وہم

(ARSLAN AKHTAR, Rawalpindi)
وہ چپکے سے میرے پاس آیا اور خاموشی سے میرے پاس بیٹھ گیا میں لکھتا جا رہا تھا اور وہ خاموشی سے میرے کلم کو دیکھ رہا تھا مجھ سے پوچھنے لگا وقت کتنا قیمتی ہوتا ہے ؟ میں نے جواب دیا میں تمہیں وقت کی قیمت بتانے کے لئے اپنے وقت کی قیمت نہیں ادا کر سکتا اس نے خاموشی سے مجھے سنا اور کھڑا ہوگیا بولا سوال کیا ہوتا ہے میں نے کہا وہ جملہ جس کے آخری حصے میں جواب موجود ہوتا ہے اس نے پھر مجھے خاموشی سے سنا اور جاتے جاتے بولا تم نے اپنی کتاب کا نام برصغیر کیوں رکھا ہے میں نے جواب دیا کیونکہ اب وہاں کوئی کتاب نہیں پڑھتا وہ جتنی خاموشی سے آیا تھا اس سے زیادہ خاموشی سے واپس جانے لگا کمرے سے نکلتے وقت بولا تمھارے شہر کی عوام تم سے زیادہ میرا کہنا مانتی ہے جانتے ہو کیوں ؟؟؟ میں بولا ہاں کیونکہ تمہارا نام وہم ہے میں نے نظریں جھکائیں اور پھر تیزی سے لکھنا شروع کر دیا........... پھر صبح اخبار میں خبر آئی کہ گزشتہ رات وہم نے بوجہ وہم تخیل میں کود کر خودکشی کرلی اور عدالت نے مرکزی ملزم ارسلان اختر کو آخری سانس تک آزاد فضاوں میں گھومنے کی سزا سنا دی-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ARSLAN AKHTAR

Read More Articles by ARSLAN AKHTAR: 6 Articles with 2504 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2017 Views: 358

Comments

آپ کی رائے