کیا امریکہ، ایران تنازع میں بڑی شکست عرب ممالک کی ہوئی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں وقتی طور پر کمی آ چکی ہے۔ اگرچہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اُن کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، مگر اِس کے باوجود ایک اہم سوال اُبھر کر سامنے آ رہا ہے، اور وہ یہ کہ اس پورے تنازع میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہو گا؟
تصویر
Getty Images

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں وقتی طور پر کمی آ چکی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اُن کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

اس کے باوجود ایک اہم سوال اُبھر کر سامنے آ رہا ہے، اور وہ یہ کہ اس پورے تنازع میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہو گا؟

اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔

خلیج فارس کے عرب ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں تہران کو ’حد سے زیادہ رعایتیں‘ مل سکتی ہیں، جس کے باعث خطے میں ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی واضح پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور یہ وہ پہلو ہے جو خلیجی ممالک کے لیے مزید تشویش کا باعث بنا ہے کیونکہ یہ وہی میزائل ہیں جو حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک پر داغے گئے اور بڑے جانی و مالی نقصانات کا باعث بنے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنے کو اپنے اہم اہداف میں شامل قرار دیتی رہی، تاہم پیرس کے دورے میں ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں نسبتاً نرمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو یہ غیر منصفانہ ہو گا کہ ایران کو ان میں سے کچھ (میزائل) رکھنے سے محروم رکھا جائے۔‘

کنگز کالج لندن میں سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آندریاس کریگ کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام اب بھی عرب ممالک کے لیے سنجیدہ سکیورٹی چیلنج ہے۔ تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اِن ممالک کی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایران کے میزائل ذخیرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کسی قابلِ عمل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

بی بی سی عربی سے گفتگو میں انھوں نے پیشگوئی کی کہ اس تنازع کے بعد خلیجی ممالک کا ردعمل زیادہ عملی نوعیت کا ہو گا جس میں اپنے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، میزائل دفاعی نظاموں میں توسیع، انٹرسیپٹر میزائلوں کی مقامی سطح پر تیاری، دفاعی محاذوں کو مزید مستحکم کرنا، نیز تہران کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھنا شامل ہو گا تاکہ مستقبل میں براہِ راست تصادم سے گریز کیا جا سکے۔

بحرین
Anadolu via Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں ایران کے ان بیلسٹک میزائلوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی جو عرب ممالک کے لیے باعث تشویش بات ہے

اس کے باوجود کہ خلیج کے عرب ممالک کو اس جنگ کے دوران خاصا نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو کر سامنے آئیں، آندریاس کریگ انھیں اس تنازع کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق قرار نہیں دیتے۔

ان کے مطابق ’سٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسرائیل زیادہ نقصان اٹھانے والا نظر آتا ہے۔ اس نے امریکہ کے ساتھ اپنے سیاسی، سفارتی اور عسکری سرمائے کا بڑا حصہ صرف کر دیا، مغربی عوامی رائے میں اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور اپنے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ وہ واشنگٹن کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کے تحت خطے میں مہنگی کشیدگی کی طرف دھکیلتا ہے۔‘

آندریاس کریگ کے بقول اس کے برعکس خلیجی ممالک بتدریج ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ ان میں ذمہ داریوں کی تقسیم، امریکی معیشت میں سرمایہ کاری، کشیدگی میں کمی، نیز علاقائی استحکام کو فروغ دینا شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ممالک توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے سے لے کر علاقائی بحرانوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے تک، مختلف حوالوں سے امریکہ کے لیے معاون ثابت ہو رہے ہیں، جو ان کے لیے اہم سفارتی اور سٹریٹجک فائدہ ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ محقق اور لیکچرار حسن منیمنہ اس صورتحال کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

اُن کے مطابق خلیجی ممالک اس بحران کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ انھوں نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں بلکہ یہ کہ ایک طویل جنگ کی صورت میں انھیں کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑتی۔

بی بی سی عربی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک کو نمایاں نقصان ہوا لیکن اگر مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہ ہوتے اور لڑائی جاری رہتی تو خطے کو ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا جن کی تلافی ممکن نہ ہوتی۔

ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل، اس کے حمایت یافتہ گروہ، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات اب بھی خلیجی ممالک کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ طول پکڑتی تو یہ ممالک محض دباؤ ہی نہیں بلکہ اپنی بقا کے خطرات سے بھی دوچار ہو سکتے تھے۔

