پرانی کار

(Hukhan, karachi)

پرانی جینز سانگ تو ہر پاکستانی نے سن ہی رکھا ہے،،،مگر پرانی کار بالکل نئی
داستان ہے،،،
یہ سانگ نہیں بلکہ اک ایسی داستان ہے ،،،جسے پڑھ کر آپ کی آنکھوں میں
تو کیا،،،کانوں سے بھی آنسو بہنے لگیں گے،،،

ہماری شامت آئی کسی نے کہہ دیا ‘‘خان صاحب ! آپ کی جاب ،،،آپ کی
پرسنالٹی ایسی نہیں کہ آپ بس پر کسی لنگور کی طرح لٹک کر جایا کریں،،،
یہ آپکی شخصیت کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے،،،
ہم نے ان کی بات سنی ان سنی کردی،،گھر گئے اور اپنے سو سالہ پرانے آئینے
میں خود کو بار بار بلکہ ہزار بار دیکھا،،،کہ کہاں سے ہم راجا راجا سا نظرآتے
ہیں،،،یا کوئی ہیرو،،،یا کوئی ڈیشنگ پرسنالٹی جو پبلک ٹرانسپورٹ یوز نہیں
کرسکتی،،،

مگر آئینہ بیچارہ خود ہی اندھا سا تھا ہمیں کیا دیکھا پاتا،،،ناک نظر آتی تو
ہونٹ غائب ہو جاتا،،،بال دیکھو تو لگتا ہم کوئی سرکٹا نما انسان ہیں،،،
آخر آئینے نے ہم پر ہم نے آئینے پر لعنت بھیجی،،،

سوچ میں پڑگئے ،،،سائیکل سے کار پر جمپ کیسے لگائیں،،،سوچتے سوچتے
صبح ہو گئی،،،مگر دو وہیل سے چار نہ ہو سکے،،،
بس کی کھڑکی سے بہت سی کاریں نظر آرہی تھیں،،،چمکتی دھمکتی کسی
حسینہ کی طرح،،،
ہم گھر کے پاس والے بازار سے اس لیے نہیں گزرتے کہ کہیں کوئی دوکاندار
قرض کی واپسی کی ڈیمانڈ ہی نہ کردے،،،اسی لیے آپ ہمیں گوشہ نشین
بھی کہہ سکتے ہیں،،،

ہجوم سے دور ہی رہتا ہوں
مئں ادھار لے کر مکر جاتا ہوں

ہم نجانے کن خیالوں میں اور گٹروں سے بچتے ہوئے اپنے آشیانے کی طرف
رواں دواں تھے کہ وہی دوست کسی جن کی طرح سامنے آگیا،،،
کیا سوچا حضرت،،،کیوں خود کو ڈی گریڈ کیے جارہے ہو،،،آج کل شوشا
والی دنیا ہے،،،لوگوں کے پاس ایک ہو تو سو بتاتے ہیں،،،اور آپ ہوکہ کار
نئی نہ سہی پرانی تو افورڈ کر ہی سکتے ہو ،،،

ہم نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا،،،بھائی کیوں میرے پیچھے ڈاکو لگواؤ
گے،،،کہیں کسی کونے میں بیٹھ کر ہی ایسی بات کی جائے،،،
لہذا ہم اک ایسے گٹر پر بیٹھ گئے جس کا ڈھکن چوری ہونے سے بچ گیا تھا
یہاں صرف چوہے ہماری بات سن سکتے تھے،،،خیر انہیں ہماری زبان کیاخاک
سمجھ آنی تھی،،،

اصل بات تو لاکھوں کی تھی،،،جو کہ ہمارے منہ سے ویسے ہی بہت عجیب
لگتی تھی،،،
ہمارے دوست نے ہمیں قائل کر ہی لیا کہ کار ہمیں اور ہم کار کو بہت ہی
سوٹ کرتے ہیں،،،کارکی تلاش کا مسئلہ بھی حل ہوگیا تھا،،،
کیونکہ کار ان کی سالی صاحبہ سیل کر رہی تھی،،،ہمیں آج یقین ہو گیا تھا
کہ بنا کار کے میں کتنا بے کار ہوں،،،،،(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 879169 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Dec, 2017 Views: 1008

Comments

آپ کی رائے
fun is always on your finger tips
By: aslam memon, karachi on Dec, 17 2017
Reply Reply
0 Like
THX
By: hukhan, karachi on Dec, 18 2017
0 Like
amazing just amazing
By: khalid, karachi on Dec, 17 2017
Reply Reply
0 Like
THX
By: hukhan, karachi on Dec, 18 2017
0 Like
hahaah hahahaha hahaha bhai zabardast
By: rahi, karachi on Dec, 17 2017
Reply Reply
0 Like
THX
By: hukhan, karachi on Dec, 18 2017
0 Like