کراچی (نیٹ نیوز) ’ہماری ویب‘ رائیٹرز کلب
کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رئیس صمدانی نے اردو کو بطور سرکاری و فتری زبان رائج
کرنے پر سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس جواد ایس خواجہ کو رائیٹرز کلب
کے اراکین کی جانب سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے اسا فیصلے کو پاکستان کے لیے
ایک مستحسن اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ’ ہماری ویب‘ رائیٹرز کلب کے آن لائن لکھاریوں کی جانب سے
جن کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ جناب جسٹس جواد ایس خواجہ کے اس تاریخ ساز
فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جناب جسٹس جواد ایس خواجہ کے عدالتی فیصلے کے
دور رس نتائج نکلیں گے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس جواد ایس خواجہ
نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 251کا بلاتاخیر نافذ کرکے پاکستان اور
پاکستانی قوم کو اس کی حقیقی شناخت اور اس کی زبان دے کر عظیم کارنامہ
انجام دیا ہے۔پاکستان کے سپریم کورٹ نے پاکستان کے آئین 1973 ء کے آئینی
تقاضے کو پورا کیا ہے ۔ا ن کا یہ اقدام پوری پاکستانی قوم پر احسان عظیم کی
حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا یہ عظیم کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں نہ صرف سنہرے
حروف سے لکھا جائے گا بلکہ اسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پاکستان کے آئین
کے مطابق 15 سالوں میں یعنی 1985 ء تک اردو کو بطور سرکاری و دفتری زبان کے
رائج ہوجانا چاہیے تھا لیکن یہ آئینی و قانونی اقدام سرخ فیتے کی نظر ہوتا
رہااور 30سال بیت گئے۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے ناممکن کو ممکن کر
دکھایا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے اس فیصلہ کو خوش دلی سے
قبول کرتے ہوئے حکومت اس فیصلہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ملک کے چاروں
صوبوں، آزاد کشمیر و دیگر علاقوں میں اردو زبان کو فوری طور پر سرکاری
دفاتر میں نافذ کیا جائے اور تمام تر کاروائی اردوزبان ہی میں کرنے کی
ہدایات جاری کی جائیں۔بعض شخصیات ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری خدشات کا
اظہار کر رہے ہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ ہمارا پورا نظام اردو میں ہوجائے ۔ ان
ک کہنا کہ کیا ایم بی بی ایس کے طلبہ اردو میں ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔ ان کا یہ
بھی کہنا ہے کہ اب تک کسی ایسی اردو کتاب کا انگریزی یا دیگر زبان میں
ترجمہ نہیں ہوا جسے عالمی طور پر شہرت حاصل ہو جب کہ انگریزی کی ایسی بے
شمار کتابیں جن کا اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس قسم کی باتیں کرنے والے اور
اس قسم کی سوچ رکھنے والوں شروع ہی سے یہ نہیں چاہتے تھے کہ اردو کو اس کا
اصل مقام حاصل ہوسکے۔ وہ صرف اشرافیہ کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا
میں بے شمار ملک اور قومیں ایسی ہیں جو انگریزی کے بغیر ہی ڈاکٹر م انجینئر،
سائنس داں اور ماہرین پیدا کررہی ہیں۔ انگریزی پڑھنے اور اس میں مہارت حاصل
نہ کرنے کی بات کسی نے نہیں کی۔ انگریزی ضرور
پڑھائی جائے لیکن اعلیٰ عدالت کے احکامات کے مطابق ہر سطح پر اردو کا نفاذ
وقت کی ضرورت ہے۔