اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آپ کی زندگی بچانے والے کیا کہتے ہیں؟ جانیں

image

عالمی وبا کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ 19 سے لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بہت سے افراد اس وائرس کو شکست دے چکے ہیں۔ مگر کیا آپ اس بات سے لاعلم تو نہیں کہ اس وائرس کو شکست دینے میں آپ کے پیچھے کون کھڑا تھا کون آپ کو اس مہلک بیماری کے منہ سے آپ کو باہر نکال کر لایا؟

جی ہاں یہاں بات ہورہی ہے دن رات ایک کردینے والے اور کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز، اور تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کی۔

دنیا بھر میں مسیحا کا کردار ادا کرنے والے اور حقیقی ہیروز، ڈاکٹرز اور تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا یا کسی بھی بیماری میں مبتلا مریضوں کی صحتیابی کے لئے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں اور لاکھ سے زائد افراد کو زندگی کی روانی کی طرف موڑ چْکے ہیں۔

پاکستان میں کورونا جیسی سنگین بیماری کے خلاف لڑنے والے ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز میں سے چند کی کہانیاں ذیل میں ہیں۔

ڈاکٹر صائمہ کمال معتصم، کراچی

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے کووڈ-19 آئی سی یو کی سربراہ ڈاکٹر صائمہ کا کہنا ہے کہ جب تک آپ ایک کورونا کے مریض کو سانس لینے کے لیے ہانپتے ہوئے نہیں دیکھتے اور اس کا خیال نہیں رکھا ہو، نوجوانوں کو اس سے ہلاک ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہو، گھنٹوں تک 3 تہوں والا حفاظتی لباس نہ پہنا ہو اور جب آپ کچھ کھا بھی نہیں سکتے، یہاں تک کہ بیت الخلا تک نہیں جاسکتے ہوں، تب تک آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کورونا کتنا خطرناک مرض ہے۔

ذاکر علی مشوری، حیدرآباد

لیاقت یونیورسٹی ہسپتال کے 21 سالہ ایمبولینس ڈرائیور ذاکر علی مشوری نے بتایا کہ آخر میں کیوں ڈروں؟ یہ تو میری ڈیوٹی ہے اور مجھے انجام دینی ہے۔

ذاکر کو اپنے اہل خانہ کی فکر لاحق رہتی ہے کیونکہ ان کے مطابق جب وہ کام سے واپس اپنے گھر جاتے ہیں تو سب سے پہلے کپڑے تبدیل کرتے ہیں، غسل کرتے اور پھر اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے ہیں۔

ذاکر کا کہنا تھا کہ مجھے اگر کسی بات کی پریشانی ہوتی بھی ہے تو وہ صرف اپنی فیملی کی، لیکن میں حفاظتی لباس پہن کر ایسے سارے خیالات کو نظرانداز کردیتا ہوں۔

صدف نورین، لاہور

لاہور چلڈرن ہسپتال میں اپنی خدمات انجام دینے والی محنت کش نرس صدف نورین نے کہا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ یہ بیماری صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے پیاروں اور معاشرے کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ نورین کا ماننا ہے حفاظت علاج سے بہتر ہے۔

جمال شاہ

آل پاکستان میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے صدر جمال شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب سے کورونا کی بیماری آئی ہے تب سے ہر گزرتا دن ہمارے لیے زیادہ مشکلات لاتا ہے۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے تجربہ کار ڈاکٹر جمال شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری قوم ابھی تک کورونا کی سنگین صورت حال کو ٹھیک طرح سے سمجھنے سے قاصر ہے جبکہ وبا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے طبی رضاکار بیماری کا مقابلہ کرتے کرتے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ حالات اور سنگینی کو سمجھیں اور گھروں تک محدود رہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US