علم حاصل کرنا مسلمانوں کا اوّلین فرض ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
لوگ سیدھا ہی کہہ دیتے ہیں کہ زرداری مہنگائی بہت کر رہا ہے اور بجلی کی لوڈ شیڈننگ کر رہا ہے اس کو قتل کرو تو ہم مانیں گے کہ جہاد ہے یا فلانا وزیر فلانا عہدے دار یہ یہ ظلم کر رہا ہے ایسے کرپٹ سیاست دانوں پر حملہ کرکے انہیں قتل کرو تو ہم مانیں کہ آپ لوگ جہاد کر رہے ہو آپ لوگ کشمیر میں کیا لینے جاتے ہو جب یہاں ہی غریب لوگ سیاست دانوں اور جاگیرداروں کے ظلموں کا شکار ہیں ان کو پہلے ظلم سے بچانا چاہیے تب جہاد کا فریضہ ادا ہوگا یہ سب باتیں لوگ اس لیے کرتے ہیں کہ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں جہاد کی تعلیم ہی نہیں دی جاتی ہے بلکہ جہاد کا نام لینا ہی سکولوں کلجوں اور یونیورسٹیوں میں جرم شمار کیا جاتا ہے بلکہ جو کوئی مجاہدین کو فنڈ وغیرہ دے تو اسے اسکے تعلیمی ادارے سے نکال باہر کیا جاتا ہے کہ اس لڑکے کے دہشت گردوں کے ساتھہ تعلقات ہیں

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرو تو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس نے تکبّر کیا اور مردود ہوا-

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السّلام کو نام سکھائے جن کے بارے میں فرشتوں کو علم نہیں تھا اللہ تعالٰی نے علم کے ذریعے آدم علیہ السّلام کو فرشتوں اور تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی اور تمام بنی آدم پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا اور خاص طور پر پیغمبر آخر الزّماں کی امّت پر علم حاصل کرنا اوّلین فرض قرار دیا ہے اور ارشاد ربّانی ہے ولقد یسّرناالقرآن لذّکر فھل من مّدکر ترجمہ ہم نے قرآن کو آسان کیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کہ ہے کوئی سوچے سمجھے -- یعنی یہ حکم ہورہا ہے تفہیم دین کے لیے سمجھداری حاصل کرنے کے لیے دین اسلام کی سمجھہ حاصل کرنے کے لیے قرآن پاک کی تلاوت کریں قرآن پاک کو پڑھیں اور اللہ کی عبادت کریں اس لیے ہم سب مسلمانوں کا فرض اوّلین ہے کہ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں اب ذرا میں اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ فرض اوّلین کیا ہوتا -

فرض اوّلین کی بات کی جائے تو میں یہاں ایک مثال دے کر بات سمجھانا چاہوں گا کہ کس طرح سے معاشرے میں کرپشن اور فرقہ پرستی پھیلانے والے ابہام پیدا کر دیتے ہیں کہ علم حاصل کرنا اوّلین فرض ہے تو احادیث میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ لشکر اسلام میدان جہاد میں پڑاو ڈالے ہوئے تھا ایک شخص جضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسلام قبول کیا اور پھر میدان جہاد میں جاکر کود پڑا اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر لیا تو اس نے تو اوّلین فرض پورا نہیں کیا کہ وہ پہلے علم حاصل کرتا اور بعد میں جہاد کرتا اور دوسرے اعمال کرتا اور جب جضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کتنا خوش قسمت انسان ہے کہ اس نے عمل قلیل کیا اور اجر بہت بڑا پا گیا کہ اس کو شہادت نصیب ہو گئی نا اسے نمازیں ادا کرنی پڑیں نا روزہ نا صدقہ خیرات کلمہ پڑھا اور میدان جہاد میں کود پڑا اور کافروں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گیا یعنی اس نے نا کسی سکول میں پڑھا نا کسی کے پاس نوکری کرنی پڑی نا کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا نا کو ئی تکلیفیں اٹھا نی پڑیں اگر علم حاصل کرنا اوّلین فرض ہوتا تو ضرور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ ہدایت کرتے کہ اے میرے صحابی پہلے تعلیم حاصل کرو اور پھر جہاد میں شامل ہونا

یہاں دو طرح کے لوگ اپنی اپنی دو الگ الگ رائے دیتے ہیں ایک تو کہتے ہیں کہ بغیر تعلیم حاصل کیے جہاد میں جانا خود کشی کے مترادف ہے اور دوسری رائے یہ عوام میں پائی جاتی ہے کہ اپنے ملک میں ہی جہاد کرنا چاہیے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے لوگوں کے ساتھہ جہاد کرنا چاہیے اور برے لوگوں کو مار ڈالنا چاہیے جہاد کے لیے تعلیم کی ضرورت نہیں ہے اور جسے مجرم پایا اس پر حملہ کرکے قتل کر دینا تاکہ اللہ کاحکم نافذ ہو جائے اور اس طرح سے معاشرے میں افراط وتفریط پھیلی ہوئی ہے لوگ سیدھا ہی کہہ دیتے ہیں کہ زرداری مہنگائی بہت کر رہا ہے اور بجلی کی لوڈ شیڈننگ کر رہا ہے اس کو قتل کرو تو ہم مانیں گے کہ جہاد ہے یا فلانا وزیر فلانا عہدے دار یہ یہ ظلم کر رہا ہے ایسے کرپٹ سیاست دانوں پر حملہ کرکے انہیں قتل کرو تو ہم مانیں کہ آپ لوگ جہاد کر رہے ہو آپ لوگ کشمیر میں کیا لینے جاتے ہو جب یہاں ہی غریب لوگ سیاست دانوں اور جاگیرداروں کے ظلموں کا شکار ہیں ان کو پہلے ظلم سے بچانا چاہیے تب جہاد کا فریضہ ادا ہوگا یہ سب باتیں لوگ اس لیے کرتے ہیں کہ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں جہاد کی تعلیم ہی نہیں دی جاتی ہے بلکہ جہاد کا نام لینا ہی سکولوں کلجوں اور یونیورسٹیوں میں جرم شمار کیا جاتا ہے بلکہ جو کوئی مجاہدین کو فنڈ وغیرہ دے تو اسے اسکے تعلیمی ادارے سے نکال باہر کیا جاتا ہے کہ اس لڑکے کے دہشت گردوں کے ساتھہ تعلقات ہیں