گذشتہ برسوں کے دوران خلیجی ممالک نے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے وسیع منصوبے شروع کیے، جن کے تحت سیاحت اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ایسے میں کسی طویل یا پھیلتی ہوئی جنگ کے اثرات ان تمام کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے تھے۔

کیا خلیجی ممالک جنگ کے بعد امن کی بھی قیمت چکائیں گے؟

Tehran
Getty Images
ایران نے بار بار اپنے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے ایک بڑے فنڈ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس فنڈ کے بارے میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کے لیے بنیادی مالی وسائل خلیجی ممالک فراہم کریں گے۔

دوسری جانب ایران پہلے ہی خطے کے اُن ممالک سے، جنھوں نے اس کے خلاف حملوں میں حصہ لیا یا فوجی اڈوں کی صورت میں معاونت فراہم کی، نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر چکا ہے۔

اس کے برعکس قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے ہونے والے حملوں کے نقصانات کا ازالہ کرے۔

یوں ایک ایسی پیچیدہ صورتحال جنم لے رہی ہے جس میں خلیجی ممالک ممکنہ طور پر نہ صرف جنگ کی قیمت ادا کریں گے بلکہ امن کی قیمت بھی اُن ہی کے حصے میں آ سکتی ہے۔

اب تک خلیجی ممالک کو پہنچنے والے مجموعی نقصانات کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

حسن منیمنہ کہتے ہیں کہ مصلحت یا تو فائدہ حاصل کرنے سے وابستہ ہوتی ہے یا نقصان کے بچاؤ سے۔

اُن کے مطابق خلیجی ممالک اِس وقت فائدہ سمیٹنے کے بجائے ممکنہ نقصانات کو محدود کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور 300 ارب ڈالر کے مجوزہ فنڈ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگر خلیجی ممالک اس فنڈ میں حصہ ڈالتے ہیں تو یہ ایران کے لیے امداد نہیں ہو گی بلکہ سرمایہ کاری کی صورت اختیار کرے گی۔ ان کے بقول اس نوعیت کی شراکت داری مشترکہ اقتصادی مفادات کے ذریعے ’ایران کے بالادستی کے منصوبوں‘ کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ تعمیر نو کے لیے مجوزہ فنڈ سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ خلیجی ممالک پہلے حملوں کا نشانہ بنے اور اب انھی سے تعمیر نو کی لاگت بھی طلب کی جا رہی ہے تاہم ان کے مطابق تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

ان کے بقول خلیجی ممالک ایران کو کبھی ’کھلی چھوٹ‘ نہیں دیں گے اور کسی بھی تعمیر نو پیکیج کو بالواسطہ، مشروط اور تجارتی بنیادوں پر ہی نافذ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ باہمی اقتصادی انحصار ان ممالک کو ایران کے طرزِ عمل پر اثر انداز ہونے کا نیا ذریعہ بھی فراہم کر سکتا ہے۔

ان عوامل میں، جن کے باعث بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک تہران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے، آبنائے ہرمز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو مذاکرات کے دوران دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ ان کی تیل اور گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے پر منحصر ہیں۔

سعودی عرب پائپ لائنز اور بحیرہ احمر تک رسائی کے ذریعے کسی حد تک آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا رکاوٹ کے خطرات سے خود کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پاس بھی فجیرہ کے راستے محدود متبادل موجود ہیں تاہم قطر اور کویت نسبتاً زیادہ کمزور پوزیشن میں ہیں کیونکہ ان کے پاس برآمدات کے متبادل راستے نہایت محدود ہیں۔

آندریاس کریگ کے مطابق آبنائے ہرمز کسی بھی ممکنہ معاہدے کا سب سے حساس اور پیچیدہ نکتہ رہے گی۔ ان کے بقول ایران کو سمندری آمدورفت کے نظام یا سلامتی میں کوئی کردار دینا خطرات سے خالی نہیں، خصوصاً اگر یہ کسی غیر رسمی فیس یا خودمختاری کے دعوے کی صورت اختیار کر جائے۔

