کی تعداد زیادہ ہو تو فوگ پیدا ہوتی ہے فوگ سے ٹریفک حادثات ہوتے ہیں مگر بیماری پھوٹنے کے چانس کم رہتے ہیں

سموگ فضا ء میں زہر آلود کثافتوں کا مجموعہ ہے کارخانوں ،گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں فضا میں جمع ہوتاہے اس دھوئیں میں زہریلی گیسیں گردوغبار ودیگر کثافتیں جمع ہوتی رہتی ہیں اِس دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب یہ تمام اجزا باہم مل جاتے ہیں تو سموگ پیدا ہوتی ہے جو بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے جونہی سرد موسم زور پکڑتا ہے تو یہ کثافتیں فوگ کی صورت اختیار کرلیتی ہیں جنہیں سموگ کا نام دیا گیا ہے سموگ میں ٹریفک حادثات کے ساتھ آنکھوں اورپھیپھڑوں کے امراض جنم لیتے ہیں اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو اس کے انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سموگ کے اثرات سے بچاجاسکتا ہے گھر سے نکلتے وقت ماسک پہناجائے بغیر ضرورت باہر رہنے سے پرہیز کیا جائے گھر اورسکولوں کی کھڑکیاں دروازے پنکھے بندرکھے جائیں زمین پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے ریاست مصنوعی بارش برسا کر اس پر خاطرخواہ کنٹرول کرسکتی ہے سموگ سے لاہور ہی متاثر نہیں ہے بلکہ دنیا کے متعدد شہر اس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سرفہرست چین کا شہر بیجینگ ایران کا احواز بھارت کا نئی دہلی ،منگولیہ کادارالحکومت اولان اورباتور کودوسرے نمبر پر سموگ کے اعتبارسے بدترین قرار دیا جاچکاہے سعودی عرب کا دارلحکومت ریاض ،مصرکا قاہرہ ،بنگلہ دیش میں ڈھاکہ ،ماسکو اورمیکسیکو کو سموگ سے متاثرہ شہر ہیں سموگ پھیلنے کی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے جس پر افراد اورریاست اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا نہیں کرتے اوریہ مرض بڑھتا جارہا ہے اگر خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات بہت بھیانک ہوسکتے ہیں ارضِ پاک میں تو سموگ نے بجلی کا نظام تہس نہس کردیا ہے لوگوں کے معمولاتِ زندگی بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں مسافروں کو صعبوتیں برداشت کرنا پڑرہی ہیں اورحکمران لندن میں پانامہ انجکشن سے پہنچنے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر گفت وشنید کررہے ہیں درد اس قدر سنگین ہے کہ مشیران دودھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں دونوں مختلف تدابیرتجویز کررہے ہیں کون سی تدبیر پر عمل ہوگا اس کا فیصلہ جلد سامنے آجائے گا۔سموگ ماحولیات آلودگی کا ساخشانہ ہے اورماحول کو آلود ہ حیونات نباتات یاجمادات نہیں کرتے بلکہ انسان کرتے ہیں ،درختوں اورجنگلات کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پر خاطر خواہ قابو پایاجاسکتاہے مگر افسوس سے ہمارے ہاں درخت لگانے والا اکادکا اورکاٹنے والے ہزاروں ہیں جہاں لگانے اوراکھاڑنے والوں کے درمیان اتنابڑافرق موجود ہو وہاں ماحول کیسے آلودگی اورسموگ سے محفوظ رہ سکتاہے ۔ ہم سب جانتے ہیں درخت جتنے زیادہ ہوں گے اتنی ہی آب وہوا صاف شفاف ہوگی اورفضائی آلودگی کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا ماہرین برملا درختوں کی اہمیت کا اعتراف کررہے ہیں ،ماہرین کی رائے اپنی جگہ یہاں تو درخت کاٹ کاٹ کر پیسے بٹورے جارہے ہیں ،پیسے کے حریص نااہل منتظمین اپنی نگرانی میں ماحول دوست درختوں کا صفایا کروارہے ہیں آبادی بڑھ رہی ہے اوردرخت کم ہورہے ہیں کشادہ سڑکوں کی تعمیر ات کی وجہ سے درختوں کی کٹائی کی جارہی ہے یہ سلسلہ ہر شہر میں جاری وساری ہے حلانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جدید آلاتِ مشینری کے ذریعے ان درختوں کو اک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ منتقل کردیا جاتا مگر زر کی حریصوں کو ماحول اورانسانوں سے کیا دلچسپی ہے ان کے لیے تو سب کچھ پیسہ ہے یہ اس کے لیے جیتے ہیں اور اس کے لیے مرتے ہیں ۔۔۔عوامی مفادات کیا ہوتے ہیں ۔۔۔یہ تویہ بھی نہیں جانتے کہ یہ ان پر واجب بھی ہیں یا کہ نہیں ،ووٹ بٹورنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کی خدمت ایساقرض ہے جو ان پر فرض ہی نہیں ہے اس لیے یہ اپنی تمام ترتوانائیاں اپنی ذات اہل وعیال اورعزیز واقارب پر صرف کرتے ہیں سوئس بنک ،لندن دبئی پراپرٹی اس کی امثال ہیں ۔۔۔جاری ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Sudias

Read More Articles by Rashid Sudias: 56 Articles with 36516 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Nov, 2017 Views: 783

Comments

آپ کی رائے