جدید فکر کا ترجمان_____ راشد علی

صحافت کا مشکل ترین شعبہ کالم نگاری ہے۔کالم نگار کو Opinion maker کہا جاتا ہے۔ کالم نگاراپنی تحریرکے ذریعے قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کی سوچ کی سمت متعین کرتا ہے۔ کسی بھی قومی ایشو پر رائے عامہ کو متحد اور متفق کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔لہٰذا پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی اخبار کے اداریہ کے بعد اہم ترین حصہ کالم ہوتے ہیں۔عام وخاص مختلف کالم نگاروں کی آرا ء اور تحریروں سے کوئی نتیجہ اخذ کر پاتے ہیں۔ سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور ٹیکنو کریٹس کے ہا تھوں سے الجھائی گئی گتھیاں سلجھتی نظر آنے لگتی ہیں ۔شرط یہ ہے کہ خود کالم نگار ان گتھیوں کو مزید الجھانے کی ’’سازش ‘‘میں ملوث نہ ہو۔ قابل فکر امر یہ ہے کہ ہمارے کالم نگاروں کی اکثریت ’’دھڑا ایمان ہے‘‘ پر یقین رکھتی ہے اور وہ اپنا اپنا دھڑا ’’کوٹنے‘‘ میں مصروف رہتی ہے۔ بعض کالم نگار’’دھڑا‘‘ کوٹنے کی مشقت کا بھاری معاوضہ بھی وصول کرتے ہیں۔ اور یوں وہ اپنے معصوم قارئین کا ذہنی استحصال کر کے انھیں بھی اپنا ہمنوا بنانے کی شعوری کوشش کرتے ہیں جو میرے نزدیک نہایت گھناؤنا فعل ہے۔ اپنی تقریر یا تحریر کو قومی مفاد کے بجائے ذاتی یا شخصی مفاد کے لیے استعمال کرنا سب سے بڑا جرم اور گناہ ہے۔میرے پیارے پڑھنے والوں کو کالموں کا ہی نہیں کالم نگاروں کا بھی تجزیہ کرنا چاہئے جو قومی رائے عامہ کو گمراہی کی جانب دھکیلنے کے مرتکب پائے جائیں ان کی تحریروں سے یوں پرہیز کریں جیسے شوگر کے مریض مٹھائی سے۔

الحمد ﷲ اب بھی ہمارے یہاں ایسے کالم نگار موجود ہیں جو حقیقی معنوں میں قوم کی رہنمائی کرنے کے لیے لکھتے ہیں اور لکھنے کا حق ادا کرتے ہیں، ایسے کالم نگار میرے آئیڈیل ہیں، میرے رول ماڈل ہیں۔ میں خود ان کی تحریروں سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں اور اپنی فکر کو توانابناتا ہوں۔ان بے لوث اور مخلص کالم نگاروں کی فہرست میں راشد علی کے نام سے ایک اورخوبصورت اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان کالم نگار راشد علی اعلیٰ تعلیم یافتہ ،مودب،ملنسار اور پر خلوص و سادہ شخصیت کے حامل انسان ہیں، قومی سوچ اورفکر کے ترجمان یہ کالم نگار ان آلودگیوں سے آشنا ہی نہیں جن کا بعض کالم نگار شکار ہیں۔راشد علی ابھی اس’’دلدل‘‘ سے باہر ہیں اور میں دعا گو ہوں کہ پروردگار ان کو اس دلدل سے محفوظ رکھے۔آمین۔

راشد علی کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سوانح نگار،مورخ اور ادیب بھی ہیں۔مذہبی اور دینی مسائل پر بھی سیر حاصل مضامین لکھنے کا شرف حاصل ہے۔ انہوں نے صحافت میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسڑزکر رکھا ہے۔وہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ علم حدیث اسماء و صفات اور علم الرجال سے بھی آشنا ہیں ۔ ان کی احادیث پر مبنی چار کتب منصۂِ شہود پر آ چکی ہیں۔ ان کتابوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں کوئی روایت من گھڑت ،موضوع، مرسل یا ضعیف نہیں۔ احادیث نبویہؐ سے متعلق صحت کا یہ التزام جہاں ان کے علمی مقام کا تعین کرتا ہے وہاں قرآن و حدیث سے ان کی بے پناہ محبت کا مظہر بھی ہے۔ وہ ایک بہترین واعظ، خطیب اور معلم بھی ہیں۔ ایک شخص میں ان گنت خوبیوں کا جمع ہو جانا رحمت خداوندی کی اعلیٰ مثال ہے۔ اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ راشد علی کے علم اور عمل میں اضافہ فرمائے اور ان کے اس اخلاص میں برکت فرماتے ہوئے توشہء آخرت بھی بنائے۔ آمین۔

