پاکستانی خواتین ویسے توکئی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہیں چاہے سیاست میں ہوں یا پھر ثقافت میں۔ لیکن کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو کہ سیکیورٹی اداروں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔
آج ایسی ہی چند خواتین کے بارے میں بتائیں گے جنہوں نے خواتین ہونے کے باوجود مردوں کو حیران کر دیا ہے اور اس سماج میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔
جنرل نگار جوہر:
جنرل نگار جوہر خان پاکستان آرمی کی وہ پہلی خاتون آفیسر ہیں جو کہ لیفٹینینٹ جنرل کے عہدے تک پہنچی ہیں۔ جنرل نگار کا شمار پاکستان آرمی کی ان خواتین میں بھی ہوتا ہے جو کہ سخت محنت و مشقت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔
جنرل نگار اس وقت پاکستان آرمی میں بطور سرجن جنرل اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ 35 سالہ سروسز میں جنرل نگار کے لیے یہ بہت بڑا دن تھا جب انہیں لیفٹینیٹ جرنل کا عہدہ ملا۔
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں پیدا ہونے والی جنرل نگار کے والدین اور بہن بھائی ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
اس وقت جنرل نگار کا شمار پاکستان کی معروف پاکستانی آفیسرز میں ہوتا ہے۔
ایس ایچ او فرافت خان:
ایس ایچ او شرافت خان سندھ پولیس کی ان جانباز پولیس آفیسرز میں سے ہیں جو زخمی ہو گئیں مگر اپنے فرض کو پورا کیا۔ کراچی کے مختلف تھانوں میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتی شرافت خان نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ انہیں کیفر کردار تک بھی پہنچایا۔
ایس ایچ او ویسے تو اپنے بہادرانہ انداز کی وجہ سے جانی جاتی ہیں لیکن وہ اس وقت کافی مشہور ہو گئی تھیں جب لاک ڈاؤن کے دوران عوام ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مساجد مین نماز کا اہتمام کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اورنگی ٹاؤن کی ایک مسجد پر چھاپہ مارا تھا اور مسجد کی انتظامیہ کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان کے اس چھاپے کی خبر پاکستان سمیت بین الااقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی ہیڈ لائنز میں شامل کیا تھا۔
مریم مختار:
پاکستان ائیر فورس کی جانباز آفیسر، مریم مختار جنہوں نے خواتین کے لیے ائیر فورس پائلٹس کئی راہیں کھول دیں۔ مریم مختار دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا عزم رکھتی تھیں۔ اسی حوالے سے وہ فلائنگ آفیسر بھی تھی اور مشقوں میں حصہ کیا کرتی تھیں۔
مریم مختار کا شمار ان با صلاحیت آفیسرز میں ہوتا تھا جو اپنا فرض دلیری سے ادا کرتے تھے۔
واضح رہے 2015 میں مریم مختار تربیتی جہاز کریش کر جانے کے باعث شہید ہو گئی تھیں۔
عائشہ فاروق:
عائشہ فاروق کا شمار بھی پاکستان ائیر فورس کی باصلاحیت آفیسرز میں ہوتا ہے۔عائشہ فاروق پاکستان ائیر فورس کی پہلی فائٹر پائلٹ ہیں۔
24 اگست 1997 میں پیدا ہونے والی عائشہ فاروق نے 2013 میں پاکستان ائیر فورس کا امتحان پاس کر کے فائٹر پائلٹ بنی تھیں۔ عائشہ فاروق اس وقت چینی ساختہ طیارے شینگڈو جے 7 کو چلاتی ہیں۔