جب میرے بھائی کے انتقال کی خبر ملی تو میں اکیلا اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔۔ جانیے ان بہادر شہیدوں کی کہانیاں جن کے نام آج بھی بھارت میں مشہور ہیں

image

پاکستانی فوج کے جوان ہمہ وقت دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے میں مگن رہتے ہیں، اسی دوران وہ شہادت یا غازی کے رتبے تک بھی پہنچتے ہیں۔

ایسے ہی چند جوانوں کے بارے میں بتائیں گے جنہوں نے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، خود شہادت کا رتبہ حاصل کر کے دشمن کو ناکامی سے دوچار کر دیا تھا۔

کیپٹن سرور شہید:

کیپٹن سرور شہید پاکستانی فوج کے وہ جانباز جوان تھے جنہوں نے کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف ہونے والی جنگ میں حصہ لیا تھا۔

1910 میں گوجر خان ڈسٹرکٹ میں پیدا ہونے والے کیپٹن سرور شہید بچپن ہی سے بہادر تھے، والد بھی برٹش آرمی میں بطور کانسٹیبل ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے۔ والد محمد حیات خان کو پہلی جنگ عظیم میں کردار ادا کرنے پر برٹش آرمی نے زمین تحفے میں دی گئی تھی۔

کیپٹن سرور شہید 27 جولائی کو دشمن کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے، ان کی بہادری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہیں مشین گن کی گولی سینے پر لگی تو اس وقت بھی وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد کر رہے تھے۔

کیپٹن سرور شہید کے صاحبزادے راجہ صفدر کہتے ہیں کہ والد کی کمی تو محسوس ہوتی ہے مگر فخر ہے کہ میرے والد نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ شہادت سے پہلے بھی وہ گھر کی تعمیر کر وارہے تھے۔ مزدوروں کو ان کی مزدوری دی اور کہا کہ یہ پیسے لو، میں کشمیر جا رہا ہوں، نہیں معلوم واپس آؤنگا یا نہیں۔

راجہ صفدر نے بتایا کہ ایک مرتبہ والد صاحب کے دوست نے والد کو تہجد کی نماز میں روتے ہوئے دعا مناگتے دیکھا۔ جب ہم سب نے اصرار کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے دعا کی ہے کہ یا اللہ مجھے شہید کا رتبہ نصیب کر دے یا مجھے حج کے لیے بلا لے۔

کرنل شیر خان:

کرنل شیر خان بھی ان بہادر سپاہ سالاروں میں شامل ہیں جن کی قیادت میں پاکستانی فوج نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے تھے۔ یہ وہ جوان تھا جس کی تعریف دشمن بھی کیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔

کارگل کی جنگ میں کرنل شیر خان نے دشمن کو یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اگر حملہ آور ہوگے تو اس حملہ کا جواب بھی اسی طرح دیا جائے گا۔ پہلی مرتبہ بھارتی فوج پاکستانی فوج کے رد عمل پر حیرت زدہ تھی۔ خود بھارتی فوجی ایم ایس باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کُرتے پاجامے میں تھی لیکن کرنل شیر خان تنہا ٹریک سوٹ میں تھا۔

ملک کی خاطر کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کرلیا مگر ملک پر آنچ نہیں آنے دی۔ کرنل شیر خان کے بھائی کرنل شیر خان کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کرنل شیر خان کا نام ایک تاریخی واقعہ کی بنا پر پڑا۔ چونکہ ہمارے دادا بھی آرمی میں تھے اور 1948 میں کشمیر پر جنگ کے لیے میرے دادا بھی گئے تھے۔ اس وقت کرنل شیر خان نامی ایک جوان تھا جس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں کان چنے چبوا دیے تھے۔

دادا کی خواہش تھی کہ ایک اور کرنل شیر خان دشمن کو اس کی اوقات دکھا دے۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک اور کرنال شیر خان پیدا ہوا۔ بھائی بچپن ہی سے ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔

جب ہمیں شیر خان کی شہادت کی خبر ملی تو میں نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا اور خود ہی شہید کے جسد خاکی کی وصولی کے لیے نکل پڑا۔ لیکن ہمیں پتہ چلا کہ بھارتی فوج نے شہید جوانوں کو سرینگر میں دفنایا تھا۔

لیکن میں نے کرنل شیر خان کی جیب میں ایک خط رکھا ہوا تھا جس میں کرنل شیر خان کا نام اور پتہ موجود تھا۔ اسی خط کی بدولت بھارتی فوج کرنل شیر خان کو پہچان پائی تھی۔

پاکستان کے ان بہادر جانبازوں نے ملک کو نا صرف میلی نگاہ رکھنے والوں سے بچا کر رکھا بلکہ اپنی کا جان کا نظرانہ تک پیش کر دیا اور ثابت کر دیا ہے کہ وطن کا دفاع کسی بھی قیمت پر کیا جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US