پاکستان ٹیلی ویژن : رفاقتوں کا سفر "ناظرین کیلئے ناقابلِ فراموش" حصہ سوم (آخری)

(Arif Jameel, Lahore)
موسیقی کی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بچوں سے لیکر بڑوں تک کیلئے ایسے پروگرام ترتیب دیئے گئے جنکی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔موسیقار سہیل رعنا کی میزبانی میں " کلیوں کی مالا "بعد میں نئے نام" سنگ سنگ چلیں" میں بچوں کو سُر و سنگیت۔۔۔۔کھیلوں کا شعبہ ہو اور اُن کھیلوں میں کرکٹ ،ہاکی و سکوائش ۔۔۔۔9بجے کاخبرنامہ ہو اور پاکستان کی عوام پی ٹی وی کے سامنے۔۔۔۔خصوصی و ڈاکومینٹری نشریات میں بھی اس ادارے نے اپنا ایک مقام قائم رکھا ہوا ہے۔ملک میں جب 1970ء کے عام انتخابات۔۔۔۔خراجِ تحسین۔۔۔۔

چند یادگار تصاویر ٣

موسیقی کی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بچوں سے لیکر بڑوں تک کیلئے ایسے پروگرام ترتیب دیئے گئے جنکی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔موسیقار سہیل رعنا کی میزبانی میں " کلیوں کی مالا "بعد میں نئے نام" سنگ سنگ چلیں" میں بچوں کو سُر و سنگیت کا سبق دیا جاتا۔فلمی گانوں کیلئے 70ء کی دہائی میں " ہرتان ہے دیپک" اور 80کے عشرے میں ملکہ ترنم نور جہاں کا " ترنم " عوام میں مقبول رہا۔اسکے علاوہ معروف گلوکاروں کی آوازوں میں غزلوں و ملی نغموں کا گلدستہ پی ٹی وی کی عام و خصوصی نشریات کا حصہ رہا۔
کھیلوں کا شعبہ ہو اور اُن کھیلوں میں کرکٹ ،ہاکی و سکوائش ۔جن میں پاکستان کے کھلاڑیوں کا اپنا ہی مقام رہاکے میچوں کی کمنٹری ریڈیو پر تو ایک عرصہ سے سُنی جارہی تھی لیکن پی ٹی وی کی انتظامیہ نے جلد ہی وہ سہولیت حاصل کر لیں جنکے تحت زیادہ تر یہی کوشش کی جاتی کہ عوام کو براہِ راست میچ سے لُطف اندوز کیا جائے۔لہذا واقعی اُنکی کوششیں رنگ لائیں اور 1980ء کے بعد وہ دور آہی گیا کہ دُنیابھر میں کھیلے گئے کسی بھی پاکستانی میچ کو براہِ راست مکمل دکھایا جاتا۔اس سے پہلے بیرونِ ملک میں کھیلے گئے کرکٹ میچ چند مقرر کیئے گھنٹوں میں دکھایا جاتا تھا اور باقی میچ ریڈیو پاکستان کی طرف سے براہِ راست پیش کی گئی کمنٹری سے سُنا جاتا۔

9بجے کاخبرنامہ ہو اور پاکستان کی عوام پی ٹی وی کے سامنے نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اس شعبے کو تو اس ادارے نے آغاز سے ہی اہمیت دی۔نشریات کے شروع ہونے کے بعد چند منٹ کی اُردو ، بنگالی وانگریزی میں خبریں ۔بعدازاں اُردو و انگریزی میں۔7بجے باقاعدہ انگریزی میں اور پھر 9بجے کا اُردو کا وہ "خبرنامہ" جس میں دن بھر کی ملکی و بین الاقوامی سیاسی، سماجی،معاشرتی،کھیلوں و موسم کی خبریں اس انداز میں پیش کی جاتیں کہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا اپنی خبر سُن لیتا۔ خبریں ہوتیں یا اُن پر تبصرے سب تمیز کے دائرے میں۔طرفداری ہو یا مخالفت ہر ایک نام انتہائی اَداب و احترام سے لیا جاتا۔بلکہ اُس وقت کی نوجوان نسل کی درسگاہ وہی مدبر میزبان و شرکاء تھے جو چاہے سیاست پر بحث کریں یا سماج پر یا کھیلوں وغیرہ پر اخلاق کا دامن تھامے ہوئے تھے۔

