عالمی بساط پر کیا کھیل جاری ہے

(Sana Ghori, Karachi)

 امریکا اور روس کو دہشت گردی کا سامنا ہے․․․․ ارے یہ بھی خوب کہی۔ اب یہ بات یا تو امریکا کہہ سکتا ہے یا روس۔ جی تو یہ بات روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کی ہے۔ اب اپنے منہ مظلوم کی اصطلاح کو متعارف کروانے والے یہ ممالک طاقت کے نشے میں چور شطرنج کی بساط پر عمدہ کھیلنے والے کھلاڑیوں میں سے ہیں۔ اتنی پرانی بات بھی نہیں کہ کس طرح خود امریکا نے اپنے مہروں کی حرکت سے سوویت یونین کو تباہ کردیا تھا۔ دوسری طرف شمالی کوریا کی طرف سے آنے والے جارحانہ بیانات نے وائٹ ہاؤس کی نیندیں اُڑادی ہیں۔ صدر ٹرمپ اب واقعتاً شمالی کوریا سے ڈر گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو اپنے ملک کی سلامتی اب خطرے میں نظر آرہی ہے اور ایسی حالت میں تو اور زیادہ جب شمالی کوریا کے صدر کم جونگ بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کے سامنے آنے والے بیان، جس میں انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا مستقل دارلحکومت تسلیم کیا اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس کے شہر میں منتقل کرنے کی حمایت کی، کو ڈنکے کی چوٹ پر رد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نامی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی، جو کہ یروشلم کو اپنا دارلحکومت قرار دے سکے۔ اب کسی ایسے ملک کے سربراہ کی طرف سے ایسا بیان آنا جسے خود عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا ہو درحقیقت امریکا کی بودی پالیسیوں سے نقاب اتارنے کے مترادف ہے۔ شمالی کوریا کے بیان کے بعد دنیا بھر میں امریکی سازشوں کے خلاف عوامی طاقت متحرک ہو گئی ہے اور ظاہر ہے اس کا اندازہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بہ خوبی ہے کہ خود اُن کے ملک میں کس طرح سے عوام حکومت کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی دھمکیوں کو حقیقتاً سنجیدگی سے لیا ہے، کیوں کہ بیت المقدس کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف بیان کوئی ہمت رکھنے والا ملک ہی دے سکتا ہے۔ سو اس لیے روس سے ہاتھ ملانا ضروری ٹھہرا۔

امریکا اس وقت جانتا ہے کہ روس اس وقت ایسے جوہری اثاثوں کو کمانڈ کر رہا ہے جو امریکا کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ امریکا کے لیے اس وقت روس کی حمایت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ امریکا جس طرح اپنی سیاسی قوت سے محروم ہورہا ہے ایسی حالت میں ایسے بیان آنے کی توقع کی جارہی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھٹنے روس کے سامنے ٹیکتے ہوئے دکھائی دیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک دو ہزار سولہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی امریکا میں مبینہ مداخلت، مشرقی یوکرائن کا مسئلہ اور بالٹک کے خطے میں امریکی اور نیٹو فورسز کے مقابلے میں فوجی دستے لانے کے الزامات کے ساتھ امریکی صدر روس کے خلاف نہایت سخت لہجہ استعمال کر رہے تھے۔ لیکن اب یہ سخت لہجہ شیریں لہجے اور خوش گفتاری میں بدل گیا ہے۔ ٹرمپ اُسی روس کو جس سے سرد جنگ کی پالیسی پر وہ اب تک عمل کرتا آیا ہے کے صدر پیوٹن کو فون کرکے مل کر کام کرنے کی پالیسی پر اتفاق کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اب یہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک ایک ساتھ کام کریں۔ ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آجائیں گے۔ ماضی میں کیا ہوا، یہ بحث اپنی جگہ لیکن اگر یہ دونوں ممالک مل جاتے ہیں تو عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

شمالی کوریا کے حالیہ بیان کے مطابق ایٹمی جنگ کی صورت میں خمیازہ امریکا کو بھگتنا ہوگا۔ شمالی کوریا کہتا ہے کہ امریکا اور اس کے پیروکار شمالی کوریا کے خلاف بحری ناکہ بندی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بحری ناکہ بندی جنگی عمل ہوگا اور شمالی کوریا بے رحمانہ دفاعی اقدامات کرے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جوہری جنگ کبھی جیتی نہیں جاسکتی، یعنی اگر ایک ملک دوسرے ملک پر وار کرتا ہے تو یقیناً اسے خود بھی اس جوہری جنگ کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ سوویت یونین اور امریکا کے درمیان بھی تاریخ میں کچھ ایسی ہی صورت حال ہمیں نظر آتی ہے، لیکن اگر ان دونوں کے درمیان تصادم ہوتا تو امریکا کو بھی دنیا کے نقشے سے مٹنے کا خطرہ تھا۔ سو اس نے اپنی بساط پر بڑی ہوشیاری سے بچھاتے ہوئے مخالف کو شکست دے دی، لیکن اب ایسا ہونا مشکل ہی لگتا ہے۔ جوہری جنگ کے امکانات تو نظر نہیں آتے، لیکن اب امریکا خود کو بچانے کی جن پالیسیوں پر عمل کررہا ہے، اس حوالے سے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سپرپاور ہونے کے اعزاز سے ضرور محروم ہو جائے گا۔

ایک اور مسئلہ اس وقت شام کا ہے، بہت حد تک ممکن ہے شام میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے روس اور ایران مل کر شام کے صدر بشارالاسد کو راستے سے ہی ہٹادیں یوں عوامی حمایت حاصل کرکے شام کے حالات کو کچھ عرصہ تک بہتر بنایا جائے گا امریکا اور ایران کے درمیان سردمہری ختم ہوجائے گی۔ وسیع تر امور میں تعاون کی راہ تلاش کی جائے گی۔ امریکا کی تسلسل سے سعودی حمایت ختم ہوجائے گی اور کھلے لفظوں میں ختم نہ ہوئی تو خاموش ضرور ہوجائے گی یوں اب سعودی عرب بھی اپنی غلط پالیسیوں کی زد میں آکر پس جائے گا اور یمن کے معرکے کی موجودہ صورت حال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس ساری صورت حال سے جہاں بہت سے ممالک کو نقصان ہوگا، وہاں ایران سب سے زیادہ فائدے میں رہے گا۔ روسی حمایت امریکا خاموشی ایران کو آئندہ دس سالوں میں ایک بڑی طاقت بناکر سامنے لا سکتی ہے۔ یہ حقیقت تلخ سہی لیکن آنے والے وقت بساط پر کس کو ہار ہوئی اور کس کو جیت، یہ بتا دے گا۔1991 کی سردجنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے دنیا کے نقشے سے غائب ہونے کے بعد خیال کیا جاتا تھا کہ یہ رہتی دنیا تک آخری بساط تھی، جس کا انجام ظاہر ہوا، لیکن یہ ایک بھول تھی دوسر ی بساط تو اس وقت ہی سجالی گئی تھی، جس کو روس نے سجایا تھا اور اب اس کا اختتام ہوتا نظر آرہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 183615 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2017 Views: 431

Comments

آپ کی رائے