اسلام میں جہاد کی تعلیم اور تربیّت اسلحہ سیکھنا نشانہ بازی سیکھنا الغرض ایسی تمام صلاحیّتیں حاصل کرنا جن سے دشمن کی افواج کو شکست فاش دینے میں کوئی مشکل نا ہو ایسی تمام قوّتیں حاصل کرنا جن سے کافروں کو شکست دے کر اسلام کو فتح دلائی جاسکے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ اے مومنو کافروں کے خلاف قوّت حاصل کرو جہاں تک تمہارا بس چلے دور حاضر میں جس جس قسم کے جدید اسلحہ جات ہیں جو کافروں کے بڑے بڑے ملکوں کے پاس موجود ہیں ان سے بڑھ کر ہی تمام قسم کی فوجی قوّتیں مسلمانوں کے پاس موجود ہونی چاہیئیں اور یہ حکم تمام مومنوں کے لیے ہے کہ سب کے سب اور تمام کے تمام مسلمان مومن جہادی اور فوجی قوّتیں حاصل کریں اور ہر قسم کے اسلحہ کی قوّتیں حاصل کریں اور ان سب جیزوں میں نمایاں چیز تعلیم کی ہے کہ تعلیم ایک بہت بڑی قوّت ہے لیکن موجودہ تعلیم تعلیم نہیں بلکہ کاروبار ہے کہ سب کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہمارا بچّہ یا بچّی تعلیم حاصل کرکے کمانے لائق ہو جائے اور ایک پرامن شہری بن جائے اور اس طرح سے سب لڑکے لڑکیوں کو کیچوا بنایا جارہا ہے مگر جو کافروں کا وفادار اور اسلام اور اسلامی ممالک کا غدّار ہو اس کو ہر قسم کی سہولیات دی جاتی ہیں ان کو اسلحہ بھی چلانے کی اور دوسری مشینیں چلانے کی تعلیم دی جاتی ہے ڈرائیور پائلٹ آپریٹر اور کمپیوٹر پروگرامر بنایا جاتا ہے -

سب سے بڑھ کر اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ نیک پارسا اور متّقی پرہیزگار لوگوں کو عزّت اورقدر و منزلت دینی چاہیے اور ان کو جو کلمہ اور نماز اور جہاد جیسے فرائض پر دل سے اور اخلاص اور نیک نیّتی کے ساتھہ عمل کرتے ہیں ان کو حکومتی سپورٹ حاصل ہونی چاہیے اور دیگر حقوق و فرائض پر کاربند بنانا چاہیے اور ان کو سنّت کے مطابق داڑھی رکھنے اور کبیرہ گناہوں سے بچنے اور نماز ادا کرنے اور ملک و قوم سے وفاداری کرنے کلمہ سے وفاداری کرنے زکواۃ کے نظام کو کامیاب بنانے پر وظیفے اور انعامات ملنے چاہئیں

اسلامی تعلیمات حاصل کرنے والوں اور ان کے ساتھہ جو اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کرنا چاہتے ہیں اور جہاں تک بس چلے تبلیغ اور جہاد کا فریضہ ادا کرتے ہیں ان کو حکومتی امداد ہر لحاض سے دی جانی چاہیے مالی جانی اخلاقی مالی امداد وظائف اور تحائف کی صورت میں ہو زمین جائداد روپیا پیسہ کوٹھیاں کاریں عہدہ اچھی نوکری کی صورت میں ہو جانی امداد نوکروں چاکروں کی صورت میں ہونی چاہیے اور اخلاقی امداد یہ ہو ان کا ہر بندہ سرکاری اور غیر سرکاری عزّت و احترام کرے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی ان کے مال جان عزّت کو نقصان نا پہنچائے اور نا ان پر کائی ظلم کرنے کے بارے میں ہی سوچے ایسے نیک پارسا متقّی پرہیزگار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کے لیے ہر شہر میں اعلیٰ اور بلند پائے کے سکول کالج اور یونیورسٹیاں بنائی جانی چاہیئیں جن میں ان کے بچّے پڑھیں تو ان کو وظیفہ بھی دیا جانا چاہیے تاکہ ایسے لوگ دوسرے مذاہب والوں کی بھی ہدایت کا ذریعہ بنیں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84423 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Dec, 2017 Views: 835

Comments

آپ کی رائے