ایلیکس ایک حادثے میں اپنی یاداشت کھو بیٹھے۔ ان کی پرانی زندگی کو یاد کرانے میں ان کے جڑواں بھائی نے ان کی مدد کی لیکن وہ کئی برس تک ان سے ایک سچ چھپاتے رہے۔

جب ہسپتال کے بستر پر پڑے ایلیکس کو ہوش آیا تو ان کی عمر 18 سال تھی اور انھیں کچھ یاد نہ تھا۔ وہ کوما میں رہے تھے اور ان کی یادداشت سے ہر چیز غائب ہو چکی تھی۔ وہ اپنی زندگی کی ہر چیز، یہاں تک کہ اپنا نام اور عمر تک بھول چکے تھے۔
لیکن انھوں نے اپنے جڑواں بھائی مارکس کو پہچان لیا۔
یہ اس نوجوان برطانوی لڑکے کا بھائی ہی تھا، جس نے بچپن اور لڑکپن کی بھولی یادیں واپس لانے میں مدد کی، وہ تعلقات بھی یاد دلائے جو ایلیکس نے زندگی میں قائم کیے تھے۔
لیکن ایک دہائی بعد ایلیکس کو معلوم ہوا کہ انھوں نے جو خوبصورت ماضی تعمیر کیا تھا، وہ سب جھوٹ تھا۔
حادثہ
یہ سنہ 1982 تھا، ایلیکس موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھے سفر کر رہے تھے جب وہ گری اور دھماکے سے اس میں آگ لگ گئی۔
ایلیکس نے بتایا کہ ’مجھے فوراً ہسپتال لے جایا گیا، سر پر کئی چوٹوں کی وجہ سے میں کوما میں چلا گیا۔ ڈاکٹرز نے میرے والدین اور رشتہ داروں کو بتا دیا تھا کہ میرے کوما سے باہر آنے کے امکانات خاصے کم ہیں۔‘
صرف ایک شخص ایلیکس کے کوما سے باہر آنے کے لیے پر امید تھے اور وہ ان کے بھائی مارکس تھے۔
’وہ تمام وقت میرے ساتھ رہا، مجھ سے باتیں کرتا رہا، مجھے موسیقی سناتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک دن اچانک میں اٹھا، اس کو دیکھا اور کہا، ہیلو مارکس!‘
پھر ایلیکس نے کمرے میں ایک خاتون کو دیکھا جو بستر کے گرد دیوانہ وار چکر لگا رہی تھیں اور رو رہی تھیں۔
’میں نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ تو انھوں نے بتایا کہ یہ ہماری ماں ہیں لیکن میں انھیں پہچان نہ پایا۔ درحقیقت مجھے تو اپنا نام تک معلوم نہ تھا۔ مجھے بس یہ معلوم تھا کہ کمرے میں موجود لڑکا میرا جڑواں بھائی ہے اور اس کا نام مارکس ہے۔‘
ڈاکٹرز نے سمجھایا کہ سر پر سخت چوٹ اور کوما کے بعد یادداشت کا کھو جانا معمول کی بات ہے لیکن ایلیکس کے کیس میں تو وہ بھی حیران تھے۔ ایلیکس کو اپنے سے زیادہ، یا کسی اور چیز سے زیادہ بھی اپنے بھائی کے بارے میں معلوم تھا۔
ایلیکس نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ایک جیسا نظر آنے والے جڑواں بھائیوں کو ایک دوسرے سے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ایک کو معلوم ہوتا کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ یہ اتنی ہی سادہ بات ہے۔‘
بالغ جسم میں قید بچہ

18 سال کی عمر میں ایلیکس خود کو ایسا بچہ محسوس کرتے تھے جس کا صرف جسم بالغ ہو گیا ہے۔ اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں انھیں مشکل پیش آ رہی تھی اور ایک بچے کی طرح انھیں بالکل بنیادی سی چیزیں بھی سیکھنا پڑ رہی تھیں، جیسے کہ جوتوں کے تسمے باندھنا۔
مارکس نے ان کی مدد کرنے کی ذمہ داری سنبھالی، صرف روزمرہ کے کاموں میں ہی نہیں بلکہ ماضی کی بھولی باتیں یاد کرانے جیسے مشکل کام میں بھی۔
مارکس یاد کرتے ہیں کہ ایلیکس کے پاس بہت سے سوالات ہوتے تھے، انھیں اپنے بھائی کو ایک ایک چیز شروع سے بتانا پڑی۔
’مجھے اس کو وہ جگہ دکھانا پڑی جہاں ہم رہتے تھے۔ یہ کچن، یہ باتھ روم ہے، یہ ہمارا بیڈ روم، یہ تمہارا ٹوتھ برش ہے، یہ تمہارے جوتے ہیں۔‘
