ایک شخص نے ریڑھی والے سے گول گپے کھانے کے بعد یہ پوچھا کہ بھائی لاہور جانے والی بسیں کہاں کھڑی ہوتی ہیں؟ تو ریڑھی والے نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " بسیں سامنے اُس ہوٹل کے پاس کھڑی ہوتی ہیں اور وہ شخص جلدی جلدی بس اسٹاپ پہنچ جاتا ہے۔ پھر وہاں وہ دیکھتا ہے کہ ہوٹل پر چائے پینے والوں کا بہت رش ہے تو یہ دیکھ وہ شخص چائے کا آرڈر کر دیتا ہے کہ شاید چائے میں کوئی خاص بات ہوگی۔
چائے واقعی بڑی مزیدار تھی۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ جب میں چائے کا بل دینے لگا تو یاد آیا کہ گول گپے والے کو تو پیسے دیے ہی نہیں۔ وہ واپس دوڑتے ہوئے گول گپے والے کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ بھائی شاید آپ بھول گئے ہیں، میں نے آپ سے گول گپے تو کھائے ہیں لیکن پیسے نہیں دیے؟ تو گول گپے والا مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ بھائی جس کے بچوں کی روزی انہیں گول گپوں پہ لگی ہے، وہ پیسے کیسے بھول سکتا ہے؟
وہ شخص ریڑحی والے سے دریافت کرتا ہے کہ آپ نے پیسے کیوں نہیں مانگے تو وہ صاحب جواب دیتے ہیں کہ بھائی یہ سوچ کر نہیں مانگے کہ آپ مسافر ہیں، شاید آپ کے پاس پیسے نہ ہوں،اگر مانگ لیے تو کہیں آپ کو شرمساری نہ اٹھانا پڑے۔