اوون والا چولہا یا سادہ۔۔۔ کونسا اوون یا چولہا گھر میں استعمال کے لئے زیادہ بہتر ہے؟ جانیں

image

ہر پاکستانی عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس ایسا چولہا ہو جس میں ایک ساتھ کئی ہانڈیاں پکائی جاسکیں تاکہ اسے بار بار گرمی میں کھڑے ہونے سے نجات مل جائے اور کچن بھی صاف ستھرا رہے۔ اس آرٹیکل میں “ہماری ویب“ کے پڑھنے والوں کو باورچی خانے کی بنیادی چیزوں جیسے بلٹ ان چولہا، چمنی اور بِلٹ ان اوون کے بارے میں بتایا جائے گا۔

زیادہ چولہے والا ہوب

“ہماری ویب“ کی ٹیم نے کچن کے بنیادی ضروریات کی چیزوں کے بہترین معیار کے بارے میں جاننے کے لئے عباللہ ہارون مارکیٹ کا رخ کیا جو ایشیاء کی سب سے بڑی الیکٹرانک مارکیٹ ہے۔ یہاں ایک الیکٹرانک مارکیٹ کے مالک نے بتایا کہ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ چولہے والا ہوب (چولہے کا اسٹینڈ) ہو جبکہ پانچ یا چھ چولہے والے ہوب میں چولہے چھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں بڑی دیگچیاں یا پتیلیاں رکھ کر ایک ساتھ پکانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے تین چولہے والے ہوب میں ایک ساتھ دو بڑی دیگچیاں رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لئے پانچ یا چھ کے بجائے تین چولہے والا ہوب لینا بہتر ہے۔

اسٹیل والا چولہا بہتر ہے

چولہے کی اقسام کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ “دو طرح کی اقسام آتی ہیں ایک اسٹیل کی اور دوسری ایم ایس۔ اسٹیل ہوبز کی قیمت اٹھارہ سے بیس ہزار تک ہے جب کہ ایم ایس ہوبز کی کوالٹی کے حساب سے مختلف قیمتیں ہیں۔ ایم ایس ہوبز کی سب سے اچھی کوالٹی دس گیارہ ہزار کی آجائے گی جب کہ اک کوالٹی چھ یا سات ہزار کی بھی مل جائے گی۔

شیشے والا ہوب

آپ نے ٹی وی میں شاید دیکھا ہو کہ بڑے اور عالیشان کچن میں شیشے کے چولہے ہوتے ہیں لیکن دکان کے مالک نے بتایا کہ پاکستان میں بہت زیادہ کوکنگ ہوتی ہے اور اس لحاظ سے شیشے کے ہوبز لگوانا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ بھاری کوکنگ برداشت نہیں کرسکتے اور پھٹ جاتے ہیں۔

بِلٹ اِن اوون

بلٹ ان اوون دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اوون اور ایک مائیکروویو۔ بلٹ ان اوون لینے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ خوبصورت لگتے ہیں اور ان کو عام اوون کی طرح وینٹیلیشن کے لئے جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ااون میں سب سے اہم چیز تھرموسٹیٹ ہوتا ہے خریدنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ تھرموسٹیٹ صحیح کام کرتا ہے یا نہیں۔ بلٹ ان اوون میں بیکنگ، باربی کیو اور گرلنگ ہوسکتی ہے جبکہ مائیکرویو میں گرلنگ کے زریعے کھانا اور بیکری آئٹم بلکل خستہ گرم ہوسکتے ہیں۔ ان اوونز کی قیمتیں ساٹھ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک ہوسکتی ہیں۔

چمنی

ایگزاسٹ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اکثر لوگوں کو جدید چمنیوں یا ایگزاسٹ کا صحیح استعمال نہیں آتا۔ کھانا پکاتے ہوئے ایگزاسٹ کو ہلکی رفتار سے چلائیں۔ اس سے کچن میں دھواں نہیں بھرتا نہ دیواروں اور برتنوں پر کالک جمتی ہے۔ اگر کام کرتے ہوئے ایگزاسٹ کی آواز پسند نہ ہو تو کوکنگ کرنے کے بعد دس منٹ تک تیز رفتار پر ایگزاسٹ چلا دیں اس سے کچھ میں موجود تمام دھواں اور چکنائی ختم ہوجائے گی۔ کا کاروبار کرنے والے صاحب کے مطابق کچن کی ان جدید ضرورتوں کا پیکج ڈیڑھ سے دو لاکھ تک کا مل جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US