مگر کیوں کر

(Amjad Siddique, Lahore)

بابر اعوان صاحب آج کل تحریک انصاف کے لیے رہنمائی عنایت کررہے ہیں۔کل تک وہ پی پی کے لیے خدمت سرانجام دے رہے تھے۔کچھ لوگ ان کے پارٹی چھوڑنے کواچھا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ وہ قوم کو درپیش گھمبیر مسائل کے حل کے لیے انقلاب کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں۔کچھ دل جلے ان کی نئی وفاداری کو زرداری صاحب کا ایک داؤ قرار دے رہے ہیں۔سمجھایایہ جارہاہے کہ زرداری صاحب تحریک انصاف میں اپنے جاسوس گھسا رہے ہیں۔جو اندر ہی اندر ایسا کام دکھائیں گے جو خاں صاحب کے لیے بجائے کسی فائدے کے سراسر گھاٹے کا سودا ثابت ہوگا۔بابر اعوان صاحب اس سے پہلے زرداری صاحب سے وفاداری کے تمام امتحان پاس کرچکے ہیں۔ان کے حکم پر بابراعوان صاحب نے عدلیہ میں انتشار پیداکرنے کے لیے مختلف بار کونسلز میں بریف کیس تماشہ کیا تھا۔ان دنوں جب قوم افتخار محمد چوہدری کو کسی بھی قیمت پر بحال کرنے پر تلی ہوئی تھی۔بابر اعوان اپنے تب کے باس کے حکم پر وکلاء کو چیف جسٹس سے بد گمان کرنے کی فریضہ نبھا رہے تھے۔ان کی بدقسمتی کہ بریف کیس منصوبہ ناکام ہوگیا۔چوہدری کورٹ نہ صرف بحال ہوگئی۔بلکہ بابر اعوان کے باس کے لیے مسلسل ڈراوہ بنی رہی۔بابر اعوان تب ناکام ضرور ہوئے۔مگر انہیں اس انتہائی اہم ذمہ داری کے دیے جانے سے قیادت سے قربت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ نوازشریف ملک کی بقا اورجمہوریت کے لیے سیاست چھوڑ دیں۔عدالتوں کے معاملے پر اپنا رویہ بدلیں۔نوازشریف تین بار ملک کے وزیراعظم بنے ہوئے۔اب انہیں ریٹائرہوجانا چاہئے۔ہمارا موقف ہے کہ خارجہ پالیسی پر مسلم لیگ ن غیر سنجیدہ رہی ہے۔چارسال تک ملک کا وزیر خارجہ ہی نہیں بنایا گیا۔پی پی چئیرمین کا نوازشریف کو سیاست سے ریٹائر ہونے کا مفت مشورہ ان کی بے بسی کی دلالت کرتاہے۔وہ بے بسی جو ان کی پارٹی کو عوام کی طرف سے مسلسل کورا جواب ملنے کے سبب پائی جاتی ہے۔ایک وقت تھا۔جب پاکستانی سیاست بھٹو کے گرد گھومتی تھی۔تب تمام جماعتیں اینٹی بھٹو او ر پرو بھٹو سیاست اپناتی تھی۔اب سیاست نوازشریف کے گرد گھوم رہی ہے۔تمام جماعتیں اپنے جلسوں۔اور ریلیوں میں انہی کا ذکر کرتی ہیں۔سیاسی جوڑ تو ڑ بھی صرف اور صر ف نوازشریف کی پارٹی کو دیکھ کر کیا جارہا ہے۔ ان نشستوں پرغور کیا جارہاہے۔جہاں نوازشریف کی پارٹی بہت سٹرونگ ہے۔ان حلقوں پرغور کیا جارہاہے۔جہاں مسلم لیگ ن کے کسی اتحادی کو برتری دکھائی دے رہی ہے۔وہاں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔بلاول بھٹو ایسے وقت پر نوازشریف کو ریٹائر منٹ کا مشور ہ دے رہے ہیں۔جب وہ اپنی شہرت کے عروج پر ہیں۔بلا شرکت غیرے انہیں واحد بڑا قومی رہمنا تسلیم کیاجارہاہے۔ بلاول اسیے موقع پر بجائے زیادہ بہتر حکمت عملی سے میاں صاحب کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرتے۔انہیں ریٹائرمنٹ کا مشورہ دے کر اپنی کمزوری عیاں کررہے ہیں۔

بابر اعوان نے بارکونسلز میں بریف کیس گھما کرڈوگر کورٹس کو بچانے کی کوشش کی تھی۔زرداری حکومت کی طر ف سے اس معاملے پر کئی دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔اپنے اتحادیوں کے ساتھ کئی بار بعد میں پیپلز پارٹی نے کئی مشترکہ اجلاس بلاکر عدلیہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر افتخار محمدچوہدری کورٹ کو مفلوج کرنے کے لیے پورا زور لگایا گیا۔نظام احتساب کو لولا لنگڑا کرنے کی تمنا نظر آئی۔جب نیچے سے اوپر تک مفاہمتی سیاست کے نام پرلوٹ مار اور بند بانٹ ہورہی ہو۔تب حقیقی احتساب کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے۔زرداری صاحب کی مفاہمتی سیاست کا خمیازہ آج تک ا ن کی پارٹی بھگت رہی ہے۔بلاول ملک کی بقااورجمہوریت کے لیے نوازشریف کو ریٹائر ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں۔کیا انہیں اندازہ ہے کہ ملک کی بقا اورجمہوریت کے لیے اچھے لوگوں کو نہیں بلکہ برے بندوں کو ریٹائرمنٹ لینی چاہیے۔آپ چار سال سے وزیر خارجہ نہ ہونے کا گلہ کررہے ہیں۔ذرا اپنے ڈیڈی سے پوچھیں کہ وزیر خارجہ کیوں نہیں مقرر کیا جاسکا؟ وہ اپنے دور میں ایسی کئی مجبوریوں سے گزرے ہیں۔وہ بلاول کو بے نظیر بھٹو کی پہلی کابینہ کی ترتیب سے متعلق ملی لسٹ سے بھی ضرور آگاہ کریں گے۔انہیں بخوبی پتہ چل جائے گاکہ بعض اعلی عہدے کیوں کر خالی رہ جاتے ہیں۔ نوازشریف کی ریٹائرمنٹ صرف بلاول کا ہی نہیں بہت سو ں کا مسئلہ ہے۔ نوازشریف کچھ لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے ان لوگوں کو جوجوکروں کو نچواتے ہیں۔ناچنے والے جوکرز بھی نوازشریف کی گردان رٹتے بے حال ہورہے ہیں۔بلاول صاحب آپ جمہوریت اور ملک کی بقا کے فکر مند ہیں۔مگر یہ کیسے ہوپائے گا۔ یہ جوکھم والا کام ہے۔آپ کی پارٹی کوپکی پکائی کھانے کی عادت پڑ چکی۔آپ لوگوں کو خواب تو بہت دکھارہے ہیں۔مگر ان کی تعبیر جانے کیوں کر ممکن ہوگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68368 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Dec, 2017 Views: 326

Comments

آپ کی رائے