پاکستان کےماضی وحال کا تقابلی جائزہ ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)

سن انیس سو سینتالیس کو معروض وجود میں آنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا خالصتاً اسلامی جمہوریہ ملک پاکستان تھاجس کو حاصل کرنے کیلئے تحریکوں نے جنم لیا تھا، درحقیقت پاکستان کی بنیاد تو اسی وقت سے شروع ہوگئی تھی جب مغلیہ دور کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دور بادشاہت میں انگلستان کے خفیہ ادروں نے تاجر کے بھینس میں اس خطے پر قبضہ جمالیا، تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کے امن کو تہس و نہس اور مذہب عیسائیت کو پھیلانے کیلئے انھوں نے مشنریز کے نام پر ادارے قائم کیلئے اور ان اداروں کے پس پشت اپنے مقاصد بھی حاصل کرتے رہے، آج کے دور میں مشنریز کو این جی اوز بھی کہتے ہیں، ان انگلستان کے قابض حکومت نے برصغیر پاک و ہند میں کئی امور فلاحی و تجارتی بنیاد پر ایسے کیئے کہ جن کے مثبت ثمر آج بھی محسوس کیئے جاتے ہیں جن میں ریلوے کا نظام، ہوائی بازی کا نظام، رابطے یعنی ٹیلیفون کا نظام، خط و کتابت کا منظم نظام وغیرہ شامل ہیں، اسی زمانے میں جب انگریزوں نے مکمل برصضیر پر اپنی ھکومت قائم کرلی تب مسلم سپہ سالاروں نے ان کے خلاف جنگ کرکے انہیں بآور کرایا کہ وہ مسلمانوں کی اساس و حیثیت کو ختم نہیں کرسکتےدوسری جانب ایک مسلم ماہر تعلیم نے مسلم قوم میں علم کی اہمیت اور بلخصوص انگریزی کی وقت ضرورت کو اجاگر کیا، وہ عظیم شخصیت سر سید احمد خان کی تھی، صحافت ،سیاست اور تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات پیش کرنے والے سرسید احمد خان نے مسلمانوں کیلئے ایک اسکول پھر کالج اور اس کے بعد مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں لائے، اس یونیورسٹی کو آل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نام سے جانتے ہیں، یہی وہ یونیورسٹی تھی جہاں کے طالبعلوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت و سربراہی میں تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا،انہیں طالبعلم اور تحریک پاکستان کے کارکنان میں میرے والد محترم سردار حسین صدیقی مرحوم بھی تھے، میں نے دیکھا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے طالبعلم اور تحریک پاکستان کے کارکنان سچے اور قول کے پکے، مخلص اور ہمدرد، قابلیت و اہلیت کے مالک، ذہین و فطین، سربراہانہ صلاحیت کے مالک تھے، انہیں شخصیات نے پاکستان کی تعمیر مین اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کیا ،تحریک پاکستان میں دارلعلوم دیو بند اور دارلعلوم بریلوی مسلک کیساتھ اہل تشیع کے مدارس نے بھی اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کیا اسی بابت قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میںتحریک پاکستان میں کہیں بھی کسی بھی جگہ نہ اتفاقی کا عمل نہ پیدا ہوا نہ دیکھا گیا، ایک ہی نعرہ بن کے رہے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ محمد الرسول ﷺ، تمام مسلک ، تمام فرقوں، تمام مسلم قومیت کا یک زبان یہی نعرہ گونج رہا تھا،تحریک پاکستان میں خاکسار تحریک بھی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے جو آج کے زمانے میں کسی بھی نئی نسل کو معلوم نہیں؟؟ بحرکیف بھارت کے مسلمانوں کی جان ، مال کے بدل یہ عظیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست حاصل ہوئی، یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قائد اعظم کے رفیق پاکستان کے پہلے وزیر اعظم صاحبزادہ لیاقت علی خان تھے، ان کا طرز زندگی قبل از پاکستان یہ تھا کہ ہزاروں ایکڑ اراضی کے زمیندار تھے، آکسفورڈ یونیورسٹی مین زمانہ طالبلعمی میں ایک خامسامہ، ایک ڈرائیور اور باورچی ساتھ خدمات کیلئے رہتے تھے، اُس زمانے میں موٹر کار ذاتی ہوتی تھی، گھر میں سو سے زائد افراد کا کھانا تینوں وقت پکتا تھا، ایک جوڑا پہننے کے بعد دوبارہ زیب تن نہیں کرتے تھے وہی عالیشان و مرتبت رکھنے والا شخص جب پاکستان کا پہلا وزیر اعظم بنا تھا اُس نے ایک اچکن استعمال کی ،اس اچکن کے اندر ترپے ہوئے کرتا پاجامہ ہوتا تھا، جورابیں پھٹی ہوتی تھی، بینک میں ایک پیسہ نہیں جمع ہوتا تھا، کرائے کے مکان میں رہتے تھے ، سرکار کی جانب سے چینی کا کوٹہ ختم ہوجاتا تو بیگم رعنا لیاقت علی خان پھیکی چائے پیتی تھیں ، پاکستان کے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ وہ دنیا کا عظیم، ذہین، قابل بیرسٹر جس کی فیس انگلستان ہو یا بھارت سب سے زیادہ تھی ، جو بہترین لباس، بہترین الئف اسٹائل زندگی کا عادی تھا، جواپنی قابلیت کے عوض ہزاروں روپے پونڈ کمانا جانتا تھا لیکن پاکستان کی ریاست کو چلانے پر جب منصب گورنر جنرل پر فائز ہوا تو یہی عظیم لیڈر، عظیم شخص نے اپنے درمیان تمام شرائط عائد کردی ،آپ نے کبھی بھی سرکاری امور کے درمیان چائے ، کافی کو سرکاری اخراجات میں نہ لائے، ایسے عظیم ترین رہنماؤں کی یہ قوم ہے،یہ قوم جانتی بھی ہے کہ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پاکستان کی ریاست ، اداروں اور جمہوری رہنماؤں کا تعینات کرایا گیا ہے جو ان کے اشاروں ، ان کے حکم کے غلام ہیں۔۔۔معزز قارئین!! زمانہ حال میں پاکستان جس قدر مسلسل کرپشن، بد عنوانی، معاشی دہشتگردی، اقربہ پروری، لا قانونیت کا شکار رہا ہے اس سے ادارے سمیت تمام نطام ریاست مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، آزاد اورخود مختار پاکستان کو ہمارے حکمرانوں نے ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ، قائد اعظم محمد علی جناح اور صاحبزادہ لیاقت علی خان کا پاکستان ان سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں نے دفن کرکے رکھ دیا ہے لیکن اگر حقیقی پاکستان کیلئے جذبہ ایمانی دیکھنا ہے تو اب صرف دو ادارے ایسے ہیں جن میںقائد اعظم محمد علی جناح اور صاحبزادہ لیاقت علی خان کا پاکستان ابھی بھی زندہ ہے انہیں کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی و بقا قائم و دائم ہے ان اداروں میں ایک سپریم کورٹ اور دوسرا ہماری افواج پاکستان ہے، گزشتہ بیس سالوں میں سیاسی جماعتوں نے اپنی دولت، خواہشات کی تکمیل کیلئے کا لعدم تبظیموں کو پالا ان میں وہ گروہ اور تنظیم بھی شامل ہیں جو دشمنانان پاکستان کے ہاتھون ناچ رہے ہیں ان میں بی ایل