لاہور میں کچرے کے حوالے سے تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی، حکوتِ پنجاب کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم۔
انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے روشنیوں کے شہر کراچی کی طرح اب لاہور کی بھی خوبصورتی مانند پڑنے لگی ہے، حکومت پنجاب کی طرف سے لاہور کی صفائی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کی آج آخری تاریخ ہے لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں کہ لاہور شہر سے کچرا اُٹھایا جا سکے گا۔
دنیا بھر میں اپنی مثال شہر لاہور کی تاریخ اور خوبصورتی اب لگتا ہے کہ کچرے کے ڈھیر میں چھپ جائے گی، دسمبر میں ویسٹ مجینمنٹ کے ساتھ کام کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے کام چھوڑ دینے کے بعد حکومتِ پنجاب نے ڈیڈ لائن دی تھی کہ پندرہ جنوری تک یہ سارے مسئلہ حل ہونے کے بعد لاہور شہر سے کچرے کے انبار صاف کر دیئے جائیں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا اور اب تک صفائی کا نظام جوں کا توں ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال اور عاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 'گاڑی ٹھیک ہونے ورکشاپ گئی ہے، پندرہ جنوری کی رات تک کچرا اٹھا لیا جائے گا اور پھر روزانہ کی بنیاد پر پہلے کی طرح لاہور کی صفائی برقرار رکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ لاہور میں صفائی کا بحران گزشتہ ماہ دسمبر میں شروع ہوا جب لاہور ویسٹ منیجمنٹ کے ساتھ کام کرنے والیہ کمپنیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا، حکومت کی طرف سے ان کمپنیوں کو پیمنٹ نہیں کی جارہی تھی، حکومت اور کمپنیوں کے درمیان تنازعہ کے بعد لاہور میں جگہ جگہ کچرے کے انبار لگ گئے اور تاحال یہ مسلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