پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند تھے وب کھلنا شروع ہو چکے ہیں۔ لیکن صورتحال کے پیش نظر اب بھی تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔
اس صورتحال میں دنیا بھر میں جہاں عوامی مقامات اور عوامی جلسے جلوسوں میں ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے اور پابندیاں تک لگائی جا رہی ہیں وہیں سندھ حکومت الٹی راہ پر گامزن ہے۔
گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا، اس فیصلے میں تعلیمی ادارے 30 اگست تک بند کرنے کو کہا گیا ہے۔ جبکہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔
اس فیصلے میں عوام میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے۔ کوئی سندھ حکومت کو اس فیصلے پر تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے تو کوئی اسے میمز میں شامل کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہے جس میں کچھ بوڑھی عورتیں اسکول کو جا رہی ہیں اور یونیفارم بھی پہنا ہوا ہے۔ صارفین اس میم کو سندھ حکومت کے فیصلے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ جب سندھ حکومت تعلیمی اداروں کو کھولے گی، تو صورتحال کچھ یوں ہوگی۔
جبکہ ایک اور میم میں ایک بچی اپنی کتابوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے جب ہی ایک شخص نے اس بچی کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا ہوا ہے۔ اس میم میں بھی بچی کو طالب علموں اور شخص کے پاؤں کو سندھ حکومت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایک میم ایسا بھی ہے جو کہ سندھ حکومت کی سمت کو واضح کر رہا ہے۔ اس میم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باقی تمام صوبے ایک سمت میں ہیں جبکہ سندھ حکومت الٹی سمت میں ہے۔