ہم سب سے شادی کے موقع پر ادا کی جانے والی کئی رسومات کے بارے میں سُنا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جہاں شادی ناکام ہونے پر طلاق کے موقع پر بھی عجیب و غریب رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
آج ہم انہیں دلچسپ اور عجیب رسومات کے بارے میں آپ کو بتائیں گے جنہیں جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی کہ کیا واقعی طلاق کے موقع پر بھی اس طرح کی رسومات ادا کی جاتی ہوں گی، تو آیئے پھر شروع کرتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں طلاق کے موقع پر ادا کی جانے والی عجیب و غریب رسومات
چین
چین سے تعلق رکھنے والے جینگ افراد ایک ایسی اقلیت ہے جن میں طلاق کا ایک مخصوص طریقہ ہے، جس کے مطابق طلاق کے سرٹیفیکٹ پر دستخط گھر کے اندر نہیں کیا جاسکتا ہے اور دستخط کرنے کے فوراً بعد قلم اور دوات کو برا شگون سمجھ کر دور پھینک دیا جاتا ہے۔
فلپائن
فلپائن دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کے شہریوں کو اپنی شریکِ حیات کو طلاق دینے کی اجازت نہیں ہے۔
طلاق کے لیے تیسرے فریق پر ہرجانہ
امریکہ میں سات ریاستیں ایسی ہیں جن میں اگر کسی جوڑے میں طلاق کا فیصلہ ہو تو انہیں باہم رضامندی سے کسی تیسرے شخص کو طلاق کی وجہ قرار دے کر اس سے بھاری جرمانہ لیا جاتا ہے البتہ اس شخص کے خلاف ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں کہ اس ہی کی وجہ سے طلاق کی نوبت آئی۔
ساس سے برا سلوک طلاق کی وجہ نہیں ہو سکتا
امریکی ریاست کنساس میں شادی کو لمبے عرصے تک چلانے کے لئے ایک ایسا قانون موجود ہے جس میں طلاق کی وجہ ساس کے ساتھ بُرا سلوک نہیں ہو سکتا، جس کے تحت دونوں فریق کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ساس کے ساتھ بدسلوکی یا برے تعلقات رکھنے پر ایک دوسرے کو طلاق دے سکیں۔
ہنسی مذاق میں شادی کرنے والوں کو طلاق کی اجازت
آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوگی کہ امریکی ریاست ڈیلاوئیر میں اگر کسی جوڑے نے مذاق میں یا کسی شرت کی بنیاد پر شادی کی ہو تو بعد میں انہیں راہیں جدا کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔
آسٹریلیا کے قبائلی علاقوں کا قانون
آسٹریلیا میں قبائلی خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یا تو اپنے شوہر کو طلاق دینے کے لیے آمادہ کریں یا پھر شادی سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک دوسری شادی کر لیں، اگر وہ ایک شادی پر ایک اور شادی کر لیں تو ان کی پہلی شادی خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے۔
نیویارک کا قانون
نیو یارک میں اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ آپ کے شریک حیات کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے تو آپ کو طلاق مل سکتی ہے۔
برطانیہ
برطانیہ میں اگر آپ کو اپنے شریکِ حیات سے طلاق چاہیئے ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس کی عجیب و غریب برائیوں کا ذکر کریں صرف ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر طلاق منظور نہیں کی جاتی۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گزشتہ دِنوں یہ بات انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی کہ برطانیہ میں ایک شوہر نے طلاق کے مقدمے میں کہا کہ وہ اپنی بیوی کو اس لیے طلاق دینا چاہتا ہے کیونکہ وہ ہر روز مچھلی پکاتی ہے۔