مارکس کہتے ہیں کہ ’میں نے ایلیکس کو بتایا کہ ہم بس ایک عام سا خاندان تھے۔ میں نے اسے ساحل سمندر پر کھینچی گئی ہماری تصویر دکھائی۔ وہ اسے دیکھتا اور کہتا کہ اچھا یہ ہم بطور خاندان چھٹیاں منا رہے تھے۔ اسے زیادہ تفصیل درکار نہ ہوتی، بس یہ جاننے میں دلچسپی ہوتی کہ ہم جا کہاں رہے تھے، ہمارے پاس کار کون سی تھی، بس اس طرح کی باتیں۔‘
کوما سے باہر آنے کے بعد بھی ایلیکس نے کئی ماہ ہسپتال میں گزارے۔ گھر آنے پر ایلیکس کو معلوم ہوا کہ وہ اور ان کا بھائی اپنی ماں کی پہلی شادی سے تھے اور جب ان کی عمر صرف تین ہفتے تھی تو ان کے والد جان لوئس ایک کار حادثے میں چل بسے تھے۔
ایلیکس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی والدہ کے دوسرے شوہر جیک ڈڈلی سے بھی دو بچے ہیں، اولیور اور امانڈا۔
ہسپتال سے واپس آنے کے بعد بھی ایلیکس اپنی زندگی کی کہانی جاننے کے لیے مارکس کے محتاج رہے۔
ایلیکس نے وضاحت کی کہ ’میرے بھائی نے مجھے میری گرل فرینڈ سے ملوایا لیکن میرے لیے تو وہ ایسے ہی تھی جیسے پہلی بار مل رہا ہوں۔ مارکس نے بتایا کہ وہ نوکری کرتا تھا اور اپنے والدین کے گھر نہیں رہتا۔ میں اس کی کہی ہر بات پر یقین کرتا گیا۔‘
مارکس نے اپنے دوستوں سے تعلقات بنانے میں بھی ایلیکس کی مدد کی۔ کھانے کی دعوتوں سے پہلے مارکس انھیں بتا دیا کرتے کہ اب وہ کس سے ملنے والے ہیں، اس تعلق کی نوعیت کیا ہے اور وہ کتنے عرصے سے انھیں جانتے ہیں۔
مارکس نے کہا کہ ’ایلیکس لوگوں سے ملتے اور ایسے ظاہر کرتے جیسے سب کچھ ٹھیک ہے، جیسے وہ سب کو جانتے ہیں۔ وہ بس ایک عام سے 18 سالہ لڑکے کی طرح ہونا چاہتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو ان کی یادداشت ختم ہونے کے بارے میں معلوم ہو اور وہ ان سے مختلف انداز میں پیش آئیں۔‘
رفتہ رفتہ ایلیکس اپنی نئی زندگی کو پسند کرنے لگے۔ انھوں نے گاڑی چلانا سیکھا، ایک نوکری ڈھونڈی اور اپنے خاندان سے دوبارہ تعلق قائم کیا لیکن دو افراد سے تعلق قائم رکھنا ایلیکس کے لیے بہت مشکل ثابت ہوا۔
ایلیکس نے بتایا کہ ’میں نے اپنی گرل فرینڈ سے تعلق قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ وہ ایک مختلف خاتون تھیں، میں ان کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھ نہ پایا۔‘
دوسرا فرد، جس سے ایلیکس کو تعلق قائم رکھنے میں مشکل پیش آئی، وہ ان کی اپنی ماں تھیں۔
’کسی وجہ سے میں ان سے مکمل طور پر جڑ نہ پایا۔ میرے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل تھا کہ وہ میری ماں تھیں۔‘
ماضی کا خطرناک راز
اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ تعلق جوڑنا ایلیکس کے لیے آسان نہ تھا۔ ان کے سوتیلے والد جیک ان سے بہت زیادہ بڑے تھے اور گھر کے معاملات خاصی سختی سے چلاتے تھے۔
ایلیکس نے بتایا کہ ’جب وہ کمرے میں داخل ہوتے تو ہم کھڑے ہو جاتے اور سر کہہ کر انھیں پکارتے۔ ہم گھر کے اس حصے میں بھی نہیں جاتے تھے جو ان کے زیر استعمال تھا، جب تک کہ ہمیں بلایا نہ جاتا۔ ہم صرف اس وقت ان سے بات کرتے جب ان کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت ہوتی۔‘
اور پھر رفتہ رفتہ یہی ان کے لیے معمول بنتا گیا۔
مارکس کے مطابق ان کی والدہ جل طویل قامت، بلند آواز، گھلنے ملنے والی اور انتہائی خوب صورت خاتون تھیں۔ ’جب بھی کوئی تقریب ہوتی تو وہ سب کی توجہ کا مرکز ہوتیں۔ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے۔‘
جیک 1990 میں فوت ہوئے اور پانچ سال بعد جل بھی چل بسیں۔ شروع میں تو ایلیکس کو اپنی ماں سے تعلق بنانے میں مشکل پیش آئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ انھیں پسند کرنے لگے اور ان کی وفات پر بہت غمگین ہوئے۔
