اس ملک میں نہیں رہنا ہمیں یہاں سے لے جائیں! 3 دن سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا جس کا ڈر تھا۔۔ کابل ائیر پورٹ دھماکے میں زندگی سے محروم ہوجانے والوں کی کہانی

image

گزشتہ روز افغانستان کے کابل ائیرپورٹ پر تین خودکش دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد اب تک کی اطلاعات کے مطابق 73 بتائی جا رہی ہیں، ہلاک ہونے والوں میں 13 امریکی بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے بعد کابل ائیرپورٹ پر بھگدڑ مچ گئی اور ایک کے بعد ایک ہلاکتیں ہوتی گئیں۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق داعش نے کابل ائیرپورٹ پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

جب شام چھ سے ساڑھے چھ کے درمیان ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ، جو جنوبی گیٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے باہر دھماکہ ہوا تو میں کمرے میں سو رہا تھا۔ رپورٹر سکندر کرمانی نے آ کر مجھے جگایا اور اس افسوسناک خبر سے آگاہ کیا۔

کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کے الرٹ ہمیں طالبان، امریکی خفیہ ایجنسیز، اپنے دفتر کی جانب سے ایڈوائزری ہر سطح پر موصول ہو رہے تھے۔

ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ ہو گیا ہے، یہ جملہ سننے سے تین روز پہلے تک مسلسل یہی سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو بھی گیا۔

طالبان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں یہ پہلا دھماکہ ہوا ہے۔

کابل شہر پر اپنا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی صحافیوں کو ہدایت دی کہ ایک محفوظ فاصلے سے ایئرپورٹ جائیں۔

ہم پہلے تو دھماکوں کے بعد عام طور پر تصدیق کے لیے وزارت صحت سے رابطہ کرتے تھے لیکن آج رابطہ کیا تو جواب ملا کہ ہمیں بات کی اجازت نہیں، اسلامی امارات والوں سے پوچھیے کہ کتنے زخمی اور ہلاک ہوئے۔

سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی دل دہلانے والی تصاویر اور ویڈیوز تباہی اور جانی نقصان کا پتا دیتی ہیں۔ ان سینکڑوں افراد میں کون کس سے بچھڑ گیا کچھ معلوم نہیں۔

میں 15 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد سے اب تک تین بار کوریج کے لیے ایئرپورٹ جا چکا ہوں۔ جب میں یہاں اترا تھا وہ لمحات مجھے اب بھی یاد ہیں۔

صحافی بتاتے ہیں کہ ایک عجیب سی خاموشی تھی جیسے کچھ برا ہونے والا ہے۔ جب باہر آیا تو دیکھا کہ سڑکوں پر ہرطرف لوگ بھاگ رہے تھے کہیں سے کوئی چیخ رہا ہے تو کہیں سے کسی کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔

اس دن سے اب تک ہزاروں لوگ یہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہ لوگ جو کل تک کووڈ کی وبا میں موت کے خوف سے سماجی دوری پر تھے لیکن اب طالبان کے ہاتھوں موت کے خوف سے زندگی کی تلاش میں وبا کو بھول کر محدود جگہ پر ایک دوسرے کے ساتھ دن رات بیٹھے رہتے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ شاید کوئی آئے اور انھیں کسی بھی جہاز پر بٹھا کر یہاں سے لے جائے۔

صحافی بتاتے ہیں کہ وہاں ایسا گمان ہوتا ہے کہ سب بھاگ رہے ہیں جیسے کہتے ہیں ناں کہ قیامت کا منظر کہ ہر شخص بھاگ رہا ہو۔ یہ سڑک ایک جگہ جا کر بند ہو جاتی ہے اس کے بعد ڈیرھ سے دو کلومیٹر پیدل جانا ہوتا ہے، کھیت ہوتے ہیں۔ جب ہم کل وہاں گئے تو میں نے دیکھا کہ سامان اٹھانے والی ریڑھیوں میں وہاں بزرگ خواتین کو لے کر جا رہے تھے۔

یہاں لگے شامیانوں میں خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ رفع حاجت کے لیے کہاں جاتے ہیں، کھانے پینے کا کیا انتظام ہے، کچھ سمجھ نہیں آتی۔

ابھی کل ہی یہاں مجھے ایک خاتون ملیں، جن کا کہنا تھا کہ میں یہیں کابل میں اپنے گھر بھی نہیں جانا چاہتی، مجھے اس ملک میں نہیں رہنا یا یہاں سے لے جائیں ہمیں یا پھر امریکی گولی مار دیں۔

اس سے قبل بھی کابل ایئرپورٹ پر متعدد بار حملے کیے جا چکے ہیں جن میں راکٹ حملوں کی بڑی تعداد ہےلیکن جانی نقصان کے لحاظ سےیہ بڑا حملہ ہوا ہے۔

میں واپس جانے کے بارے میں نہ کل سوچ رہا تھا نہ آج سوچ رہا ہوں۔ شام ایئرپورٹ کے حملے کے بعد ہم کابل شہر کی صبح لی جانے والی تصاویر پر رپورٹ کرنے کے بعد اب مسلسل بم دھماکے کے حوالے سے اپ ڈیٹس دے رہے ہیں لیکن میرے ذہن کی سکرین پر فلیش بیک چل رہا ہے۔ ماضی کا ہر منظر میری کوشش کے باوجود میرے ذہن کے پردے سے نہیں ہٹ رہا۔

وہ منظر جب میرے والد کیمرہ مین ملک محمد عارف کوئٹہ کے ہسپتال میں ایسے ہی ایک خودکش حملے میں ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ وہ منظر جب میرے پیارے دوست اعجاز رئیسانی، عمران شیخ اور بہت سے ساتھی دھماکوں میں جاں سے گزر گئے۔

سچ پوچھیے تو جو لاشیں آپ ہم گنتے ہیں، وہ لاشیں تو سامنے ہوتی ہیں لیکن چلتی پھرتی لاشیں وہ خاندان ہوتے ہیں جن کی زندگی پھر کبھی ویسی نہیں ہوتی جو اس دھماکے کی گونج سے پہلے تک تھی۔

بشکریہ بی بی نیوز۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US