اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا

image

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے اختیارات سے تجاوز اور بغیر قانونی پراسس گرفتاری کے خلاف تاریخی حکم جاری کرتے ہوئے ایسی گرفتاری کو اغوا کے مترادف قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر قانونی پراسس کا غلط استعمال ہو اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے تو ایسی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی جائیں گی۔

16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جاری کیا، جس میں سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازعے سے جڑے کیس میں اہم احکامات دیے گئے۔

عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ان کی اہلیہ ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف تھانہ ترنول اسلام آباد میں درج مقدمہ نمبر 653/25 خارج کر دیا۔ مقدمہ پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی طے کر چکی ہے کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام کارروائیاں ختم سمجھی جائیں گی۔ تاہم سپریم کورٹ کے مطابق کرمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا اختیار محدود ہے اور اسے غیر معمولی حالات میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

ڈی آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ کے مطابق ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ہر اہلکار پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثنا سہیل کو ادا کی جائے۔ اس کے علاوہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، نقد رقم اور زیورات فوری طور پر واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے پر عدالت نے لاہور پولیس کو ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف میرٹ پر تحقیقات کی جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے 30 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US