علی سدپارہ پاکستانی قوم کا فخر، قوم کے ہیرو ہیں ان کی زندگی میں جتنی ان کو عزت و مقام نہیں ملا، اتنا اب ان کے مرنے کے بعد ملا، یہ ہماری قوم کا المیہ ہے مگر اب رہتی دنیا تک علی سدپارہ کا نام '' پہاڑوں کا بیٹا '' ، '' پہاڑوں کا رکھوالا'' کے نام سے یاد رہے گا۔
علی سدپارہ کے کھو جانے کی خبر نے پوری قوم کو عشکبار کیا،اور یوں 5 ماہ بعد ان کی لاش کی تصدیق ہونا اور ملنا پاک فوج کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن لاش تو مل گئی اب پہاڑوں سے نیچے کیسے لائی جائے، اس کے لئے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے ایک بڑا اہم کارنامہ انجام دیا۔
ساجد سدپارہ نے بناء آکسیجن کے دوسری مرتبہ کے ٹو سر کرکے دنیا بھر میں نہ صرف اپنا نام بنا لیا اور ایک اہم کارنامہ انجام دے دیا، ساتھ ہی اس نے باپ کی لاش کو کے ٹو کے مقام سی 4 پر بوٹل نیک کے مقام پر محفوظ کردیا ہے اس کا کہنا ہے کہ:
''
میں نے ابو کی لاش کو برف میں محفوظ کردیا ہے، اس وقت میں ان کو ساتھ نہیں لے جا رہا، کچھ وقت بعد مناسب حالات میں لاش کو واپس ساتھ لے کر جاؤں گا۔
''
ساجد نے اس مقام پر پاکستان کا جھنڈا بھی نصب کردیا اور والد کے لئے قرآن خوانی کی۔ میت کو بوٹل نیک سے سی فور تک نیچے لانے میں ارجنٹائن کے ایک کوہ پیما نے بھی مدد کی۔