شیمپو اور صابن مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں کوئی کالا ہے تو کوئی نیلا، کوئی پیلا ہے تو کوئی ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور ہم سب ہی ان کو استعمال بھی کرتے ہیں۔
لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب ہم ان کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں شیمپو کو بالوں میں لگا رہے ہوتے ہیں تو جھاگ بنتی ہے اور یہ جھاگ ہمیشہ سفید ہی بنتی ہے۔
یعنی شیمپو اور صابن گلابی بھی ہو تو بھی جھاگ سفید ہی بنتی ہے۔
ایسا کیوں؟
یہ راز شیمپو اور صابن کی ترکیب کی "خاص" خصوصیات میں چھپا ہوتا ہے ، جو کہ ایک ہائڈرو فیلک اور ہائڈروفوبک حصے پر مشتمل ہے۔
صابن اور شیمپو دونوں کو چکنے آئلز اور کیمیکل کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے جس میں سلفر ، سوڈیم اور لورل سلفیٹ لازمی پائے جاتے ہیں۔
جب ہم ان دونوں کو رگڑتے ہیں تو اس عمل میں ہوا کے ذرات بھی شامل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے شیمپو یا صابن کے رنگدار سالمات فوٹونز کی خاص مقدار کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔
اور ساتھ ہی پانی کے شامل ہونے سے ہائیڈروفوبک عنصر تحلیل ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے شیمپو اور صابن بے رنگ ہونے لگتا ہے۔
لیکن یہ پوری طرح سفید نہیں ہوتے آپ نے غور کیا ہوگا کہ جھاگ کے اندر دیگر تمام قوسِ قزح کے رنگ منعکس ہوتے نظر آتے ہیں۔
کیوں کہ جھاگ روشنی میں سے گزر جاتی ہے اور صابن یا شیمپو کا مالیکیول اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ وہ روشنی کے گزرتے ہی اپنی رنگت کھو دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تمام صابن اور شیمپو کی جھاگ سفید ہی ہوجاتی ہے۔