بعض صارفین اس فلم کو روایتی حریفوں کے درمیان ’امن کی آشا‘ قرار دے رہے ہیں تو کچھ اس کا موازنہ گذشتہ ماہ ریلیز ہونے والی رنویر سنگھ کی فلم ’دھورندھر‘ سے کر رہے ہیں۔
1971 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف لڑنے والا ایک 21 سالہ انڈین فوجی اور اس کا اپنے والد سے محبت کا لازوال رشتہ۔۔۔ سال 2026 کے آغاز پر ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم ’اکیس‘ کی کہانی کے تانے بانے جنگ کے خون خرابے کے درمیان انھی انسانی جذبات اورمحسوسات کے گرد بُنتے دکھائی دیے ہیں۔
بالی ووڈ کی اس فلم میں 1971 کی پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ میں انڈین فوج کے سیکنڈ لیفٹیننٹ ارون کھیترپال کی حقیقی کہانی کو فلمایا گیا ہے جنھوں نے اس جنگ میں پاکستان کے خلاف لڑتے ہوئے 21 سال کی عمر میں جان دے دی تھی۔
انھیں بعد میں انڈین فوج کے سب سے بڑے اعزاز پرم ویر چکرا سے بھی نوازا گیا۔
مگر جنگی واقعات اور فوج کی بہادری کے تانے بانے کے درمیان باپ بیٹے کی محبت بیان کرتی یہ فلم سوشل میڈیا صارفین کے درمیان موضوع بحث ہے۔
بعض صارفین اس فلم کو روایتی حریفوں کے درمیان ’امن کی آشا‘ قرار دے رہے ہیں تو کچھ اس کا موازنہ گذشتہ ماہ ریلیز ہونے والی رنویر سنگھ کی فلم ’دھورندھر‘ سے کر رہے ہیں۔
اس فلم کو گذشتہ سال وفات پانے والے انڈین فلمسٹار دھرمیندر کی ’آخری فلم‘ کہا جا رہا ہے جبکہ صارفین مرکزی کردار ادا کرنے والے اگستھیا نندرہ کی اداکاری کو بھی سراہ رہے ہیں جو بالی ووڈ سپر سٹار امیتابھ بچن کے نواسے ہیں۔
یہ فلم پاکستان میں تو ریلیز نہیں کی جا سکی تاہم یوٹیوب پر موجود اس کے پونے تین منٹ کے پہلے ٹریلر میں ایک منظر میں ارون کھیترپال کی سالگرہ کا منظر دکھایا گیا۔
اس دوران جب ان کے ایک سینیئر ان کی عمر پوچھتے ہیں تو ارون چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں بہادر فوجی کا جذبہ لیے کہتے ہیں کہ ’اکیس‘۔ شاید اسی لیے فلم کا نام بھی یہی رکھا گیا۔
فلم ’اکیس‘ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت سے ناظرین نے اس کی جذباتی گہرائی اور انسانی کہانی کو سراہا تو وہیں انڈیا کی جانب سے کئی صارفین اس کہانی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
فلموں کے ناقد اور صحافی رام ونکات سریکال نے فلم میں تاریخی حقائق کو بہترین انداز میں پیش کرنے پر لکھا کہ ’رام راگھوان کی اکیس، یہ صرف ایک جنگی ہیرو کی کہانی نہیں بلکہ اس میں ایک خاص بات ہے۔ فلم صرف بہادری نہیں دکھاتی بلکہ فرض، جنگ کے بعد کے زخم اور سب سے بڑھ کر انسانیت پر بات کرتی ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’جنگ کی ساری خونریزی کے بیچ میں جو جذبات کی نرمی، گرمجوشی اور حساسیت ہے، وہ عام طور پر ایسی فلموں میں نہیں ملتی۔‘
اس فلم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین ’امن کی آشا‘ کی بھی یاد دلا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امن کی آشا دراصل انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن، مکالمے اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی ایک مشترکہ مہم تھی، جس کا آغاز 2010 میں ٹائمز آف انڈیا اور پاکستان کے خبر رساں ادارے جنگ گروپ نے مل کر کیا تھا۔
اس مہم کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانا اور دشمنی کے سرکاری بیانیے کے بجائے عوامی سطح پر بات چیت کو فروغ دینا تھا جس کے لیے ثقافت، موسیقی، تجارت، صحافت اور کھیل کا سہارا لیا جا رہا تھا۔
سکن ڈاکٹر نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’اگر فلم دھورندھر نے آپ کا ’امن کی آشا‘ والا خواب توڑ دیا تو اکیس دیکھ کر آپ کو یقیناً کچھ سکون مل سکتا ہے۔‘
فلم کی کہانی پر بات کرتے ہوئے وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’اگر منطقی طور پر دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسی فلم بننی چاہیے تھی؟ کیونکہ ایک جنگ کی بے رحمی کو صرف ایک خوشگوار لمحے سے بیان کرنا حقیقت کو مسخ کرتا ہے۔ جنگیں مجموعی رویے سے پرکھی جاتی ہیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’ہمدردی اہم سہی مگر اس کی قیمت حقائق پر نہیں۔ 1971 میں ایک واضح جارحیت تھی اور ان جرائم کے دستاویزی ثبوت ہیں۔ سچائی کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔‘
ان کے مطابق ’اس فلم کے ذریعے امن کی آشا کا ڈرامہ فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ نظریہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ’پاکستان نے میرے بیٹے کو نہیں مارا بلکہ جنگ نے مارا۔‘
’ پہلگام اور آپریشن سندور کے بعد اس فلم کا بہت گہرا مطلب ہے‘
بہت سے صارفین فلم ’اکیس‘ کا مقابلہ فلم ’دھورندھر‘ سے کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ شیبی نامی صارف سمیت بعض صارف یہ بھی کہتے ہیں کہ ’اہم بات یہ ہے کہ یہ پروپیگنڈا فلم نہیں۔‘
انڈین فلموں کے معروف کاسٹنگ ڈائریکٹر مکیش چھابرا نے ایکس پر لکھا کہ ’ابھی ابھی ’اکیس‘ دیکھی جو دل سے بنائی گئی۔ اس کی سچی کہانی فلم ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک گھیرے میں لیے رہتی ہے۔‘
ساتھ ہی مکیش چھابڑا نے اداکار دھرمیندرکے کردار کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’کیا وقار، کیا گہرائی ہے۔ آپ نے ہمیں کچھ ایسا دیا، جو نہایت اہم ہے۔ آپ کی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی۔‘
اس فلم کے ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر سری رام راگھوان ہیں جن کے بارے میں سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے اس فلم کو بنا کر کمال فن سے سچائی سامنے لائے ہیں۔
ابھیرج ناگ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’فلم اکیس جنگ اور قربانی کی کہانی ہے اور دھورندھر خفیہ کارروائیوں اور جاسوسی پر مبنی کہانی ہے۔ پہلگام اور آپریشن سندور کے بعد اس فلم کا بہت گہرا مطلب ہے جسے فی الحال کوئی نہیں سمجھ پا رہا۔ اب وقت ایک حتمی حل کا تقاضا کرتا ہے۔‘
’آپ کا بیٹا میرے ہاتھوں مارا گیا‘
فلم اکیس کی کہانی جس کردار کے گرد گھومتی ہے وہ انڈین فوج کے سیکنڈ لیفٹیننٹ ارون کھیترپال تھے۔
ارون کھیترپال، جو 6 فٹ 2 انچ لمبے تھے، ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دادا پہلی عالمی جنگ لڑے تھے اور ان کے والد دوسری عالمی جنگ اور پاکستان انڈیا کی سنہ 1965 کی جنگ میں لڑے تھے۔ ان میں بچپن ہی سے قیادت اور ذمہ داری کی خصوصیات تھی۔
16 دسمبر 1971کو رات کے 10:15 بجے 21 سالہ ارون کھیترپال نے پاکستان کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی آخری سانسیں لیں۔
اس کے 30 سال بعد ارون کے والد، بریگیڈیئر ایم ایس کھیترپال کو اچانک اپنی جائے پیدائش یعنی پاکستان میں سرگودھا جانے کا خیال آیا۔ اس وقت ان کی عمر 81 برس تھی۔
بی بی سی ہندی کے سنہ 2016 میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق ارون کے بھائی مکیش اگروال نے بتایا کہ جب ان کے والد ’لاہور پہنچے تو ایک پاکستانی بریگیڈیئر نے ان کا استقبال کیا اور انھیں اپنے گھر آنے اور اپنے ساتھ رہنے کو کہا۔‘
’اس بریگیڈیئر اور ان کے پورے خاندان نے ان کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا لیکن انھیں لگا کہ کچھ ایسا ہے جو پاکستانی بریگیڈیئر انھیں بتانا چاہتے ہیں۔‘
’کھیترپال کے جانے سے ایک دن پہلے رات کے کھانے کے بعد بریگیڈیئر ان کے پاس آئے اور کہا سر، میرے دل میں ایک بات ہے جو میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں، میں کئی سال سے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ آپ تک کیسے پہنچوں۔‘
’یہ معاملہ آپ کے بیٹے ارون کھیترپال سے متعلق ہے۔ 16 دسمبر 1971 کی صبح، آپ کا بیٹا اور میں اپنے اپنے ملک کے لیے لڑتے ہوئے آمنے سامنے تھے۔‘
’انتہائی افسوس کے ساتھ آپ کو بتانا پڑ رہا ہے کہ آپ کا بیٹا میرے ہاتھوں مارا گیا۔ ارون کی بہادری میدان جنگ میں شاندار تھی۔‘
’اس نے اپنی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر ہم سے بہادری سے مقابلہ کیا۔ دونوں طرف سے بہت سے لوگ مارے گئے۔ آخر میں صرف میں اور ارون ہی رہ گئے تھے۔ ہم دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے پر گولی چلائی۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں بچ گیا اور ارون کو اس دنیا سے جانا پڑا۔
’بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ کتنا چھوٹا ہے۔ میں آپ کے بیٹے کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