کوئی ہے جو اُن کی فریاد سنے؟ (آخری قسط)

(Sami Ullah Malik, )

ٹرائل انٹرنیشنل کوسوئس سماعت کے تعطل سے کچھ مسائل ہیں۔ یونیورسل جسٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگی جرائم کاارتکاب کرنے والوں کااحتساب کرے تاہم ٹرائل کے الزامات غیر واضح ہیں۔ الزام ہے کہ رفعت الاسدنے دس ہزارسے لیکرچالیس ہزارافرادکوہلاک کیا۔ فرض کریں میں کہتاہوں کہ ہلاکتوں کی تعدادبیس ہزار تھی لیکن عین ممکن ہے کہ یہ صرف دس ہزارہو۔ لیکن چالیس ہزارکے اعداد و شمارکہاں سے آئے ہیں؟بالکل اسی طرح ایمنسٹی نے شامی صدر(جورفعت کابھتیجاہے)پرپانچ ہزارسے تیرہ ہزارپھانسیوں کاالزام لگایاتھا، تعدادمیں اتنافرق کیوں ہے؟کہیں ایساتونہیں ہیڈ لائنزکوسنسنی خیز بنانے کیلئے ہلاکتوں کی تعدادبڑھائی جاتی رہی ہو؟

منافقت کی اس سے بڑی مثال اورکیاہوگی کہ یقیناً ہم اُن افرادکوکسی طورپرجنگی جرائم کی پاداش میں عدالت کےکٹہرے میں کھڑانہیں کریں گے جنہوں نے۲۰۰۳ء کی جنگ سے پہلے عراق پرپابندیاں لگاکرکم وبیش پانچ لاکھ بچوں کوموت کے منہ میں دھکیل دیااورشہروں کے شہرکھنڈرات میں تبدیل کردیےجبکہ۳اپریل ۲۰۰۴ء کوبی بی سی نیوزکے مطابق جنرل پاؤل نےاقوام متحدہ میں عراق کے ثبوت کی غلطی کوقبول کرتے ہوئے تسلیم کیاکہ"گزشتہ سال فروری میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوعراق نے حیاتیاتی ہتھیار بنانے کیلئے موبائل لیبارٹریز تیارکرنے کے بارے میں جوبتایاتھاوہ معلومات ٹھوس شواہدکی بناء پرنہیں تھیں جس کی بناءپرعراق پرحملہ کیاگیا"۔اسی طرح۲۰مارچ ۲۰۱۳ءکو ریٹائرڈامریکی جنرل پال ایٹن نے سی سی ٹی وی گلوبل کے سامنے اور۴ا اکتوبر ۲۰۱۴ء کوایک دوسرے ریٹائرڈامریکی جنرل"بوائے کن"نےمیڈیاکے سامنے اعتراف کرتے ہوئے ہوئےعراق جنگ کوغلطی قراردیااوریہ تمام معلومات اوردیگر ثبوت آج بھی "یوٹیوب"پرمحفوظ ہیں۔

۲۴اکتوبر۲۰۱۵ء کومشہوربرطانوی اخبار"انڈی پینڈنٹ"کے مطابق برطانیہ کےسابق وزیراعظم ٹونی بلیئرنے"چلکوٹ انکوائری بورڈ"کے سامنےعراق جنگ پر نہ صرف اعتراف جرم کرکےبرملامعافی مانگی بلکہ۲۰مئی۲۰۱۵ءکومشہورامریکی اخبار"یوایس ٹوڈے"میں سابقہ صدربش کے بھائی نے بھی اعتراف کرتے ہوئے اسے تباہ کن غلطی قراردیااسی طرح ۱۱جون۲۰۱۲ء کے مشہورامریکی جریدے "اٹلانٹک"میں جیفری اسمتھ نے"جنگی دہائی"کے نام سےملٹر ی رپورٹ کاایک اقتباس نقل کیاہے جس میں خوداعلی امریکی جنرلوں نے عراق اورافغانستان حملوں کوایک بڑی غلطی قراردیاہے۔مشہورامریکی چینل"فوکس نیوز"کے مطابق خودامریکی صدرٹرمپ نے۱۴مئی۲۰۱۶ء کواپنی انتخابی مہم میں عراق جنگ کو جونئیربش کی فاش غلطی قراردیااوراب بھی وہ اپنے اس موقف پرقائم ہیں۔کیا ان اعترفی بیانات کے بعدہیگ عدالت ان کے وارنٹ جاری کرکے ان کوطلب کرے گی؟ایسا محض اس لیے بھی نہیں کریں گے کہ اس کامطلب یواین کوموردِ الزام ٹھہراناہوگااوران تمام افرادکوبھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑاہوناپڑے گا جنہوں نے اقوام متحدہ میں کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے ان بہیمانہ ظلم کا ارتکاب کیا۔

