قومی اہل قلم کانفرنس

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

پاکستان رائیٹرز ونگ کی جانب سے بابا بھلے شاہ کے شہر قصور میں ایک ادبی و قومی اہل قلم کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مجھے بھی شرکت کرنے کااعزاز حاصل ہوا ۔اس پر وقار تقریب کی رودا د پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ادبی ذوق رکھنے والے اسے ضرور پسند کریں گے اس کانفرنس میں معروف صحافیوں ،شاعروں،ادبی، تعلیمی اور سماجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا باوقاعدہ آغاز تلاوت قران پاک اور نعت رسول ﷺ سے کیا گیا پاکستان رائیٹرز ونگ کے صدرمحترم جناب مراز یسین بیگ صاحب نے کانفرنس میں موجود مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور مہمان خصوصی سے اجازت لے کر باقائدہ کانفرنس کا آغاز کیا اس کانفرنس کے مہمان گرامی معروف صحافی و روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر محترم جناب مجیب الرحمن شامی ،روز نامہ نئی بات کے چیف ایڈیٹر محترم حافظ شفیق الرحمن ،ملتان آرٹس کونسل کے ڈائیریکٹر جناب محترم سجاد جہانیہ صاحب تھے۔

ایسی کانفرنس کا انعقاد جہاں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے وہاں سب کو ایک دوسرے سے ملنے اور آپس میں تعلقات استوار کرنے کا موقع بھی فراہم ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کا میل جول ایک قدرتی عمل ہے ہم سماجی ،معاشی اور معاشرتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کوئی بھی شخص معاشرے سے الگ نہیں رہ سکتاہمیں اپنے تمام اختلافات بھلا کر آپس میں مل کر ادب کی خدمت کرے کی ضرورت ہے تاکہ ادب کو فروغ حاصل ہو سکے قلم کی طاقت سے ہم اپنے ملک میں ترقی لا سکتے ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جو ھی لکھیں وہ سچ پر مبنی ہو ہمارے ہاں لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے صرف کمی ہے تو حوصلہ افزائی کرنے والوں کی اس طرح کی تقریبات نئے لکھنے والوں میں نئی روح پھونکنے کا کام کرتی ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ۔

اس کانفرنس میں مہمانوں نے خطاب کے دوران قلم کی اہمیت ،طاقت اور عظمت پر روشنی ڈالی ،انھوں نے مزید کہا کہ قلم سے آپ اپنے معاشرے میں بکھار لا سکتے ہیں اور ایک عام آدمی کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔لکھنے والے افراد تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتے ہیں اس لئے انکا فرض ہے کہ وہ معاشرے کی صحیح راہنمائی کریں آخر میں مہمانوں نے سماجی،ادبی،تعلیمی اور طبی حلقوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں ایوارڈز تقسیم کئے میں راقم بھی اس تقریب میں موجود تھا اور میری بھی حوصلہ افزائی کی گئی اس کانفرنس میں مجھے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا اس کے علاوہ مجھے بھی طبی و سماجی خدمت پر ایوارڈ سے نوازا گیا میرے علاوہ بہت سے نا آموز لکھاریوں میں بھی ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔ایوارڈز کی تقسیم کے بعد مہمانوں اور کانفرنس میں موجود افراد نے میڈیا کو انٹرویو دیئے ۔اس کے بعد کانفرنس میں موجود تمام لوگوں کو کھانا فراہم کیا گیا اور یوں ایک یادگار کانفرنس کا اختتام ہوا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1337463 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
27 Nov, 2017 Views: 436

Comments

آپ کی رائے