پاکستان ٹیلی ویژن : رفاقتوں کا سفر "ناظرین کیلئے ناقابلِ فراموش" حصہ دوم

(Arif Jameel, Lahore)
پی ٹی وی نے اپنی رنگین نشریات کا آغاز 1976ء میں کیا۔۔۔۔دوران 1979ء میں امجد اسلام امجد کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ "وارث"جب۔۔۔۔تاریخی ڈراموں میں " آخری چٹان" اور "شاہین "قابلِ ذکر ہیں۔۔۔۔1980ء کی دہائی میں قسط وار ڈراموں کے اعتبار سے حسینہ معین ایک بار پھر بازی لے گئیں اور " اَن کہی " ، "تنہائیاں" اور "دُھوپ کنارے" نامی ڈراموں۔۔۔۔ اہم ڈرامہ "اندھیرا اُجالا " ۔۔۔۔"سونا چاندی"، " آنگن ٹیڑھا" ،" خواجہ اینڈ سنز" اور" گیسٹ ہاؤس" اگلے اہم نام ہیں۔ اس دوران مصنف و شاعر اطہر شاہ خان عرف"جیدی " نے مزاحیہ ڈراموں سے اپنی پہچان بنائی۔ "ففٹی ففٹی"مزاحیہ خاکوں پر مبنی پروگرام 1979ء میں نشر کرنا شروع کیا گیا۔۔۔۔انگلش فلمیں ماضی میں پی ٹی وی کی نشریات کا اہم حصہ رہی ہیں ۔ 70ء سے 90ء تک کی دہائیوں کے دوران 8سے 9بجے کے درمیان تقریباً جتنی بھی انگلش فلموں کی سیریز پیش کی جاتی رہی ہیں ۔۔۔

چند یادگار تصاویر ٢

پی ٹی وی نے اپنی رنگین نشریات کا آغاز 1976ء میں کیا تو اُسکی وجہ سے اس ادارے کو اور مقبولیت حاصل ہو گئی اور رنگین ڈرامے مزید توجہ کا مرکز بن گئے۔اس ہی دوران 1979ء میں امجد اسلام امجد کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ "وارث"جب آن ائیر ہوا تو اسے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ واقعی پی ٹی وی ڈرامے نے ایک مدت بعد نئی کروٹ لی اور چُلبلی نوعیت کے ڈراموں سے ایک قدم آگے بڑھا دیا۔ اداکارمحبوب عالم کے کردار میں جس خوبصورتی کے ساتھ ملک کے جاگیرداری نظام کی تصویر کشی کی گئی ناظرین اُس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اُنکے ساتھ منور سعید،فردوس جمال ،عابد علی اور شجاعت ہاشمی کے کردار آج بھی لازوال تصور کیئے جاتے ہیں ۔ بعدازاں اس نوعیت کے موضوع عام ہوگئے جن میں سے دہلیز اور سمندر وغیرہ اہم ڈرامے رہے۔تاریخی ڈراموں میں " آخری چٹان" اور "شاہین "قابلِ ذکر ہیں۔

1980ء کی دہائی میں قسط وار ڈراموں کے اعتبار سے حسینہ معین ایک بار پھر بازی لے گئیں اور " اَن کہی " ، "تنہائیاں" اور "دُھوپ کنارے" نامی ڈراموں نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑے۔ان ڈراموں میں شکیل،جاوید شیخ،آصف رضا میر،راحت کاظمی، بہروز سبزواری ،شہناز شیخ اور مرینہ خان اپنے عروج پر نظر آئے۔لیکن اس ہی دور کا سب سے اہم ڈرامہ "اندھیرا اُجالا " اپنی پہچان آپ رہا۔ مختلف جرائم پیشہ کہانیوں پر مشتمل اس ڈرامے میں محمد قوی،جمیل فخری اور عرفان کھوسٹ کی اداکاری ملک کی پولیس پر ایک سوالیہ نشان ثابت ہوئی۔ اس کے ساتھ طویل دورانیہ کے ڈرامے دیکھنے کیلئے 9بجے کے بعد ناظرین خصوصی اہتمام کرتے کیونکہ اگلا دن چُھٹی کا ہوتا تھا۔

پاکستان ٹیلی ویژن نے مزاحیہ ڈراموں و پروگراموں کو جس شگفتہ مزاح کے ساتھ پیش کیا اُنھیںآج بھی ناظرین نہیں بھول پائے۔ ان میں سب سے پہلے کمال احمد رضوی کے لکھے ہو ئے ڈرامے "الف نون" کا ذکر آتا ہے جس کے مرکزی کردار میں کمال احمد رضوی کے ساتھ اداکار ننھا نظر آئے ۔70ء کی دہائی میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد 80ء کی دہائی کے آغاز میں دوسری دفعہ پھر نشر کیا گیا۔"سونا چاندی"، " آنگن ٹیڑھا" ،" خواجہ اینڈ سنز" اور" گیسٹ ہاؤس" اگلے اہم نام ہیں۔ اس دوران مصنف و شاعر اطہر شاہ خان عرف"جیدی " نے مزاحیہ ڈراموں سے اپنی پہچان بنائی۔ "ففٹی ففٹی"مزاحیہ خاکوں پر مبنی پروگرام 1979ء میں نشر کرنا شروع کیا گیا اور ایک مدت تک وہ ناظرین کا پسندیدہ کامیڈی پروگرام کہلایا۔