اس سے پہلے بھی ایک شخص کے دامن پرلاکھوں عراقی باشندوں کے خون کے چھینٹے پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں دنیاسینئر بش کے نام سے یاد کرتی ہے۔کیاہم انہیں بدترین جنگی جرائم کامرتکب قراردے سکیں گے اورانہیں بھی کٹہرےمیں دیکھیں گے؟یقین کریں میں جنگی جرائم کے ٹرائل کے خلاف نہیں۔ رفعت کو سزا ضرورملنی چاہئے لیکن پھرداعش کی سرپرستی کرنے والے بھی مجرموں کے کٹہرے میں بلائے جانے ضروری ہیں۔ انتہاپسندوں کے ہاتھوں پر بھی دنیا بھر کے لاکھوں افراد کاخون ہے، لیکن ان کے سرپرستوں کوتلاش کرنا شروع کردیا تو کئی امریکی صدر،برطانوی وزیراعظم اورمشرق وسطیٰ کے مقدس حکمران کٹہرےمیں کھڑے ہو جائیں گے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک کشمیرمیں یکم جون۱۹۸۹ءسے لیکر۳۱/اکتوبر ۲۰۱۷ءتک۹۴۸۴۶بے گناہ کشمیریوں کوشہید،۷۰۹۹/افرادکو حراست میں لیکرقتل کیا گیا۔۴۲۷۴۵عام کشمیری شہریوں کوبلاجوازگرفتارکیاگیا،کشمیریوں کی۱۰۸۴۰۸عمارات اوردیگر املاک کوتباہ کردیاگیاجس کاکوئی معاوضہ نہیں دیاگیا۔اسی طرح اس مدت میں۲۲۸۵۹/ کشمیری خواتین کوبیوہ کیاگیا،۱۰۷۶۶۶/بچوں کویتیم کردیاگیااور سب سے بڑا گھنائوناجرم یہ بھی ہے کہ۱۱۰۲۱/کشمیری خواتین کوجبری بے آبروکیاگیا۔ اس کے علاوہ برہان وانی کی شہادت کے بعدسینکڑوں کشمیری نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کوپیلٹ گن کے غیرقانونی اورغیرانسانی استعمال سے بصارت سے محروم کردیاگیا۔ اس وقت تمام حریت رہنمایاتوجیلوں میں ہیں یاپھران کوگھروں میں نظربندکیاہواہے۔پچھلے کئی برسوں سے ضعیف اورشدیدعلیل رہنما جناب سیدعلی گیلانی کوگھرمیں نظربندکررکھاہے جہاں تمام انسانی سہولتوں کا بھی فقدان ہے اورکشمیری مجاہدہ آسیہ اندرابی کے شوہرڈاکٹرقاسم کوپچھلے ۲۴سالوں سے جیل کی کوٹھڑی میں بندکررکھاہے اورخودآسیہ اندرابی جوکہ مختلف عوارض میں مبتلاہیں،ان کوپہلے جموں کی بدترین جیل اوراب شدیدعلالت کی بناپرکشمیرکی جیل میں منتقل کیاگیاہے جہاں بے شمارصعوبتوں میں مبتلا کرکے ان کے اصولی مؤقف کی سزا دی جارہی ہے۔اسی طرح حریت کے ایک اوررہنماجموں وکشمیرمسلم لیگ کے مسرت عالم کوبھارتی عدالت نے ۲۶/اکتوبر کورہاکرنے کاحکم دیا تھا لیکن ان کودوبارہ۱۰نومبر۲۰۱۷ء کو گرفتارکرکے کوٹ بھلوال جیل جموں میں بھیج دیاگیاہے۔یادرہے کہ مسرت عالم کواب تک تین درجن سے زائدمرتبہ گرفتار کرکے مودی سرکارکی جمہوریت نے اپنے منہ پرایسا طمانچہ رسیدکیاہے جس کاجواب ان کی اپنی ہی تاریخ محفوظ رکھے گی۔

