منچن آباد کی سیاست پہ ایک نظر

(Muhammad wajid aziz, Chishtian)
منچن آباد کی سیاست پہ ایک نظر

منچن آباد کی سرحد بھارت کے شہر فاضلکا سے ملتی ہیں یہ ایک نہایت قدیم شہروں میں شمار ہوتا ہے یہ ایک ٹاون اور بیس یونین کونسل پہ مشتمل ضلع بہاولنگر کا چوتھا بڑا شہر ہے ۔
منچن آباد اور بہاولنگر کا حلقہ 144 پہلے ایک ہی ہوتا تھا جہاں سے سید رفیق شاہ ، سید احمد شاہ ، میاں عبدلستار لالیکا سید ممتاز عالم گیلانی اور ڈاکٹر نور محمد غفاری ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں ، جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد 2002میں یہ حلقہ این اے 188بنا دیا گیا تھا ،
77کی دہائی میں جب بھٹو صاحب کا راج تھا تو یہاں سے سید رفیق شاہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر جنرل ضیا نے چند ماہ بعد ہی ملک میں مارشل لا نافظ کر کے بھٹو حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا سال 1985کے غیر جماعتی الیکشن میں یہاں سے سید احمد شاہ رکن قومی اسمبلی بنے ، جب 1988میں جب جنرل ضیا طیارے حادثے میں شہید ہو گئے تو محترمہ بنظیر بھٹو نے ملک وآپس آکر پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور الیکشن میں حصہ لیا پیپلز پارٹی نے زولفقار بھٹو شہید کی ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا اور محترمہ بنظیر بھٹو نے پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کی طرف سے وزیر اعظم منتخب ہوئیں منچن آباد سے بھی پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور ممتاز عالم گیلانی رکن قو می اسمبلی بنے انہوں نے بڑے سخت مقابلے کے بعد سید اصضر شاہ کو صرف دو ہزار ووٹوں سے شکست دی ممتاز عالم گیلانی نے 38919 جبکہ اصضر شاہ نے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پہ 36229 ووٹ لیئے جبکہ ڈاکٹر نور محمد غفاری 29000 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پہ رہے ۔ 1990 میں یہاں سے اسلامی جمہوری اتحٓاد نے ڈاکٹر نور محمد غفاری کو ٹکٹ دے دیا تو سید اصضر شاہ نے آزاد حثیت سے الیکشن لڑا اور پیپلز پارٹی کے ممتاز عالم گیلاانی کو بھاری مارجن سے شکست دی انہوں نے 50555 جبکہ ممتاز عالم گیلانی نے 42500 جبکہ نور محمد غفاری نے 33884 ووٹ لیئے 1993میں عبدلستار لالیکا نے دو حلقوں سے الیکشن لڑا چشتیاں میں وہ اپنے حریف میاں ممتاز متیانہ سے شکست کھا گئے جبکہ اس سیٹ سے انہوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ 80541 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ چھٹہ میں شامل ہونے والے سابقہ ایم این اے سید اصضر شاہ نے 59983 ووٹ لیئے ۔ 1997 میں یہاں سے نا تو عبدلستار لالیکا نے حصہ لیا اور نہ ہی سید اصضر شاہ نے مسلم لیگ ن نے یہاں سے ڈاکڑ نور محمد غفاری کو امیدوار بنا د دیا جبکہ مسلم لیگ چھٹہ نے یہاں سے سید راشد شاہ کو ٹکٹ دیا لیکن ڈاکڑ نو ر غفاری نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی انہوں نے 70015 جبکہ سید راشد شاہ نے 34065 ووٹ لیئے 2002 میں کی گئی نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس حلقہ کو الگ کر دیا گیا تھا اور اس حلقہ کو این اے ۱۸۸ بنا دیا گیا سال 2002 میں یہاں سے سید اصضر شاہ دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے وہ اسلامی جمہوری اتحاد سے مسلم لیگ چھٹہ اور پھر تیسری چھلانک مسلم لیگ ق میں لگائی انہوں سے 77362 ووٹ لیئے جبکہ دوسرے نمبر پہ پیپلز پارٹی کے محمد اکرم وٹو تھے جنہوں نے 21733 ووٹ لیئے ، 2008 میں یہاں انکا مقابلہ سابقہ ایم پی اے الحاج خادم حسین وٹو سے ہوا اس بار پھر سید اصضر شاہ نے اپنی پارٹی سے بغاوت کی مسلم لیگ ق نے اپنا ٹکٹ اس بار انکی جگہ خادم وٹو کو دیا تو انہوں نے آزاد حثیت سے الیکشن لڑا لیکن ناکام رہے خادم حسین وٹو نے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پہ 52981 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ سابقہ ایم پی اے شوکت علی لالیکا نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ 44861 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ اصضر شاہ 40191 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پہ رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ایم این اے نور محمد غفاری صرف 4538 ووٹ لے سکے خادم حسین صوبائ اسمبلی کی سیٹ پہ بھی کامیاب ہو گئے تھے جہاں پھر بعد میں انہوں سے استعفی کے بعد اپنے بھائی فدا حسین وٹو کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دلوا کے الیکشن جتوایا تھا
یاد رہے خادم حسین وٹو الیکشن جیتنے کے بعد مسلم لیگ ق چھوڑ کے مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے
سال 2013 کے جنرل الیکشن میں سید اصضر شاہ نے ایک بار پھر آزاد حثیت سے الیکشن لڑا جبکہ خادم حسین وٹو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ الیکشن میں اترے ایک بہت سخت مقابلے کے بعد سید اصضر شاہ نے خادم حسین وٹو کو تقریبا 2300 ووٹوں سے شکست دی
سید اصضر شاہ نے 90361 جبکہ خادم کالوکا وٹو نے 88027 ووٹ لیئے اگر صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کا جائزہ لیا جائے تو پہلے یہاں ایک سیٹ ہوا کرتی تھی مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہاں بھی ایک نشست کا اضافہ کر دیا گیا تھا ، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 225 میں
سال 1988 کے ہونے والے الیکشن میں اسلامی جمہوری اتحاد کے خادم وٹو نے پیپلز پارٹی کے اکرم وٹو کو ہرایا خادم وٹو نے 26212 جبکہ اکرم وٹو نے 21491 ووٹ لیئے ، 1990 میں یہاں ایک بار پھر مقابلہ خادم وٹو اور پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے محمد سردار خان وٹو سے پڑا جو کے سابقہ ایم پی اے سردار اقبال خان کے بیٹے تھے لیکن اس الیکشن میں بھی خادم وٹو نے میدان مار لیا انہوں نے 32669 ووٹ جبکہ سردار خان نے 28220 ووٹ لیئے ، 1993 کے الیکشن میں دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی پارٹی بدل لی خادم حسین وٹو مسلم لیگ ن چھوڑ کے مسلم لیگ چھٹہ میں چلے گئے جبکہ سردار محمد خان وٹو پیپلز پارٹی چھوڑ کے مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے اس مقابلے میں خادم حسین ووٹو کو بھاری اکژیت سے ہار ملی سردار خان وٹو نے 43227 جبکہ خادم وٹو نے 20146 ووٹ لیئے سال 1997 میں سردار خان وٹو نے ایک بار پھر خادم وٹو کو ہرا دیا اس الیکشن میں سردار خان مسلم لیگ ن ہی جبکہ خادم وٹو آزاد الیکشن لڑ رہے تھے جبکہ اصضر شاہ نے اس الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی سیٹ پہ بھی مسلم لیگ چھٹہ کی طرف سے الیکشن لڑا تھا مگر صرف 5000 ووٹ لے سکے تھے ، 2002 میں منچن آباد میں بھی صوبائی اسمبلی کی دو سیٹ کر دی گئی پی پی 277 میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پہ حاجی خ ادم حسین وٹو نے مسلم لیگ ن کے حامد حسن وٹو