الیکشن میں ہار جیت اور گرما گرمی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے مگر پاکستان میں ہونے والے الیکشن اپنی نوعیت کے منفرد الیکشن ہوتے ہیں۔ الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور، جیتنے والوں پر الزامات، ہارنے والوں کا واویلا اور پھر ایک افراتفری کی صورتحال یہ سب پاکستان کے الیکشن کی روایتوں میں شامل ہو گیا ہے۔
الیکشن ویسے تو سیاسی منظر نامے میں اہمیت کے حامل ہوتے ہی ہیں مگر کچھ موقع ایسے ہوتے ہیں جن میں عالمی نظرین بھی الیکشن کی نگرانی کر رہی ہوتی ہیں
آزاد کشمیر میں ہونے والی الیکشن بھی کافی اہمیت کے حامل تھے۔ الیکشن سے پہلے تک تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کو جتوانے کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں کر رہی تھیں، چاہے جسلے جلوس ہوں یا پھر کارنر میٹنگز۔
پاکستانی سیاست میں آزاد کشمیر کی سیاست کا عمل دخل:
پاکستان کی سیاست میں کشمیر ایک اہم مدعہ رہا ہے۔ جو بھی حکومت آتی ہے، اسے کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی واضح کرنا ہوتی ہے۔ کوئی نرمی سے بات چیت کے ذریعے معاملات کو سلجھانا چاہتا ہے تو کوئی اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اگر بات ہوگی تو شروعات کشمیر سے ہوگی۔
پاکستانی عوام بھی کشمیر کو ایک اہم شہہ رگ سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلہ کو پارٹی پالیسی میں شامل کرتی ہیں۔
آزاد کشمیر کے اس الیکشن کی اہمیت اس لیے بھی تھی اگر حکمران جماعت یہ الیکشن ہار جاتی تو خان صاحب کی حکومت کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا اور اپوزیشن ایک بار پھر حاوی ہونے کی کشش کرتی۔ مگر خان صاحب کی پارٹی کی جیت نے رخ تبدیل کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اس تبدیلی کو ایک نئے رخ سے دیکھ رہی ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اکثریت اور مقبولیت ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی جیت نے اپوزیشن کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
اس جیت کے بعد پاکستانی سیاست میں کشمیر سے متعلق بھی ایک لائن کھنچ جائے گی۔
ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ ن لیگ کی حکومت میں کشمیر کے مسئلے پر زیادہ اہمیت نہیں دی گئی تھی، نواز شریف حالانکہ بات چیت پر زور دیتے تھے مگر اس طرح بیانیہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ خان صاحب کی حکومت کے حالیہ بیانیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر بھارت سے بات چیت ہوگی تو سب سے پہلا موضوع کشمیر ہوگا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا موضوع نہیں ہو سکتا ہے۔ اس بیانیے نے بھارت کے قریبی دوست امریکہ نے بھی بھارت کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان سے بات کرنے پر اصرار کیا تھا۔
سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار بھارت بے نقاب:
آزاد کشمیر الیکشن میں جہاں ایک آزاد کشمیر کا بیانہ کھل کر سامنے آیا ہے یعنی آزاد کشمیر کی عوام نے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے آزادانہ طور پر اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار بھارت، مقبوضہ کشمیر کی عوام کو حق رائے دہی کا اختیار ہی نہیں دے پایا کیونکہ عوام کٹھ پتلی ریاست کو مانتی ہی نہیں۔
بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ خود اپنی عوام کے منہ پر بھی تمانچہ ہے جس نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق عوام میں گمراہی پیدا کی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر میں ہونے والی سیاسی سرگرمی اور حق رائے دہی کا انتخاب نہ صرف عالمی طور پر آزاد کشمیر کا بیانیہ رکھے گا بلکہ مقبوضہ کشمیر کے حقوق کو بھی واضح کرے گا جو کہ بھارت چھین چکا ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ماضی میں بھی ایمنسٹی انٹرنیشل سمیت نکئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا تھا مگر اب جب آزاد کشمیر کی عوام نے الیکشن میں حق رائے دہی کے استعمال کیا، اس سے دنیا بھر میں بھارتی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ وادی میں بھارت جارحیت کو واضح کرے گی۔
آزاد کشمیر الیکشن میں خان صاحب کا بیانیہ:
آزاد کشمیر الیکشن سے خان صاحب کا بیانیہ کافی مضبوط ہوا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر ایک واضح موقف رکھا ہے سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا نے بھی خان صاحب کے بیانیہ کو واضح طور نشر کیا ہے۔
" ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہیں، بلکہ ہم جواب دیں گے" خان صاحب کے اس بیانیے نے پاکستان کا موقف دنیا بھر کے سامنے واضح کر دیا تھا، اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں خان صاحب کا بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنا بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوا جس نے کشمیر کے موضوع کو عالمی خبر کے طور پر پیش کیا۔
آزاد کشمیر میں عمران خان کی جیت نے 2023 کے الیکشن میں خان صاحب کے لیے ایک امید کی کرن پیدا کر دی ہے۔
منفی پہلو اجاگر کرنا اور بھارتی میڈیا کا واویلا:
اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں، یہ وہ جملہ ہے جس نے اس الیکشن میں بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ اپنے ہی اپنوں کو دکھ دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی ن لیگ کو شکست ہونے پر ن لیگ کے مقامی رہنما چوہدری محمد اسماعیل گجر نے بھارت سے مدد مانگنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
ن لیگ کے رہنما چوہدری اسماعیل گجر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ الیکشن میں شکست سے دوچار ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر الیکشن میں ہمیں کام نہیں کرنے دیا تو ہم بھارت سے مدد مانگے گے۔ ہمارے کیمپ اکھاڑے جا رہے ہیں، اس سے اچھا تو بھارت ہے جہاں کیمپ نہیں اکھاڑے جاتے۔
اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے ن لیگی رہنما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس پر سونے پر سہاگہ مریم نواز کا ٹوئیٹ تھا جس نے بھارتی میڈٰیا کو پاکستان کے خلاف بولنے کا ایک اور موقع دے دیا۔
اس منفی پہلو کو بھارتی میڈیا نے خوب استعمال کیا اور پاکستان کو خوب بدنام کرنے کی کوشش کی۔
کیا بھارت میں بھی الیکشن کیمپ اکھاڑے جاتے ہیں؟
مقبوضہ کشمیر میں تو الیکشن کے لیے ہی بھارتی مرضی شامل ہوتی ہے، کشمیری کی آواز سنی ہی نہیں جاتی، کٹھ پتلی اننتظامیہ کو استعمال کرتے ہوئے جعلی الیکشن کرائے جاتے ہیں۔
گزشتہ الیکشن میں بھی کرفیو نافذ تھا، سیاسی سرگرمیاں بھی محدود تھیں اور جلسے جلوس پر بھی ایک حد تک پابندی تھی۔ اس سب صورتحال میں کیا واقعی کشمیر کے معاملے پر بھارت پاکستان سے بہتر ہے؟ فیصلہ آپ خود کرلیں۔