انگلش فلمیں ماضی میں پی ٹی وی کی نشریات کا اہم حصہ رہی ہیں ۔ 70ء سے 90ء تک کی دہائیوں کے دوران 8سے 9بجے کے درمیان تقریباً جتنی بھی انگلش فلموں کی سیریز پیش کی جاتی رہی ہیں وہ اُس وقت کے ناظرین کو آج بھی یاد ہیں ۔جن میں سے چند کے نام قابلِ ذکر ہیں مثلاً " سٹار ٹریک"," دی ایونجرز" ،ہالی وُڈ کے مشہور اداکار اور جیمز بانڈ کے ایک مشہور ہیرو "راجر مور" کی " دی سینٹ" جسکے ٹائٹل کے کارٹون کی بھی اپنی شہرت رہی اور اُس دور کے ہر طالبَ علم نے اُسکو اپنی کاپی کے صفحہ پر بنانے کی کوشش کی،" دی مین فارم انکل" ،"آئرن مین" ،" سکس ملین ڈالر مین"،"بائیونک وومن" ، "چپس"،"نائٹ رائیڈر"اور " ائیر وولف" ۔ 30منٹ دورانیہ کی مزاحیہ یادگار انگریزی فلموں میں"ہیرز لوسی"، جادُو سے بھرپور " بی ویچڈ"اور کامیڈی جاسوسی "گیٹ سمارٹ" مقبول ترین رہیں۔

فیچر فلمیں چاہے اُردو کی ہوتیں یا انگریزی کی پی ٹی وی کی طرف سے بہترین سے بہترین دکھانے کی کوشش کی جاتیں۔ہر ہفتے کے آخر میں ایک ہفتے اُردو فلم پیش کی جاتی اور دوسرے ہفتے انگریزی۔لوگ اُس رات اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر بڑے شوق سے وہ فلمیں دیکھتے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا گہ کہ پی ٹی وی گھرانوں کے جوڑ کا دور تھا۔کیونکہ زیادہ تر لوگوں کے گھر ٹی وی نہیں ہوتا تھا لہذا لوگ اپنے رشتے داروں کے گھر پر جا کر فیچر فلمیں دیکھتے اور اگلی صبح حلوا پوری کا ناشتہ بھی کرتے تھے۔
سٹیج شو کا ذکر ہو تو " ضیاء محی الدین شو"ہی سر فہرست نظر آئے گا جو ضیاء محی الدین کی میزبانی کے دوران اُنکے جملے " لگے بھی ٹھیکا" سے عروج پر رہا ۔یہی شو مشہورِ زمانہ اداکار "معین اختر اور بنگالی گلوکارہ روُنا لیلیٰ" کی پہچان بنا۔معین اختر اس پروگرام میں آئے ہوئے مہمانوں اور مختلف افراد کی انتہائی خوبصورت انداز میں نقلیں اُتارتے اور رونا لیلیٰ اپنی گائیکی سے شائقین کو متاثر کرتیں۔اسکے بعد 1975ء میں" طارق عزیز" کے کوئز پروگرام "نیلام گھر" نے پی ٹی وی کی وساطت سے سٹیج شو میں ایک نیا قدم رکھ دیا جو مقبولیت کے جھنڈے ہی گاڑتا چلا گیا۔جسکی کڑی آج بھی "طارق عزیز شو "کے نام سے طارق عزیز ہی پی ٹی وی سے پیش کر رہے ہیں۔

"کسوٹی " کے نام سے 20سوالوں میں جواب بوجھنے پر مشتمل ایک ایسا کوئز پروگرام مرتب کیا گیا کہ بعدازاں بلکہ آج بھی طلباء کے درمیان فارغ اوقات میں کھیلا جاتا ہے۔ حمایت علی شاعر اور پھر قریش پور اسکے میزبان رہے اور سوال بوجھنے والوں میں عبداللہ بیگ و افتخار عارف کی جوڑی اور پھر عبداللہ بیگ کے ساتھ غازی صلاح الدین کی جوڑی مشہور ہوئی۔اس دوران پی ٹی وی نے خواتین کی میزبانی کو بھی اہمیت دیتے ہوئے " خوش بخت شجاعت" کی میزبانی میں"مینا بازار"کے نام سے سٹیج شو کا آغازکیا۔جسکے بعد ذکر آتا ہے 1983ء میں " انور مقصود " کی میزبانی میں سٹیج شو"سلور جوبلی"کا۔اس ہی کے ایک پروگرام میں فلمسٹار" وحید مراد" سے مہمان کے طور پر جو انٹرویو کیا گیا۔ وہ شاید اُنکی زندگی کا آخری اَن ائیر انٹرویو تھا کیونکہ اُسکے بعد نومبر 83ء میں اُنکا انتقال ہو گیاتھا۔انور مقصود نے آنے والے سالوں میں مختلف ناموں سے مزید مزاحیہ پروگرام پیش کیئے جن میں اُنکے ہمراہ خصوصی طور پر معین اختر اور بشر یٰ انصاری بھی شامل ہوتے۔ (جاری ہے )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 174136 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
06 Dec, 2017 Views: 1199

Comments

آپ کی رائے