چار لاپتہ بیٹوں کی ماں: ’آنکھیں ہر وقت دروازے پر لگی رہتی ہیں کہ وہ کب گھر آ جائیں‘۔۔۔ ایک ماں کی درد ناک کہانی جس نے سب کو رُلا دیا

image

پاکستان میں ایسی بہت سی مائیں ہیں جن کے بچے سالوں سے لاپتہ ہیں اور مائیں عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹ رہی ہیں، مگر قانون کا نظام ایسا ہے کہ جوتے گھِس جائیں جمع پونجی ختم ہو جائے مگر سالوں تک کیس ختم نہیں ہوتا۔

اور اس طرح اپنے پیاروں کو کھو دینے والے خاندان جگہ جگہ کی خاک چھاننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسی بوڑھی بے یارو مددگار ماں کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جس کے چار لختِ جگر ایک روز ٹیکسی میں سوار ہو کر تھانے گئے اور آج تک واپس نہ آ سکے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی اس 75 سالہ بوڑھی ماں کا نام جان پری ہے، اور ان کی جان اپنے اس 4 بیٹوں میں اٹکی ہوئی ہے جو 2016 سے تاحال لا پتہ ہیں۔

جان پری کا کہنا ہے کہ جولائی 2016 کی ایک صبح پولیس نے ان کے بیٹوں کو اچانک طلب کر لیا لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ انھیں کیوں بلایا گیا ہے۔

’چاروں بیٹے ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر پولیس تھانے چلے گئے لیکن کافی دیر تک واپس نہیں آئے تو میں تھانے گئی کہ بچوں کا پتہ کروں۔ جب وہاں پہنچی تو بتایا گیا کہ میرے بیٹوں کو سکیورٹی اہلکار لے گئے ہیں۔‘

جان پری نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور اور ان کی تلاش میں جانے والا ایک اور شخص بھی آج تک غائب ہے۔

ایک دو نہیں بلکہ 6 افراد کو زمین نگل گئی یا آسمان آج تک اس راز سے پردہ نہیں اُٹھ سکا، جان پری اپنی 4 بہوؤں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ اپنے بیٹوں کی راہ دیکھتی ہیں۔

اس خاندان کا گزر بسر بھی ان کے 4 مزدور بیٹوں پر تھا مگر ان کے لاپتہ ہونے کے بعد یہ دوسروں سے مدد لے کر گھر چلانے پر مجبور رہیں، اب گھر میں کمانے والا کوئی نہیں یہ اپنا گزر بسر بے حد مشکل سے کر رہے ہیں۔

بوڑھی خاتون کا کہنا ہے کہ ''میں بوڑھی عورت ہوں، کبھی کسی کی مدد تو کبھی کسی کی مدد لے کر عدالت تک اس امید پر جاتی ہوں کہ شاید اس مرتبہ بیٹے مل جائیں گے لیکن ہر بار نا امیدی کا سامنا ہی ہوتا ہے''۔

جان پری کے بیٹوں کے نام علیم خان، سعید اللہ، فضل مالک اور حکیم اللہ ہیں جبکہ ڈرائیور کا نام شمس بتایا جا رہا ہے، یہ واقعہ خیبر پختون خواہ کے ضلع چارسدہ کے علاقے میں پیش آیا تھا جو کہ آج تک اُلجھا ہوا ہے۔

یہ کوئی پہلی ایسی ماں نہیں جو اپنے بچوں کو کھونے کا غم اس امید کے ساتھ برداشت کر رہی ہے کہ وہ ایک دن واپس آ جائیں گے، بلکہ یہاں تو ایسی ہزاروں مائیں، بیویاں اور بچے ہیں جن کے باب بیٹے اور شوہر سالوں سے لاپتہ اور ان کے کیس عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔

ہمارے ملک کی عدالتی کارروائیوں اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنا بے حد مشکل ہے تو پھر ایسے دیہی خاندان اور پسماندہ لوگوں کا عدالتوں میں چکر کاٹنا کتنا تکلیف دہ مرحلہ ہے اس کا اندازہ ہم بخوبی لگا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جان پری نے پشاور ہائی کورٹ کے انسانی حقوق کے شعبے میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں انھوں نے حلفاً کہا ہے کہ ''ان کے بیٹے ریاست کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے''۔

غربت کی وجہ سے ان کے جیسے خاندان کھانے پینے کے محتاج ہیں تو ایسے میں عدالتوں کے چکر اور فیس دینا مشکل ہوتا ہے اس لئے پشاور ہائی کورٹ کے انسانی حقوق کے شعبے ایسے لوگوں کی درخواست پیٹیشن کے طور پر لی جاتی ہے جن کا کوئی وکیل نہ ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US