لڑکی کماتی ہو تو زیادہ اچھا ہے۔۔۔ مسسز خان کون ہیں؟ جانئیے ان کے بارے میں وہ دلچسپ باتیں جو لوگ جاننا چاہتے ہیں

image

مسز خان کے نام سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔ ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے مسز خان کو ہر خاص و عام پہجانتا ہے جو اکثر اپنی باتوں سے لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں “ہماری ویب“ کے پڑھنے والوں کو مسز خان کی چند دلچسپ باتوں کے بارے میں بتایا جائے گا۔

مسز خان کے دو بچے ہیں

مسز خان نے اپنے دیئے جانے والے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی اور دونوں کی شادی ہوچکی ہے۔ مسز خان کہتی ہیں کہ وہ اولاد کے معاملے می کافی خوش نصیب ہیں کیونکہ ان کی بیٹی اپنی شادی شدہ زندگی میں کافی خوش ہے اور ان کا بیٹا بہو ان کے فرمانبردار اور بہت اچھے ہیں۔ بہو کے معاملے میں مسز خان ہاتھ جوڑ کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ان کی بہو ہر لحاظ سے اچھی بہو ہے۔ مسز خان کی صرف دو پوتیاں ہیں اور ایک نواسہ اسکاٹ لینڈ سے پڑھ کر آیا ہے۔

کس عمر کے لڑکے سے کرنی چاہئیے؟

مسز خان کہتی ہیں کہ کچھ لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو کہتی ہیں کہ ہمیں لڑکے کی عمر زیادہ ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں اگر مرد امیر ہوگا تو ہمیں اچھا لائف اسٹائل دے سکے گا اس لئے وہ بڑی عمر کے بابوں سے ہی رشتہ کرنا چاہتی ہیں۔ جبکہ اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ لڑکا کتنا ذمہ دار ہے۔ ہوسکتا ہے ایک لڑکا مالی لحاظ سے اتنا مضبوط نہ ہو لیکن اگر وہ ذمہ دار ہے اور شریف لڑکا ہے تو وہ ترقی ضرور کرے گا۔

لڑکی کیسی ہونی چاہئیے؟

شادی کے لئے لڑکی پسند کرنے میں کچھ خاندان صحیح معنوں میں جوتیاں گھس دیتے ہیں۔ اس حوالے سے مسز خان کا مشورہ ہے کہ یہ تو ہر عورت کی خواپش ہوتی ہے کہ اس کی بہو پیاری ہو۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے لڑکی میں ٹائم مینیجمنٹ ہونی چاہئیے تاکہ اسے یہ پتہ ہو کہ گھر میں کس فرد کی ضرورت کو کب اور کیسے پورا کرنا ہے۔ گھر میں سو نوکر بھی ہوں تو بھی گھر کی عورت کو کچن کے معاملات دیکھنا ضروری ہیں ورنہ صرف نوکروں پر چھوڑ دیا تو سارے گھر کا نظام چوپٹ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اگر لڑکی کماتی ہوئی ہو تو اور اچھا ہے اس طرح گھر چلانے میں مرد کو مالی سہارا حاصل رہتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US