او،مسلم پیپلز موومنٹ، اے این پی سمیت کچھ مذاہب تنطیمیں بھی شامل ہیں اور سب سے بد تر ایوان کے ممبران کی کثیر تعداد ایسی ہیں جن کے روابط منفی سوچ، منفی اسکیم، منفی پلان، منفی ایجنڈے سے ملکی سیاسی و معاشی حالات کا بگاڑ کا باعث بنے ، لیکن سلام پیش کرتے ہیں تمام پاکستانی عوام نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کو کہ جنھوں نے بلا تفریق، بلا رعایت تمام کرپٹ عناصر کے درمیان گھیرا تنگ کردیا ہے اور انھیں احتسابی چکی میں ڈال دیا ہے اگر یہی سوچ اور یہی عمل جاری رہا تو یقیناً کرپٹ عناصر اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے اور کرپٹ مافیا کی سرگرمیاں بھی اپنی موت مرجائیں گی۔۔۔۔۔ آپریشن رد کرپشن کے عنوان سے میںلکھتا چلا آرہا ہوں اور اپنے مشاہدے و تجربات کو بھی آشکار کرتا ہوں کیونکہ اپنے کالم کو لکھنے سے قبل ایک بار از خود ضرور بلضرور مطالعہ، مشاہدہ اور تجربے سے گزارتا ہوں تاکہ سچائی و حقیقت کے عنصر یقینی طور پر سامنے آسکیں۔۔معزز قارئین!!مسلم پیپلز موومنٹ نے پاکستان کے وفاقی و صوبائی اقتدار پر بر جمان ہوئے چالیس سال بیتا دیئے لیکن ہر بار یہی رونا روتے رہےہیں کہ ہمیں کام کرنے نہیں دیا گیایا نہیںدیا جارہا ہے، ہم اب کی بار ضرور کام کریں گے یہ لوگ کہیں قومیت کا کارد کھیلتے ہیں تو کہیں محب الوطنی کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ،حقیقت تو یہی سامنے آتی رہی ہے کہ پاکستان بھر کی عوام ان تینوں سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی رہی ہیں، مسلم پیپلز موومنٹ کی گروہ بندی انتہائی منفی سیاسی مافیاکی شکل اختیار کرچکی ہے۔۔۔ حقیقت ہےکہ ان تینوں سیاسی جماعتوں میں اچھے سیاستدان بھی ہیں جو صاف ستھری سیاست کے قائل ہیں مگر رہبروں کے ہاتھوں مجبور تماشہ بن گئے ہیں ، پاکستانی عوام سپریم کورٹ اور افواج پاکستان سے بڑی پر امید ہے کہ ان منفی سیاسی مافیا سے ان کی جان چھوڑائی گی۔۔۔ ، عوام کے مطابق جب تک سیاسی مافیا ہے اس وقت تک پاکستان کا آئین کٹھ پتلی کی طرح ناجتا پھرے گا کیونکہ یہ سیاسی مافیا کے کارندے ایوان میںتبدیلی کرکے مکمل آئین کوتہس نہس کردینے کی طاقت رکھتے ہیںاورجب مرضی ہوتی ہے اپنی خواہشات کے مطابق تبدیلی کرکے ڈھال لیتےہیں ، آئین مین تبدیلیان کرکے اب کرپٹ اور مجرموں کی سرپرستی کا قانونی سہارا بنادیا گیا ہے ، اس بابت سپریم کورٹ کو اپنا قانونی کردار ازخود ادا کرنا پڑیگا اور پاکستان کے مخلص سیاستدانوں کو پاکستان کی سلامتی و بقا، آئین کے تحفظ اور پاسداری کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ زر خرید ممبران جب تک ایوان میں موجود ہیں پاکستان دنیا بھر میں نہ صرف بدنامی کا شکار رہیگا بلکہ اس کی اساس کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ، سپریم کورٹ کو اداروں کو آزاد بنانے کیلئے اپنا قانونی کردار ادا کرتے ہوئےنظام ریاست کو کرپشن و بدعنوانی سے پاک بنانا ہوگا کیونکہ دور حاضر میں پاکستان بارڈر کیساتھ ساتھ ممبران ایوان کا بھی آپریشن نا گزیر ہوچکا ہے جب تک کرپٹ لوگوں، کرپٹ عناصر، کرپٹ بیوروکریٹس، کرپٹ مذہبی عناصر، کرپٹ سیاسی عناصر، کرپٹ تاجر، کرپٹ انتظامیہ کا جڑ سے خاتمہ نہ کیا جائیگا اُس وقت تک پاکستان نہ ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی سیاسی و معاشی طور پر مستحکم ہوسکتا ہےاس کیلئےبھرپور انداز میں آپریشن کی ضرورت ہے یہاں یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ انتخابات کرانا یا انتخابات کی بات کرنے والے سیاسی رہنما ہوں یا سیاسی جماعتیں یہ مت بھولیں کہ اب وقت کی اشد ضرورت ہے کہ مردم شماری کی گنتی کو درست کرکے حلقہ بندیاں کی جائیں پھر اضافی سیٹوں کیساتھ ساتھ طریقہ انتخابات کو بھی درست کیا جائے، الیکشن کمیشن ادارے کو مکمل آزاد خود مختار بناکر اس میں غیر سیاسی اصلاحات پیدا کی جائیں اور جدید خطوط پر استوار کرکے آسان ، محفوظطریقہ کار بنادیا جائے تاکہ جعل سازی، بوگس کے عمل ضائع ہوسکیں اور وہی کامیاب ہو جس کو عوام نے منتخب کرنے کیلئے ووٹ دیا ہو، زمانہ حال اور بہتر مستقبل کیلئے اداروں سے سیاسی مداخلت مکمل ختم کردی جائے، سیاستدانوں کے مثبت مشورے، مثبت رائے کو اصلاحات میںلازمی شامل کیا جائےتاکہ ملک کی ترقی و بہتری میں ان کا کردار شامل ہوسکے۔۔سرکاری تقرریوں میں میرٹ کو ترجیح دی جائے اور دسٹرکٹ آفیسر کو پیون کے تقرر کا اختیار دیا جائے اور اسی طرح بل ترتیب افسران کو ان کے منصب کے تحت تقرری کا اختیار سونپا جائے، سیکریٹری یا وزیر کا یہ کاسم نہیں کہ وہ تقرریوں میں مداخلت کردی کرپشن سمیت دیگر منفی معاملات کو زندہ کرے، ہم نے دیکھا کہ نیچلی سطح کے اختیارات سلب کرنے سے نظام ریاست ، نظام ادارہ بربادی کا شکار ہوا ہے، ، تبادلوں کے تمام اختیارات جب سے سیکریٹریز اور منسٹر نے لیئے ہیں اس سے شعبوں کا کام رک گیا ہے کیونکہ تبادلوں کا معاملہ ہی ہر شعبوں تک محدود صحیح تھا ڈسٹرک کو معلوم تھا کہ کہا ں جگہ حالی ہے اور کہاں سے جگہ خالی کرنی ہے گویا تسلسل کیساتھ رد بدل کرکے نظام کو چلایا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ دس بیس سالوں میں سیکریٹریز سمیت وزرا نے اپنے منفی عزائم کی خاطر تمام نظام الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا جو سندھ سمیت پاکستان کیلئے نا تلافی نقصان کا باعث بنا ہوا ہے،اسلام آباد سپریم کورٹ ملک کے بڑے عہدے پر فائز لوگوں کا احتساب کررہی ہے مگر سب ان احتسابی عمل سے آزاد ہے سندھ کو بھی احتسابی عمل سے گزارا جائے تاکہ سندھ دھرتی ناپاک عناصر اور ان کی ناپاک سرگرمیوں سے محفاظ رہ سکے ،اس بابت ہائی کورٹ سندھ اور سپریم کورٹ سندھ کو از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سندھ کے اداروں مٰن پائے جانے والے منفی عناصر کو جڑ سے ختم کرنا چاہیئے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کو بلا تعصب صرف اور صرف میرٹ پر قائم رہنے کا پابند بنانا چاہیئے بصورت سندھ آدھا تباہ تو ہوہی چکا ہے وگرنہ مکمل تباہ ہوجائیگا کیونکہ میرٹ کے بغیر کوئی نظام ریاست نہیں چل سکتا۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین ثما آمین ۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 156519 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2017 Views: 337

Comments

آپ کی رائے