جیل میں ہزاروں قیدی ایسے ہوتے ہیں جو کہ کسی عام جرم میں قید ہوتے ہیں اور ان کی قید کی مدت چند ماہ یا چند سال ہوتی ہے لیکن چند ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو عدالتیں ان کے جرم کے عوض پھانسی کی سزا سناتی ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے پھانسی کے مجرموں کو پھانسی صبح سویرے دی جاتی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دن میں کیوں پھانسی نہیں دی جاتی
دراصل ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ:
٭ صبح کے وقت انسان کے جسمانی اعضاء تروتازہ اور نرم ہوتے ہیں اس لئے پھانسی کے وقت جسم کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔
٭ پھانسی کے امر میں کیونکہ وقت درکارہوتا ہے اور جیل انتظامیہ کی روزمرہ کی کاروائی پر کوئی اثر نہ پڑے اس لئے بھی پھانسی صبح ہی دے دی جاتی ہے تاکہ دن بھر کے کام متاثر نہ ہوں۔
٭ پھانسی کا سن کر دوسرے قیدیوں میں تشویش نہ ہوں اور وہ مطلوبہ فرد کو دیکھ کر خوف کا شکار نہ ہوں یہ بھی وجہ ہوتی ہے صبح کے وقت پھانسی دینے کی۔
٭ مجرم کو دن بھر پھانسی کا انتظار نہ رہے اور وہ دماغی طور پر مفلوج نہ ہوجائے یہ بھی وجہ ہے کہ صبح کا وقت مختص کیا جاتا ہے۔
٭ معاشرے پر پھانسی کے اشتعال انگیز اثرات پڑتے ہیں اس لئے خاموشی سے صبح کے وقت یہ کام سرانجام دیا جاتا ہے۔