اس کے باوجود خلیجی ممالک کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی اور محفوظ رہے۔ اسی لیے امکان ہے کہ وہ عوامی سطح پر ایران کی جانب سے کسی بھی فیس عائد کرنے کی مخالفت کریں مگر عملی طور پر کسی محدود اور واضح فیس کو قبول کر لیں، بشرطیکہ اسے قانونی دائرہ کار، بین الاقوامی حمایت، اور مخصوص خدمات جیسے بارودی سرنگوں کی صفائی، سمندری سلامتی، یا جہاز رانی کے نظام کے تحت رکھا جائے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ صورتحال اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی ممالک کو جغرافیے کو اسی شکل میں قبول کرنا ہو گا جیسا وہ ہے، نہ کہ جیسا وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

دوسری جانب حسن منیمنہ کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں بلکہ اس ضمن میں عمان کے ساتھ ایک غیر رسمی شراکت داری موجود ہے اور عملی طور پر مسقط ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

وہ اس معاملے میں خلیجی ممالک کے باہمی اتحاد کو نہایت اہم قرار دیتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایران اور عمان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی جہاز رانی کے انتظام اور ممکنہ ٹول کے معاملات پر ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

اس کے بعد مسقط نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی بحری تنظیم کے ساتھ ہم آہنگی میں ایک عارضی کواریڈور قائم کیا گیا ہے تاکہ جہاز آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور سمندری حقوق کے تحت بغیر کسی فیس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں یہ معاملہ ایک بار پھر کشیدگی کی شکل اختیار کر گیا۔ عمان کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں اپنے کردار پر دوبارہ زور دیا اور خلیجی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اس تنازعے میں واشنگٹن کا ساتھ دینے سے گریز کریں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ایران کے کردار کو نظر انداز کر کے ممکن نہیں۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک آزادانہ جہاز رانی کے حق پر زور دے رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی فیس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسی دوران امریکہ نے ایک بحری جہاز پر حملے کے ردعمل میں ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بھی بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

جغرافیے کی حقیقت اور علاقائی رشتوں کی پیچیدگی

اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت برقرار رہتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے، حتیٰ کہ انھیں کسی حد تک معمول پر لانے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

تاہم اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا خلیجی ممالک کی سکیورٹی ترجیحات اب بھی واشنگٹن کی توجہ کا مرکز رہیں گی؟ اور کیا یہ ممالک ایران کے ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی کسی پائیدار تعلق کی امید کر سکتے ہیں؟

حسن منیمنہ کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششوں، منظم منصوبہ بندی اور مؤثر ثالثی کی ضرورت ہو گی۔ ان کے بقول خلیجی ممالک کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں جنھیں وہ حالیہ نقصانات سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر ایک ایسے علاقائی نظام کے قیام میں استعمال کر سکتے ہیں، جس میں ایران کو شامل بھی رکھا جائے اور اس کے اثر و رسوخ کو متوازن بھی رکھا جا سکے۔

تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسا کوئی نظام فوری طور پر قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کے خیال میں پہلے مرحلے میں خلیجی ممالک، ترکی، پاکستان اور مصر کے درمیان ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک پر غور کیا جانا چاہیے۔

وہ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل ایسے کسی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکہ بھی، جسے وہ ان ممکنہ تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا اہم فریق قرار دیتے ہیں، ایسے کسی ڈھانچے کی مخالفت کر سکتا ہے جس میں حتمی فیصلہ سازی واشنگٹن کے ہاتھ میں نہ ہو۔

دوسری جانب آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو طویل عرصے سے یہ احساس رہا ہے کہ واشنگٹن میں ان کی سکیورٹی ترجیحات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جاتی تاہم ان کے مطابق یہی صورتحال ان ممالک کے لیے امریکہ میں اپنا اثر و رسوخ ازسرِنو مضبوط کرنے کا موقع بھی بن سکتی ہے۔

ان کے بقول اگر سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات اپنی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کریں تو وہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے متعلق امریکی پالیسی پر اسرائیل سے بھی زیادہ اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

آندریاس کریگ کے مطابق ان ممالک کے پاس اس وقت فوجی اڈے، وسیع مالی وسائل، جدید لاجسٹک ڈھانچہ، توانائی کی عالمی منڈیوں میں اثر و رسوخ اور مؤثر سفارتی روابط موجود ہیں لیکن جس چیز کی کمی دکھائی دیتی ہے وہ باہمی ہم آہنگی ہے۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین سب کے سب امریکہ کے فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں اور یہی اڈے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد تصور کیے جاتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US