۲۱ستمبر۲۰۱۷ء کوبارہمولہ کے پیدائشی طورپرچلنے پھرنے سے قاصرومعذور، مزیدکئی بیماریوں میں بھی مبتلااورلگاتارادویات لینے پرمجبو۳۵برس کے تنویر احمدکے جب عدالت نے رہائی کے احکام صادرکئے توپولیس اورسول انتظامیہ نے دو بارہ سیفٹی ایکٹ نافذ کرکے اسے کورٹ بلوال جیل جموں منتقل کردیا ۔ جب میڈیا میں اس کے حوالے سے خبر چھپی تو دوسرے ہی دن پولیس نے اس خبرکاتوڑکرتے ہوئے شرمناک رویہ اختیارکرتے ہوئے اس معذور شخص پربے شمارجھوٹے الزامات عائدکرتے ہوئے بیان جاری کردیاکہ اس کاامن وقانون کو درہم برہم کرنے میں اہم کرداررہا ہے۔اس نے اپنے ٹراسیکل(Tricycle) پر جھنڈے چڑھاکرلوگوں کواحتجاج کرنے پرابھارا،اپنے گینگ کے ساتھ مل کر چار ٹرکوں کوہائی جیک کیااوران سے پتھراتارکرسڑکوں پرڈال دیاتاکہ پولیس کو شر پسندوں کے تعاقب سے روکاجاسکے اوربڑے بڑے پرتشددجلوسوں کی قیادت کرنے اورحدیہ کہ ایک قدآورمزاحمتی قائدکوجبراًایل او سی کی جانب مارچ کرنے پرمجبورکیا۔سید علی گیلانی،میرواعظ اوریاسین ملک نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ،اوراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نام مکتوب میں عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے ان معاملات کانوٹس اوربروقت مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیسے ایک معذورانسان موبائل فون ٹاورپرجھنڈاچڑھانے،پتھروں سے لدے ٹرکوں کو ہائی جیک کرنے، پرتشدد جلوسوں کی قیادت کرنے اورحد یہ کہ ایک قدآورمزاحمتی قائدکوجبراًایل اوسی کی جانب مارچ کرنے پرمجبورکرسکتاہے؟

آپ کوپتاہے کہ یہی اصل مسئلہ ہے۔استعماری دنیامیں قانون کی نظروں میں سب برابرنہیں ہوتے۔ان کے دہرے معیارہیں جس کے مطابق ان کے جانوربھی تیسری دنیاکے عوام سے بہترحقوق کے مالک ہیں ۔اس وقت کشمیرکے شہری بھی انصاف کے طلبگار ہیں۔ کوئی ہے جواُن کی فریاد سنے؟ ایک لاکھ کے قریب ہلاکتیں وشہادتیں، ان گنت زخمی، کوئی علاج معالجہ نہیں۔ ظلم وتشددسے مرتے ہوئے بچے،انسانیت کے ساتھ روارکھی جانے والی اس سفاکی کی داد رسی کس عدالت میں ہوگی؟کیاہیگ کی عدالت انہیں انصاف مہیاکرسکے گی؟یہ ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے جوان کے ضمیرکاہمیشہ تعاقب کرکے ان کو کچوکے لگاتا رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225726 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2017 Views: 333

Comments

آپ کی رائے