کراچی میں پیٹ سے جُڑے بچوں کو کامیاب سرجری کے بعد علیحدہ کر دیا گیا، دیکھیں حیرت انگیز تصاویر اور تفصیلات

image

کراچی میں پیٹ سے جڑے نوزائیدہ بچوں کو ڈاکٹرز نے کامیاب سرجری سے علیحدہ کر دیا، والدین شکر گزار۔

تفصیلات کے مطابق شہرِ قائد کے نجی اسپتال میں ڈاکٹرز نے ایک آپریشن میں کامیابی کے ساتھ پیٹ سے جڑے نوزائیدہ بچوں کو علیحدہ کر دیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ بچے پیدائشی طور پر پیٹ کے زریعے جڑے ہوئے تھے تاہم اب دونوں بچے کامیاب سرجری کے بعد صحت مند ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچوں کے پیٹ، اندرونی غدود، اور جگر کا کچھ حصہ آپس میں جڑا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسرار احمد نامی شہری اور ان کی زوجہ کے ہاں ایسے جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی جن کے دھڑ آپس میں جڑے ہوئے تھے، اسرار احمد اور ان کی اہلیہ بچوں کی زندگی کے لئے بے حد پریشان تھے جبکہ ان بچوں، محمد ایان اور محمد امان کو اسپتال ایک دوسرے سے پیوستہ حالت میں لایا گیا تھا۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی کامیاب سرجری کی گئی جس کے بعد یہ بچے اب عام صحت مند بچوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

پیدائشی طور پر یہ بچے اس طرح سے جڑے ہوئے کیوں پیدا ہوئے اس حوالے سے ڈاکٹرز نے بتایا کہ ایان اور امان کا تعلق ایک دوسرے سے پیوستہ جڑواں بچوں کی قسم اومفالوپیگس (Omphalopagus) سے تھا، اس میں دونوں بچوں کے اجسام پیٹ سے جڑے ہوتے ہیں، جبکہ بچوں کے کچھ اندرونی غدود بشمول جگر اور بعض اوقات آنتیں بھی جڑی ہوتی ہیں، تاہم اس کیس میں بھی جڑواں بھائیوں میں جگر کا بھی کچھ حصّہ جڑا ہوا تھا۔

اس آپریشن کو سر انجام دینے کے لئے پیڈیاٹرک سرجری، انستھیزیالوجی، ریڈیالوجی، گیسٹرو انٹیسٹائنل سرجری اور نیورو سرجری کے شعبہ جات کے ڈاکٹرز، نرسیں اور ٹیکنیشئنز نے حصہ لیا۔

پیڈیا ٹرک سرجن ڈاکٹر ظفر نذیر نے بتایا کہ اس 8 گھنٹے طویل سرجری میں 50 سے زائد کلینکل اور انتظامی عملے نے خدمات انجام دیں، سرجری سے قبل بچوں کی حالت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے جدید امیجنگ پروٹوٹائپنگ استعمال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایک دوسرے سے پیوستہ جڑواں بچوں کا پیدا ہونا شاذ و نادر ہی ہونے والی ایک پیدائشی بے قاعدگی ہے تاہم ڈھائی لاکھ پیدائشوں میں سے کوئی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US