اسلامی ممالک اسلحے کی دوڑ میں

(Sana Ghori, Karachi)

آپ حقائق سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں تو شوق سے کیجئے لیکن آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس وقت ساری دنیامیں غیر مسلم ریاستوں کے بنسبت مسلم ممالک ہی اسلحہ کی دوڑ میں صفِ اول میں شامل ہیں۔پاکستان نیوکلیر پاور بن چکا ہے۔ایران منصوبے پر عمل کررہا ہے۔اور اب اس دوڑ میں سعودیہ عرب بھی شامل ہو چکا ہے جی ہاں سعودی عرب نے سولہ ایٹمی پاور پلانٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور آئیندہ نو سالوں میں ایک سو ارب ڈالر کی لاگت سے بنائے جانے والے جوہری پلانٹس سے توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔اور یوں مشرق وسطی کو ایٹمی اسلحہ سے پاک رکھنا ناممکن ہوجائیگا ۔سعودی عرب کاایٹمی پروگرام ڈھکے چھپے لفظوں میں سامنے آتا رہا لیکن اب اس کا باقاعدہ اعلان اُس وقت کیا جارہا ہے جب سعودی عرب کو اس بات کا احساس ہوا کے ایران کے ایٹمی پروگرام کو عالمی سطح پر قبولیت کی سند مل چکی ہے ۔ایران مغربی ممالک سے تجارت کے ذریعے اپنی جوہری ٹیکنالونی کو ترقی دینے میں مصروف ہے۔دوہزار پندرہ میں ایران چھ عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ جسے جوائن کمپری ہنسوپلان اُف ایکشن (JCPOA)بھی کہتے ہیں دستخط کرتا ہے۔اس معاہدے کی روسے جو کہ سن دوہزارہؤپچیس میں ختم ہوگا ایران کو مزائل کی تیاری اور مشرقِ وسطیـ میں شورش بڑھانے کی اجازت مل جاتی ہے۔اب ظاہر ہے ایسے حالات میں سعودی حکومت کا نیوکلیر پاور بننے کا اعلان ہونا ہی تھا ۔سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے طور پر خطے میں اسلحہ کی دوڑ اور یورنیم کی پیداور میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

لبنان،غزہ اور شام کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ شام کی بات کی جائے تو سعودی عرب اور ایران کے علاوہ امریکہ ،روس اور ترکی اس مسئلہ میں فریق کی حثیت رکھتے ہیں۔اہم ترین مسئلہ جو سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کے سامنے لاکر کھڑا کرتا ہے وہ یمن کا ہے۔سعوری عرب کا ہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت اور مدد کررہا ہے اور یمن میں قیام ِامن کی کوشیشوں کو نقصان پہچا رہا ہے۔ایران خطے میں اپنا جارحانہ انداز قائم کیے ہوئے ہے۔ایران افٖغانستان میں ان گرہوں کی مدد بھی کررہا ہے جو طالبان کے خلاف کام کررہے ہیں۔یہ ایران ہی ہے جس نے عراق جنگ میں امریکا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور یہ حقیقت کس سے پوشیدہ ہے کہ ایران شام میں اہل سنت کے قتلِ عام میں بشار الاسد کا ساتھ دے رہا ہے۔کبھی ایران کی امریکہ دوستی نے ایران کو جوہری ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کی اجازت دی اور آج امریکہ کے ٹرمپ اُسی معاہدے کو امریکہ کی تاریخ کا بد ترین معاہدہ قرار دیتے ہیں۔بہرحال امریکہ ایران کے لئے سخت گیر موقف رکھتا ہے۔جب کہ ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ دس ٹرمپ مل کربھی جوہری ڈیل تبدیل نہیں کردسکتے۔ساتھ ہی دبے لفظوں میں اپنی جارحانہ پالیسی کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ امن کے خواہشمند ہیں لیکن اس کے ساتھ غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

سعودی حکومت کے مطابق تہران حکومت یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کررہی ہے سعودیہ عرب کا موقف ہے کہ ایران کی مدد سے حوثی باغی ملک میں فرقہ وارانہ منصوبے چلارہیں ہیں اور ایسی حالت میں قیامِ امن کا خواب ناگزیر ہے۔جبکہ ایران نے سعودی وزیر خارجہ کے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔اب یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران خطے میں اپنا جارحانہ انداز قائم کیے ہوئے ہے یا سعودیہ عرب ۔لیکن دونوں مسلم ممالک اس وقت عالمِ اسلام کے لئے تباہی لانے کا باعث بن رہے ہیں۔ٖدنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے سعودی عرب تیل ،ڈالر اور اسلحے کے خریدار اور ایک سرمایہ کار کے علاوہ اور کوئی حثیت نہیں رکھتا۔

آل سعود کی ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی نجانے کیا رنگ لائے گی۔کیوں کہ امریکہ سے دوستی ہمیشہ سے اُن ممالک بھگتی پڑی ہے جن پر امریکہ مہربان ہوتا ہے ۔اب پاکستان کو ہی لے لیجئے ننھامنھا پاکستان روس کی مخالفت کرکے امریکہ کا ساتھ دیتا ہے۔ 1979میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مجاہدین کی فوج تیار کی گئی۔ اس فوج کی تیاری میں امریکہ کا ساتھ دیا سعودی عرب اور پاکستان نے۔ اس فوج میں ہزاروں سُنی جنگجو شریک ہوئے بشمول اسامہ بن لادن جو بعد میں القاعدہ کے سربراہ بھی بنے شامل ہوتے ہیں۔لیکن کئی دہائیوں گزرنے کے بعد بھی پاکستان طالبان اور امریکہ کے چنگل سے آزاد نہیں ہوپایا۔