خصوصی و ڈاکومینٹری نشریات میں بھی اس ادارے نے اپنا ایک مقام قائم رکھا ہوا ہے۔ملک میں جب 1970ء کے عام انتخابات منعقد ہوئے تو پی ٹی وی کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا اور تجربہ بھی کم ۔لیکن اُن انتخابات اور پھر ملک میں ہونے والے تمام عام انتخابات پر جس خوبی کے ساتھ نتائج پیش کیئے گئے اُس پرملک کے ہر طبقے نے اطمینان کا اظہار کیا۔ 1974ء میں پاکستان میں منعقد ہونے والی دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس پر بھی اُس دور میں یادگار براہِ راست کوریج کرنا اس ادارے کا عروج ثابت ہوا۔"کسوٹی " پروگرام سے شہرت حاصل کرنے والے عبداللہ بیگ نے اس ادارے کی طرف سے بہترین ڈاکو مینٹریز بھی پیش کر کے اس شعبے سے وابستہ افراد کیلئے مزید راستے کھولے۔

خراجِ تحسین:
پاکستان ٹیلی ویژن کو آج اس مقام تک لانے میں ہر اُس شخص کا کردار اہم سمجھا جانا چاہیئے جو اسکے کسی بھی شعبے میں خدمات انجام دیتا رہا ہے یا دے رہا ہے۔ انتظامیہ سے لیکر ٹیکنیشن تک۔ قاری سے لیکر نعت خواں تک، اداکار سے لیکر گلوکار تک۔میزبان سے لیکر مہمان تک اور بہت سے دوسرے۔لہذا چند ناموں کا ذکر تعریف کے زُمرے میں گزر چکا ہے اور مزید کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اُنکے نام ذیل میں پیش کیئے جارہے ہیں۔ظاہر سی بات ہے بہت سے اہم نام رہ بھی گئے ہیں اس لیئے اُن سے گزارش ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو انہی ناموں میں شامل سمجھیں۔

نثار حسین،آغا ناصر، اسلم اظہر،یاور حیات،شہنشاہ نواب، مُنو بھائی، اصغر ندیم سید، سلیم چشتی، شوکت صدیقی،یونس جاوید،منشاء یاد، طلعت حسین،شفیع محمد،سلیم ناصر،فاروق ضمیر،فخری احمد، جمشید انصاری، خیام سرحدی، اسماعیل تارا،توقیر ناصر، علی اعجاز، سہیل احمد،افضال احمد،آغا سکندر، ہمایوں سعید،عدنان صدیقی ، قاضی واجد علی،سجاد حسن،لطیف کپاڈیا، محمود علی ،قربان جیلانی ،سبحانی با یونس،ظہور احمد،جمال شاہ،ایوب کھوسہ،اسلم لاٹر،حصام قاضی، اورنگ زیب لغاری، ڈاکٹر انور سجاد، نعیم بخاری، دلدار پرویز بھٹی، عمر شریف،عثمان پیرزادہ،ثمینہ پیرزادہ،نعمان اعجاز،محمود اسلم، شبیر جان،سہیل اصغر،سائیں اختر حسین، منیر نیازی،شوکت علی، عالم وعارف لوہار،عالمگیر،محمد علی شیکی، ابصار عبدالعلی،اظہر لودھی، خالد حمید،خالد بٹ، کنول نصیر، ساحرہ کاظمی،طاہرہ نقوی،خالدہ ریاست،مدیحہ گوہر،فریال گوہر،ذہین طاہرہ،طلعت صدیقی،عارفہ صدیقی، عتیقہ اوڈھو،صبا پرویز،ہما حمید،ثمینہ احمد،زیبا شہناز، نگھت بٹ، انجم ناہید،مہناز رفیع، ناہید اختر، شہناز بیگم،ناہید نیازی، ریشماں،بانو قدسیہ،فاطمہ ثریا بجیا،طاہرہ واسطی،لیلیٰ زبیری۔شائستہ قیصر،مہ پارہ صفدر۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 174140 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
12 Dec, 2017 Views: 850

Comments

آپ کی رائے