کو ہرایا خادم وٹو نے 45495 جبکہ حامد حسن وٹو نے صرف 12323 ووٹ لیئے جبکہ دوسری سیٹ پی پی 278 سے سابقہ ایم این اے رفیق شاہ کے بیٹے سید نذر شاہ نے نیشنل آلائنس کے ٹکٹ پہ کامیابی حاصل کی انہوں نے 27086 ووٹ جبکہ انکے قریب ترین حریف مسلم لیگ ق کے طارق امین ہوتیانہ تھے جنہوں نے 21201 ووٹ لیئے ، سال 2008 کے الیکشن میں یہاں سے خادم حسین وٹو قومی اور صوبائ اسمبلی دو سیٹوں پہ کامیاب ہوئے تھے پی پی 277 میں خادم حسین وٹو نے کامیابی حاصل کی مگر انہوں نے یہ سیٹ چھوڑ کے اپنے بھائی فدا حسین وٹو کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ الیکشن لڑوایا اور کامیاب ہوئے جبکہ پی پی 278 سے پیپلز پارٹی کے طارق امین ہوتیانہ نے سابقہ ایم پی اے سید نذر شاہ کو شکست دے کر کامیاب ہو ئے تھے ، سال 2013 کے جنرل الیکشن میں یہاں سے ایک بار پھر خادم حسین وٹو کے بھائی فدا حسین وٹو نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ کامیابی حاصل کی مگر خود خادم حسین وٹو سید اصضر شاہ سے سخت مقابلے کے بعد قومی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے تھے ، فدا حسین وٹو نے 47357 جبکہ آزاد امیدوار طارق عثمان گھدوکا وٹو نے 42763 ووٹ لیئے ۔
جبکہ پی پی -278 سے بھی مسلم لیگ ن کے شوکت علی لالیکا نے کامیابی حاصل کی انہوں نے سابقہ ایم پی اے سید نذر شاہ کو ہرایا
انہوں نے 38673 جبکہ نذر شاہ نے 27888 ووٹ حاصل کیئے جبکہ سابق تحصیل ناظم بہاولنگر سید قلندر حسین شاہ صرف 4887 ووٹ لے سکے جبکہ پیپلز پارٹی کے سابقہ ایم پی اے طارق امین ہوتیانہ بھی 4426 ووٹ لے سکے تھے ،
اب علاقہ کی موجودہ سیاسی صورتحال پہ نظر دوڑائی جاے تو اصضر شاہ اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر اپنی پارٹی سے بغاوت کر چکے ہیں اور یہ انکی پانچویں بغاوت ہے عین ممکن ہے انکی اگلی منزل پاکستان تحریک انصاف ہو کیونکہ تحریک انصاف کے پاس اس علاقہ میں کوئی ایسا خاص امیدوار نہیں ہے سید نذر محمود شاہ جو کے سابقہ ایم این اے سید رفیق شاہ کے بیٹے ہیں وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں اور وہ بھی پارٹی سے ٹکٹ لینے کی کوشش میں ہیں اور عین ممکن ہے کے اگر قومی نہیں تو وہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ حاصل کر لینگے جبکہ مجھے لگ رہا ہے تحریک انصاف سید اصضر شاہ کو ٹکٹ دے دے گی کیونکہ ایک بڑا سیاسی تحربہ رکھتے ہیں اور علاقہ کی اہم سیاسی شخصیا ت میں شامل ہو تے ہیں ان سے بہتر تحریک انصاف کے پاس نہں ہوگا
جبکہ دوسری طرف انکے درینہ حریف وٹو برادان لگتا ہے اس بار بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ ہی میدان میں اتریں گے یاد رہے سابقہ ایم این اے اور صوبائی وزیر رہنے والے خادم حسین وٹو کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے اب انکے جانشین انکے بھائی فدا حسین وٹو یا پھر عبدلغفار وٹو قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ سکتے ہیں اور سید اصضر شاہ کو ٹف تائم دینگے کیونکہ علاقہ میں وٹو برادری کثیر تعداد میں موجود ہے اور وہ حلقہ میں ایک بڑا اثرو رسوخ بھی رکھتے ہیں اسلیئے سید اصضر شاہ کے لیئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے ، اگر سید اصضر شاہ کو تحریک انصاف کی ٹکٹ مل جاتی ہے تو سید اصضر شاہ کو ایک برتری حاصل ہو جائے گی کیونکہ مسلم لیگ ن نے اپنا ممبران اسمبلی کو دل کھول کے فنڈ دے رکھے ہیں جس سے علاقوں میں کام بھی کروائے