پاکستان فقط یہی راگ الاپتا رہا کہ ہم امریکہ کے وفادار ہیں،لیکن کیا کریں صاحب ڈو مور کے نعرے میں ہاں میں ہاں ملاتے ملاتے کتنے ہی اپنوں کی بلی چڑھا چکے ہیں لیکن پھر بھی امریکہ سرکار کو خوش نہ کرسکے۔اور ٹرمپ سرکار نے انڈیا کو گود میں بیٹھا لیا تاکہ پاکستان پر سی پیک روکنے کے لیے دباو ڈالا جا سکے ۔پیچارا پاکستان محوحیرت کی تصویر بن کر تماشہ ہی دیکھتا رہا۔آپ کے پاس کونسے تیل کے کونیں ہیں لے دے کر ایک سی پیک ہاتھ آیا ہے اب دیکھے یہ سی پیک مزید کیا رنگ لاتا ہے۔

خیر بات ہورہی سعودیہ عرب کی امریکہ سے دوستی کی۔ ٹرمپ کی طرف سے اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کرنا سعودی عرب کے ساتھ امریکہ تعلقات کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم تھا۔سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آخری دنوں میں سعودی عرب اور امریکا کے مابین کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ یمن، شام اور ایران کی طرف سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو قرار دگیااورسابق امریکی صدر اوباما نے ریاض کے ساتھ اسلحے کی کئی ڈیلز کو معطّل کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ اُس وقت ہوتا ہے جب موصوف چھ مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکہ آنے پر سفری پابندیاں لگاتے ہیں۔امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اور پالیسی وہی رہی ایک پاس تیل ہے اور دوسرے کو ہتھیار بچنے ہیں۔لیکن اُس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاو رہا۔اس وقت سعودی عرب امریکہ سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہے۔

دوسری طرف سعودیہ عرب کا ماسکو کی طرف جُھکاو امریکہ اور ایران دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔وجہ یہ ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حالیہ دورہ ماسکو کے موقع پر سعودی عرب نے روس سے ایس 400 میزائل دفاعی نظام خرید نے کے لیے ایک یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔اب امریکہ کو یہ فکر ہے کہ مزائل اس سے کیوں نا خریدے گئے اور ایران کو یہ تشویش ہے کہ روس تو ایران کا اتحادی ٹھہرا تو آخر یہ مزائل سعودی حکومت کس کو ڈرانے کے لئے لے رہی ہے ،ظاہر ہے سعودی حکومت کا نشانہ تہران حکومت ہی ہے۔

طاقت کا توازن قائم رکھنے کانعرہ لگاتے ہوئے تباہ کن اسلحہ کی دوڑ میں آگے بڑھتے مسلم ممالک کسی صورت امن کا خواب پورا نہ ہونے دیں گے ہتھیاروں سے امن قایم نہیں ہوسکتا یہ تو تباہی کا شاخسانہ لئے نوح انسانی کو تباہ کرنے کا وطیرہ لیے ہوئے ہیں۔

اپنے آپ کو زیادہ طاقت ور ثابت کرنے کے لیے کتنے انسان اب تک اس کی بھینٹ چڑہ چکے ہیں۔دنیا تباہی کے دھانے پر ہے یقینایہ مفروضہ کسی ذہن کی اختراع نہیں ۔یہ وہ حقیقت ہے جو اب سرچڑھ کر بولتی نظر آتی ہے ۔شمالی کوریہ کا یکے بعد دیگرے ایٹمی تجربات کرنا اور امریکہ کی دھمکیاں انسایت کے لیے تباہ کن ہے تو دوسری طرف مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کتنی ہی جانوں کو نگل چکی ہے ۔شام ہو یا یمن دونوں ہی مسلمان اکثریت کے علاقے ہیں یہ کراہ ارض پر قائم وہ خطے ہیں جہاں مسلمان ہی مسلمان پر وحشیانہ تشدد کر رہا ہے اور اس تشدد کو ختم کرنے کا کوئی فی الفور حل بھی نہیں نکالا جارہا ۔مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری حل کی طرف جانے کی بجائے اسلحے کی خریداری اور یورنیم کی افزائش کی جارہی ہے ۔آپ او آئی سی بناتے ہیں آپ عرب اتحاد بناتے ہیں لیکن مسلم ممالک کی ضبو حالی کو ختم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی آپ کے پاس نہیں ۔عراق ،افغانستان، لیبیا کی تباہی آپ کے سامنے ہے۔کشمیر کی عوام آزادی کی جنگ لڑرہی ہے روہنگیا مسلمان ظلم اور بربریت کی زندہ تصویر بنے ہوئے ہیں شام میں ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے یمن میں اگرصرف معصو م بچوں کی بات کی جائے تو سات سو کے قریب اس لڑائی کی بیھنٹ چڑھ چکے ہیں۔اور کہاں تک کب تک ہم اس زمین کو لہو سے سینچتے رہیں گے ہم اس مٹی کو وہ مسلمان دے رہیں ہیں جو فقط نفرت کرنا جانتا ہے خدارا اپنی ذمہ داری سمجھئے اور امن کی جانب قدم بڑھایے آپ اسی نبی کے اُمتی ہیں جس نبی نے بنا لہوبہائے مکہ فتح کیا تھا ۔مسلمان ممالک کے درمیان فرقہ وارنہ جنگ کا خاتمہ مسلمانوں کے لئے اک نئی زندگی کی نوید ہوگا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 183876 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Nov, 2017 Views: 626

Comments

آپ کی رائے