عالمی عدالت انصاف امریکہ اور افغانستان

(Raja Majid Javed Bhatti, )

افغانستان میں امریکی فوج اور سی آئی اے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور بدترین جرائم کی ذمہ دار ہیں۔ دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر یافاتوبنسودا کے مطابق امریکی فوج اور خفیہ ایجنسی کے اہلکارافغانستان میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ چیف پراسیکیوٹر فاتوبنسودا نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اہل کاروں نے مبینہ طور پر 88گرفتار شدگان پر شدید تشدد کیا اور ان سے وحشیانہ سلوک روا رکھا۔ ان کے بقول وہ اس بارے میں ججوں سے امریکی فوجیوں اور سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف جامع تحقیقات شروع کرنے کے بارے میں اجازت لینے کے حوالے سے جلد ہی فیصلہ کرنے والی ہیں۔ بنسودا نے مزید کہا کہ افغان طالبان، ملکی سرکاری دستوں اور امریکی فوج کے ساتھ ساتھ سی آئی اے پر بھی ایسے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ آئی سی سی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یکم مئی 2003 سے لے کر 31دسمبر 2014تک کم ازکم 61 قیدیوں پر تشدد کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج کی جانب سے افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ نارواسلوک کی خبریں پہلے بھی منظرعام پر آتی رہی ہیں، یہ جرم کسی فردواحد کا ذاتی عمل نہیں بلکہ یہ اس پالیسی کا حصہ ہے، جو قیدیوں سے تفتیش کے لیے وحشیانہ اور تکلیف دہ طریقے اپنانے کے حوالے سے تیار کی گئی تھیں۔ ان کے بقول ان واقعات پر یقین کرنے کے لیے ان کے پاس معقول بنیاد ہے۔ اگر اس سلسلے میں تفتیش شروع ہوئی تو بین الاقوامی عدالت کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف تحقیقات کا یہ پہلا واقعہ ہوگا۔ امریکہ اس بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کو مستردکرچکا ہے۔ کابل حکومت 2003میں آئی سی سی کی توثیق کرچکی ہے، جس کے بعد عالمی عدالت کو افغانستان میں ہرطرح کے مظالم کی تحقیقات کرنے کا اختیار ہے۔

امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے افغانستان میں اپنی خفیہ سرگرمیاں میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد طالبان جنگجوؤں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نئی حکمت عملی کے تحت تجربہ کار افسران اور کانٹریکٹرز پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ٹیمیں بنائی جائیں گی، جو افغان فوج کے ساتھ مل کر شدت پسندوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے کی کوشش کریں گی۔ امریکی اخبار کو یہ معلومات دو امریکی اہلکاروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہیں۔یہ پیشرفت افغانستان میں امریکی مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے طریقہ کار میں تبدیلی کا ایک اشارہ ہے کیونکہ اس سے قبل یہ امریکی ادارہ القاعدہ کو ختم کرنے کی خاطر افغان اداروں کو ہی مدد فراہم کر رہا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے کے نیم فوجی افسران اس نئی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کریں گے، جن کا تعلق ادارے کے خصوصی سرگرمیوں کے شعبے سے ہو گا۔

دوسری طرف امریکی وزیر دفاع ریکس ٹلرسن نے پاکستان سے ڈور مور کا مطالبہ کرتے ہوئے آخری موقع جیسے الفاظ استعمال کئے۔ انہیں کم سے کم الفاظ میں پوری پاکستانی قوم ہی نہیں ان 70 ہزار شہداکی بھی توہین ہی کہا جا سکتا ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کی مدد و سرپرستی میں پاکستان پر مسلط کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو گئے۔ پاک فوج نے بے پناہ قربانیوں کے بعد جس طرح دہشت گردوں کو شکست دی پاکستان کی یہی کامیابی بھارت اور امریکہ کو ہضم نہیں ہو رہی۔ جس کا غصہ امریکی وزیر خارجہ یا وزیر دفاع کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان کی مخالفت میں دیئے گئے بیانات سے بھی صاف جھلکنے لگا ہے۔ حالانکہ یہ زیادہ پرانی بات نہیں 23 ستمبر 2017 کو امریکی وزیر دفاع ریٹائرڈ جنرل میٹس کے بھارتی دورہ سے قبل بھارت ہی کے اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ بھارتی دورے کے دوران بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ رابطوں اور ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی حکومت پر زور ڈالیں گے کہ وہ اپنی خفیہ ایجنسی کے ٹی ٹی پی کے مابین روابط میں کمی لائے لیکن افسوس امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کی بریفنگ میں جنرل ڈنفورڈ نے را کے ٹی ٹی پی سے رابطوں اور بھارت کی اس پالیسی کی بدولت افغانستان میں امن کی کوششوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر نہ کر کے محض بھارت سے وابستہ اپنے مفادات کی بدولت پیشہ ورانہ بے اصولی کا مظاہرہ کیا اور آئی ایس آئی کو یہ سوچے بغیر تنقید کا نشانہ بنا ڈالا کہ امریکہ کے اپنے خفیہ ادارے دہشت گردوں سے تعلق ہی نہیں رکھتے بلکہ دہشت گرد گروہ تشکیل دیتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Bhatti: 57 Articles with 24860 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Dec, 2017 Views: 388

Comments

آپ کی رائے