ایلیکس نے کہا کہ ’یہ میرے لیے بہت مشکل تھا، میں 18 سال کا تھا جب ان سے ملا اور 30 سال کا تھا جب وہ فوت ہوئیں۔ میں انھیں بہت پسند کرتا تھا۔ ان کی وفات پر میں روتا رہا لیکن تب مجھے احساس ہوا کہ میرے علاوہ اور کوئی بھی نہیں رو رہا۔ اور کسی کو بھی ان کی موت کی پروا نہیں تھی۔ تب میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کچھ ہے جو ٹھیک نہیں۔‘
اور پھر ان کے شبہات بڑھتے ہی گئے۔
ان کی والدہ چیزیں جمع کرنے کی عادی تھیں۔ انھوں نے اپنا کمرہ اور چھت کے اوپر والا کمرہ مختلف اشیا سے بھر رکھا تھا۔ جنازے کے بعد، ایلکس اور مارکس نے جائزہ لیا تو انھیں وہاں ’کچھ عجیب و غریب چیزیں‘ ملیں۔
ان اشیا میں رشتہ داروں کی طرف سے ایلیکس اور مارکس کو بھیجے گئے ایسے تحفے بھی تھے جو ان تک کبھی پہنچائے ہی نہیں گئے۔ ان کی والدہ کے کمرے سے ایک چھوٹی الماری بھی ملی جو چھپا کر رکھی گئی تھی۔
مارکس نے یاد کیا کہ ’دراز میں ہمیں میری اور ایلیکس کی ایک تصویر ملی، جب ہم تقریباً دس سال کے تھے، مکمل برہنہ لیکن ماں نے اس تصویر میں ہمارے چہرے کاٹ دیے تھے۔‘
ایلیکس خوفزدہ بھی ہوئے اور الجھن کا شکار بھی لیکن دونوں بھائیوں نے اس بارے میں کوئی بات نہ کی۔
ایلیکس کو یہ بات بھی عجیب لگی کہ ان کے بھائی مارکس اور اولیور، دونوں ہی تھیراپی (نفسیاتی علاج) لے رہے تھے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی تھیراپی آزمائیں گے، شاید اپنے بارے میں کوئی اہم بات جاننے کا موقع ملے۔
’پہلی بار میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ماضی میں شاید ایسا کچھ ہو چکا ہے جس کے بارے میں مجھے بتایا نہیں گیا۔‘
ان سے پوچھو کہ سچ کیا ہے؟
ایلیکس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی انہی ماہر نفسیات کے پاس جائیں گے جن کے پاس ان کے بھائی جاتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت وہ ماہر نفسیات ان کے بھائیوں کے سیشنز کے بارے میں کوئی بھی تفصیلات نہ بتانے کی پابند تھیں۔
ایک سیشن کے دوران ایلیکس کو غیر متوقع ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
’انھوں نے کچھ ایسے سوال پوچھے جنھوں نے میرے اندر کوئی احساس بیدار کر دیا۔ میں کسی وجہ کے بغیر ہی رونے لگا۔ تب ماہر نفسیات نے مجھ سے کہا کہ مجھے اپنے بھائیوں سے بات کرنا ہو گی اور ان سے پوچھنا ہو گا کہ سچ کیا ہے۔‘
پھر ایلیکس نے ایسا ہی کیا۔
’مارکس کچن میں تھے۔ میں اندر گیا اور صاف صاف انھیں بتایا کہ میرا ماننا ہے کہ ہماری ماں نے ہمارا جنسی استحصال کیا۔ وہ چائے کا کپ پکڑے کھڑے تھے۔ میری بات سنتے ہی ان کا چہرہ سفید پڑ گیا اور چائے کا کپ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ انھوں نے سر ہلایا اور تصدیق کی کہ میں جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں، وہ سچ ہے۔‘
مارکس نے بتایا کہ ان کی ماں اپنے بچوں کا جنسی استحصال کیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اپنے جاننے والے مردوں کو بھی اپنے بچوں کا ریپ کرنے دیتیں۔ ان کے شوہر جیک اس سے لا علم تھے۔
بھائی کے بتانے پر بھی ایلیکس کو یہ واقعات یاد نہ آ سکے لیکن ان انکشافات کا ان پر گہرا اثر ہوا۔ 32 سال کی عمر میں ایلیکس کو اپنا ماضی پھر سے تعمیر کرنا پڑا۔ جس مثالی بچپن کی یاد انھوں نے 18 سال کی عمر میں گھڑی تھی، وہ دراصل ایک فریب تھا جو 14 سال تک قائم رہا، پھر ایک ہی گفتگو کے بعد سب بکھر گیا۔
ایک اور موقع