گئے ہیں تو تحریک انصاف کی پہلئ ترجیح ہوگی کے مسلم لیگ ن چھوڑ کے آنے ولے اراکین اسمبلی کی ٹکٹ فراہم کیئے جائیں کیونکہ عمران خان ہر صورت اگلے الیکشن میں کامیابی چاہتے ہیں اسلیئے وہ ہر اس شخص کو جسکا ماضی اچھا یا برا ہے سبکو اپنے ساتھ شامل کر رہے ہیں لیکن یہاں سے پارٹی کی بجاے زیادہ تر شاہ ،وٹو ، جوئیہ برادری کا ہے جو کے برادری بیس پے ہی دیا جایا ہے تو یہاں اب بھی زیادہ مقابلہ مجھے سید اصضر شاہ اور عبدلغفار وٹو میں ہوتا نظر آرہا ہے بے شک تحریک انصاف اصضر شاہ کو ٹکٹ دے یا نا دے وہ اگلے الیکشن میں بھی مظبوط امیدوار ہونگے جبکہ خادم حسین وٹو کی وفات کے بعد وٹو فیملی کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے جسکا اثر وٹو فیملی کی سیاست پہ بھی گہرا پڑے گا لیکن وہ یہاں اصضر شاہ کو سخت مقابلہ دینگے جبکہ صوبائی اسمبلی پہ بھی یہاں وٹو فیملی اگرعبدلغفار وٹو کو قومی اسمبلی کی سیٹ پہ کھڑا کرتی ہے تو صوبایئ اسمبلی سے بھی وہ یہاں سے پھر فدا حسین وٹو جو کہ موجودہ ایم پی ا ے ہیں انکو ہی آگے لائنگے اس سیٹ پہ اب سابقہ ایم پی اے مسلم لیگ ن سردار خان گدھوکا وٹو کے عزیر عثمان گدھوکا بھی امیدوار ہیں وہ بھی یہاں سے ایک مظبوط امیدوار ہیں خیر یہاں اس حلقہ میں قومی اور صوبائی اسمبلی میں کانٹے کا جوڑ پڑے گا تحریک انصاف کو چاہے جتنی بھی سپورٹ ملے یہاں پارٹی سے زیادہ برادی کو دیکھا جاتا ہے صرف نوجوان نسل ہی آجکل پارٹی کو اہمیت دے رہی ہے لیکن زیادہ تر لوگ زات پات کو ہی دیکھ کر ابھی تک ووٹ دیتے ہیں اور یہاں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ 278 میں بھی مسلم لیگ ن کے شوکت علی لالیکا اور تحریک انصاف کے سید نذر شاہ میں کانٹے کا جوڑ پڑے گا شوکت لالیکا سابقہ وفاقی وزیر عبدلستار لالیکا کے کزن ہیں جبکہ موجودہ ایم پی اے بہاولنگر عالم داد لالیکا انکے بھتیجے ہیں کچھ افوائیں گردش کر رہی تھیں کے شاید عالم داد لالیکا مسلم لیگ ن چھوڑ کے پی ٹی آئی میں جا رہے ہیں لیکن اسکی انہوں نے تردید کر دی ہے اگر وہ جاتے ہیں تو پھر ممکن تھا شوکت لالیکا بھی ساتھ ہیں جائیں لیکن اسکے چانسز بھی کم ہیں کیونکہ اس حلقہ سے نذر شاہ تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہاں بھی ایک بہت زبردست مقابلہ ہوگا اور کسی کی کامیابی کا قبل ازوقت دعوی کرنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ جیسا کے میں نے پہلے زکر کیا کے یہاں ووٹر اپنی برادری کو ترجیح دیتا ہے یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے غریب اور وڈیرہ نظام کے نیچے دبہ لوگ صرف اپنے بڑوں کے کہنے پہ ہی ووٹ دیتے ہیں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا حصہ ہوں اس میں کو ئی شک نہیں کے تحریک انصاف نے نوجوان نسل کو اپنی جانب راغب کیا ہے مگر اسکا زیادہ فائدہ شہروں کی حد تک ہے جبکہ پاکستان کی ستر فیصد آبادہ دیہاتوں میں قیام پذیر ہے لیکن یہاں تحریک انصاف کے امیدوار عمران خان کے نام پہ ایک اچھا خاصہ ووٹ لیکر اپ سیٹ بھی کر سکتے ہیں چاہے وہ کو ئی بھی امیدوار ہو

یہ کالم میری اپنی سیاسی رائے ہے کسی کا اس سے متفق ہونا یہ نا ہونا ضروری نہیں
محمد واجد عزیز چوہدری ( تحریر )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad wajid aziz

Read More Articles by Muhammad wajid aziz: 17 Articles with 8387 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2017 Views: 700

Comments

آپ کی رائے