اب کبوتر بھی جُرم کرنے لگے۔۔۔ آسٹریلوی حکومت اس کبوتر کو کیوں قتل کرنا چاہتی ہے؟

image

بحرِ اوقیانوس سے بحرالکاہل تک ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کرنے والے امریکی کبوتر کو مارنے کا فیصلہ، آسٹریلوی حکومت نے سیلی برڈ سے اس کبوتر کو پکڑنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک مہاجر کبوتر 13 ہزار کلو میٹر (8 ہزار میل) کا فاصلہ طے کر کے اوشین پیسفک سے اُڑ کر امریکہ سے ہوتا ہوا آسٹریلیا آ پہنچا ہے جس نے آسٹریلوی حکومت کا پریشانی کا شکار کر دیا ہے، پریشانی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس کبوتر کے زریعے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے اور دیگر پرندوں سمیت انسانوں میں بھی اس کے پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔

کورونا وائرس کے خطرات کے پیشِ نظر آسٹریلوی سیکیورٹی حکام نے کبوتر کو مارنے کا فیصلہ کیا ہے، آسٹریلوی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس کبوتر کا تعلق امریکہ سے ہے تو خطرہ ہے کہ ہمارے یہاں موجود پرندے اب محفوظ نہیں ہیں۔

تاہم میڈیا میں خبر نشر ہونے کے بعد محکمہ صحت نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر سیلی برڈ سے اس کبوتر کو پکڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے سیلی برڈ کا کہنا ہے کہ میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ اسے پکڑنا آسان نہیں ہے، میں نے اس کو پکڑنے کی کافی کوشش کی لیکن ناکام رہا جس کے بعد آسٹریلوی محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی اور پیشہ ور پرندہ پکڑنے والے سے رابطہ کریں گے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے محمکہ زراعت نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کبوتر کا آسٹریلیا میں رہنا یہاں کے دیگر پرندوں اورلوگوں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ پولٹری صنعت بھی متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ کبوتر 29 اکتوبر کو امریکی ریاست اوریگون میں اپنے جتھے سے غائب ہو گیا تھا جو 26 دسمبر کو 8 ہزار میل کا طویل سفر طے کر کے آسٹریلیا کے شہر میلبورن پہنچا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US