اب چیزوں کی ڈلیوری گھوڑے پر ہوگی۔۔۔ برف باری میں آن لائن ڈیلیوری کرتے گُھڑ سوار کی ویڈیو وائرل

image

'' وہ کون سا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا، ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا۔ ''

یہ بلکل سچ بات ہے کہ جب ہم کسی کام کو کرنے کے بارے میں سوچ لیں اور اپنے ارادے پختہ کرلیں تو کسی بھی قیمت پر ہم وہ کام ضرور کرتے ہیں، اس کے لئے موسم کی سختی ہو یا مزاج کی گرمی ہمیں کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کچھ ایسا ہی حال کشمیر کے اس 22 سالہ نوجوان شیراز کا ہے جو بی اے فائنل کا طالبِ علم ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے لوگوں کی خدمت میں پیش پیش ہے۔

ہماری ویب ہمیشہ سے ہی ایسے عوام پسند اور خدمت گزار لوگوں کی کہانیاں اپنے قارعین کے لئے لاتا ہے۔ آپ بھی جانیئے:

شیراز کون ہے؟

شیراز مقبوضہ جموں کشمیرکے دارالحکومت سرینگر کا رہائشی ہے اور یہ آن لائن ڈلیوری کرتا ہے مگر اس انداز سے کہ دیکھ کر دُنیا حیران رہ گئی ہے۔ شیراز زیادہ تر دوائیں اور لوگوں کی ضرورت کا خاص سامان آن لائن ڈلیور کرتا ہے اور آج کل سرینگر میں اتنی ٹھنڈ ہے کہ ہر جگہ برف جمی ہوئی ہے اور برف کو ہٹانا مشکل ہے اس لئے لوگ گھروں سے باہر بلکل بھی نہیں نکل رہے ہیں، بس شیراز کو آن لائن آرڈر کرتے ہیں اور یہ پورے سرینگر میں ہر جگہ اپنی سروس سے کشمیر کے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔

اب چونکہ برف اتنی جمی ہوئی ہے کہ شیراز کی بائیک نہیں جاسکتی تو اس نے ایک انوکھا طریقہ دریافت کیا کہ یہ گھڑ سواری کرتے ہوئے اپنے گھوڑے پر ڈلیوری کرنے جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کی ضرورت کا سامان پہنچاتے ہیں۔

درحقیقت انسانیت کی اصل خدمت کا اصول بھی یہی ہے کہ مشکل گزار راستوں میں بھی ایک ایسا راستہ تلاش کرنا جو سب کے لئے مناسب بھی ہو اور ضرورت وقت پر مکمل کی جائے۔

واضح رہے کہ شیراز نے دوستوں کے ساتھ مل کر اکیلے آن لائن ڈلیوری شروع کی تھی جس کے بعد وہ ایک آن لائن امریکی کمپنی ایمازون سے وابسطہ ہوگئے اور اب کشمیر سے ایمازون کے ڈلیوری ایگزیکٹیو ہیں۔ ان کی گھوڑے پر سوار ہو کر یوں آن لائن ڈلیوری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے اور ہر کوئی ان کے کام کی تعریفیں کر رہا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف عمر نے اپنی پوسٹ میں لکھا: '' ایمازون کا ڈلیوری کا نیا طریقہ۔‘ ’ایمازون ہیلپ‘ نے عمر غنی کی پوسٹ پر جواب دیتے ہوئے لکھا: ’ڈلیوری اب بھی وعدے کے مطابق ہوتی ہے۔‘

اس ویڈیو کے جواب میں لوگوں نے شیراز کی محنت اور کاوش کو خوب سراہا، آپ بھی ملاحظہ کریں ان کے کمنٹس:


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US