زندگی میں ہزاروں رشتے انسان کو مل جاتے ہیں مگر ماں کی محبت انمول ہے اس کی جتنی قدر کریں یہ کم ہے اور سچ بات بھی یہی ہے کہ ماں کے سوا ہمیں کوئی بھی شخص اس طرح محبت نہیں کرسکتا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماں کی محبت کو سمجھتے اور ان کی قدر کرتے ہیں۔ بدنصیب ہیں وہ انسان جو ماں کی قدر نہیں کرتے۔
راولپنڈی کی 70 سالہ خاتون ناصرہ 4 بچوں کی ماں ہیں مگر ان کے بیٹوں نے اپنی بیویوں کی وجہ سے ماں باپ کو اکیلا چھوڑ دیا اور ان کے شوہر بیماری کی وجہ سے کوئی کام کاج نہیں کرسکتے۔ ان حالات میں ناصرہ خود گھر کی کفیل بنی ہوئی ہیں اور اپنا گھر خود چلاتی ہیں۔
ماں کا دل نہ دکھانا ماں کا کھانا کھانا۔۔۔
ناصرہ روزانہ کئی قسم کے پکوان بنا کر بازاروں میں لے جاتی ہیں اور مائیک سے آوازیں لگا لگا کر گھر کے اپنے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے بیچتی ہیں۔
ناصرہ کہتی ہیں:
'' ماں کا دل نہ دکھانا، ماں کا کھانا کھانا''
یہ روزانہ ایسے ہی کھانے بنا کر بیچتی ہیں اور ان کے کھانے پورے راولپنڈی میں مشہور ہیں۔ ناصرہ کی 2 بیٹیاں بھی ہیں وہ شادی شدہ ہیں، ناصرہ جو کچھ پیسے کھانا بیچ کر کماتی ہیں اس سے اپنے اور اپنے شوہر کی دوائیوں وغیرہ کا خرچہ اور کھانے پینے کا خرچہ اٹھاتی ہیں ساتھ ہی اپنے نواسہ نواسیوں کو بھی تحفے تحائف دیتی ہیں۔
ناصرہ کہتی ہیں:
مجھے مانگنا اچھا نہیں لگتا، اس سے بہتر ہے جب تک مجھ میں ہمت ہے میں خود محبت کرکے کماؤں اور اپنی ضروریات پوری کروں۔