راشد علی درحقیقت ہمارے اسلاف کی یاد گار ہیں۔ وہ اس لڑی کا تسلسل ہیں جو ہمیں ہمارے تابناک اور انمول ماضی میں لے جاتی اور جوڑ دیتی ہے۔ان کی تحریریں ہمارے لیے خضر راہ کا فریضہ سرا نجام دیتی ہیں۔ان تحریروں سے ہم فکری رہنمائی حاصل کر کے اپنی سمت کا تعین با آسانی کر سکتے ہیں۔ راشد علی کے سیاسی کالم بھی ہمیں گمراہ کرنے یا کسی کی شخصیت میں ’’ضم‘‘ کرنے کا سبب نہیں بنتے، بلکہ ان کے کالم ہمای حقیقی معنوں میں رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں۔وہ اپنے کالم کے ذریعے حقائق ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ یا نتیجہ دینے کی بجائے اس کا اختیار بھی ہمیں سونپ دیتے ہیں۔یہ ایک بڑے کالم نگار کی علامت ہے۔راشد علی معروف کالم نگار بھلے نہیں لیکن ایک بڑے کالم نگار بحر حال ہیں اور یہ بات میں ان کی محبت میں نہیں کہہ رہا ،بلکہ بقائمی ہوش و حواس پوری ذمہ داری کے ساتھ’’میرٹ‘‘ پر کہہ رہا ہوں۔

’’پندِ شناسا‘‘ ان کے کالم کا مستقل لوگو ہے۔ میں نہیں جانتا عوامی لوگو کی بجائے انہوں نے اتنا مشکل اور دقیق لوگو کیوں چنا ہے۔میراذاتی خیال ہے وہ اپنی تحریروں کو خواص تک ہی محدود رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عوام تک پہنچانا فی الحال ان کا مقصود نہیں ۔ اگر میرا یہ تجزیہ درست ہے تو راشد علی کو اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہئے ان کی تحریروں سے عام افراد کو بھی فائدہ حاصل ہونا چاہئے۔ مخصوص طبقے کے لیے لکھنا میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں۔ عام لوگوں کی فکری رہنمائی کرنا بھی راشد علی کی ذمہ داری ہے اور انہیں اس ذمہ داری کو کما حقہ ٰ نبھانا چاہئے ۔ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار اور مختلف جرائد میں شائع ہونے والے ان کے کالم کتابی شکل میں شائع ہونے جا رہے ہیں۔ امید ہے ہر خاص و عام ان کے کالموں سے استفادہ کر سکے گا اور وہ میری اس بات سے اتفاق کریں گے جو میں نے سطور بالا میں عرض کی ہے۔

راشد علی کا اسلوب نگارش اس قدرتو مختلف نہیں کہ اسے الگ اور منفرد قرار دیا جا سکے، البتہ ان کا طرز تحریر قدرے جداگانہ ضرور ہے۔ان کی تحریروں میں پر شکوہ الفاظ کا استعمال بھی بکثرت ملتا ہے اور کسی بڑے جملے کی آمد سے قبل ’’ہٹو بچو‘‘ کی صدائیں بلند کرتے کئی جملے ہمیں چوکنا کر دیتے ہیں۔ میں ان کے اس طرز تحریر پر اپنی رائے کسی خاص موقع کے لیے محفوظ رکھتا ہوں۔ راشد علی خود وسیع مطالعہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ بند لفافے میں محفوظ میری اس ’’رائے‘‘ پر توجہ ضرور دیں۔ یہ ایک بڑے بھائی کی طرف سے مشورہ بھی ہے جو قطعی مفت تو ضرور ہے مگر بے سود نہیں اور داناؤں کا قول ہے سود اصل سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔

راشد علی کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ نوجوان راشد علی کا قلمی مستقبل نہایت تابناک ہے۔ اﷲ تعالیٰ انھیں صحت و سلامتی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ہر آنے والا دن ان کی عزت و عظمت میں مسلسل اضافے کا سبب بنے گا۔ یہ میری دعا بھی ہے اور ان کے بارے میں پیش گوئی بھی ۔ اور یہ پیش گوئی کسی مفروضے پر نہیں بلکہ ان حقائق کے ادراک کے بعد ہے جو میں نے راشد علی کی تحریروں سے حاصل کیا ہے۔یقینی طور پر راشد علی اردو ادب و صحافت کا روشن مستقبل ہیں اور میں اردو ادب و صحافت کے اس روشن مستقبل کا کھڑے ہو کر استقبال کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ یہ فرض ’’فرض کفایہ‘‘ نہیں ہے، اس لیے آپ بھی اپنا اپنا فرض ادا کیجئے۔
 

Muhammad Idrees Naz
About the Author: Muhammad Idrees Naz Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.