کھانوں کی بات ہو اور بریانی کا ذکر نہ ہو ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ بریانی کا لفظ کہاں سے آیا اور یہ ڈش سب سے پہلے کہاں بنائی گئی۔ البتہ آپ کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ مغل دور میں اسے "فوڈ فار کنگز" یعنی "بادشاہوں کی غذا" کہا جاتا تھا۔ بریانی کئی صدیوں سے کھائی جارہی ہے۔
بریانی ایشیائی اور مشرق وسطی کا ایسا پکوان ہے جس کے بغیر دسترخوان مکمل نہیں سمجھا جاتا ۔ یہ مشہور فارسی زبان کا لفظ 'بریان' سے ماٰخذ ہے جس کے معنی ہیں ''تلا ہوا یا بھونا ہوا'' ہے۔
بریانی ایشیاء ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی کھائی اور پسند کی جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ بریانی کے مداح پوری دنیا میں موجود ہیں۔
اقسام:
بریانی کی کئی اقسام ہیں جن میں حیدرآبادی بریانی ،سندھی بریانی، میمنی بریانی اور بمبئی بریانی شامل ہیں جو دنیا بھرکے لوگ مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔
طریقہ:
ہر بریانی کو بنانے کا طریقہ ایک دوسرے سے منفرد ہوتا ہے لیکن تمام اقسام میں مشترکہ اجزاء چاول، آئل، آلو، گوشت، ہرا دھنیا، پودینہ، ہری مرچ، لال مرچ، ٹماٹر اور لہسن ادرک ہیں جن کے بغیر بریانی کا وجود ممکن نہیں۔