جب 18 سالہ ایلیکس کوما سے جاگے تو مارکس کے مطابق ان کے پاس دو راستے تھے: یا تو ایلیکس کو سب سچ بتا دیتے یا جھوٹ بول کر اپنے بھائی کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر دیتے۔
مارکس نے کہا کہ ’جب میں کوما سے اٹھنے والے 18 سالہ لڑکے کو خوشی دے سکتا تھا، تو پھر ایسا سچ کیوں بتاتا جو ہضم کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا؟‘
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایلیکس کے سوال پیچیدہ ہوتے گئے۔
مارکس نے وضاحت کی کہ ’میں نے جان بوجھ کر کہانیاں بنانا شروع کیں، مثال کے طور پر یہ کہ پورا خاندان ہر سال چھٹیاں گزارنے جایا کرتا تھا جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ بڑھتے بڑھتے یہ سلسلہ اس نہج پر جا پہنچا، جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہ تھی۔ میں نے اس کے لیے ایک نئی سچائی تخلیق کی۔ میں اتنے طویل عرصے تک وہ جھوٹ دہراتا رہا کہ خود مجھے بھی اس پر یقین آنے لگا۔ یہ جھوٹ انھیں بھی سہارا دے رہا تھا اور مجھے بھی۔‘
لیکن نئی یادیں گھڑنے کی ایک قیمت بھی تھی۔ ایک مثالی بچپن کا فریب قائم رکھنے کے لیے مارکس کو یہ ظاہر کرنا پڑتا کہ سب کچھ ٹھیک تھا۔ یہاں تک کہ انھیں اپنی ماں کی سالگرہ کی تقریبات میں بھی شریک ہونا پڑتا، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔
’اس روز جب مجھ سے چائے کا کپ گرا تھا تو کرچیوں کے ساتھ سب کچھ ہی بکھر گیا تھا۔‘
رفتہ رفتہ ایلیکس اپنے ماضی کے بارے میں مزید جاننے لگے۔ انھیں معلوم ہوا کہ استحصال کا سلسلہ تب رکا جب ان کی عمر 14 برس تھی اور مارکس نے مزاحمت شروع کی۔ بد قسمتی سے ان کے چھوٹے سوتیلے بھائی اولیور کے استحصال کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔
ان انکشافات نے ایلیکس کو توڑ کر رکھ دیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یہ سب بالکل بھی یاد نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ جب میری یادداشت گئی تو میں نے اپنے احساسات بھی کھو دیے تھے لیکن ان انکشافات کے بعد میں جذبات کے بگولوں میں گھر گیا۔ مجھے ہر چیز ہی بری لگنے لگی، یہ بھی کہ حادثے کے بعد انجانے میں اپنے والدین کے گھر کیوں رہتا رہا۔‘
اکثر لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا انھیں اپنے بھائی پر بھی غصہ آیا جو ان سے جھوٹ بولتے رہے۔ ایلیکس وضاحت کرتے ہیں کہ مارکس نے تو انھیں ایک خوفناک بچپن سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی۔
’اگر کوما سے جاگتے ہی مجھے یہ سب کچھ بتا دیا جاتا تو میں اسے سہہ نہ پاتا اور جب مجھے اصل حقیقت معلوم ہوئی، تب میرے پاس یہ صلاحیت تو تھی ناں کہ میں مدد لے سکتا۔ میرا خیال ہے کوما نے میری ذہنی صحت تباہ ہونے سے بچا لی۔ ہاں، میرے لیے ایک جذباتی صدمہ تو تھا، مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا تھا۔‘
ایلیکس کہتے ہیں کہ اس تجربے نے انھیں، مارکس، یہاں تک کہ چھوٹے بھائی اولیور کو بھی مجبور کیا کہ زیادہ بات کریں، کھل کر بات کریں اور بہتر اور مضبوط انسان بننے کی کوشش کریں۔
ایلیکس نے بعد میں ان فلاحی اداروں کے ساتھ کام کیا جو جنسی استحصال کا شکار افراد کی مدد کرتے ہیں۔
آج، ایلیکس اور مارکس، دونوں کے دو دو بچے ہیں، جو ہم عمر ہیں۔ وہ نئی اور خوشگوار یادیں بنا رہے ہیں۔
2013 میں ایلیکس اور مارکس نے جوانا ہاجکن کے ساتھ مل کر اپنی خود نوشت (Tell Me Who I Am) تحریر کی۔
اس کتاب سے متاثر ہو کر نیٹ فلیکس پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی، جو سنہ 2019 میں ریلیز ہوئی تھی۔