ایک مشہور سیاست دان اور ایک مشہور لیڈر وہی ہوتا ہے جو کہ مشکلات کو جھیلے اور تمام تکالیف کو برداشت کرے۔ ایسے کئی لیڈر اس دنیا میں موجود ہیں اور تھے جو کہ دنیا بھر میں ایک نام بنا کر چلے گئے۔
ہمارے ویب کے ناظرین کے لیے آج ایک ایس سیاسی شخصیت سے متعلق خبر لے کر آئے ہیں، جس میں ان سے متعلق کچھ ایسی باتیں بتائیں گے جو ہو سکتا ہے آپ پہلے نہیں جانتے ہوں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم رہنما اور ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی شہید بے نظیر بھٹو کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی جو کہ دنیا بھر میں اپنا ایک مقام رکھتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو شروع ہی سے اپنے والد کی دلاری اور والدہ کی پیاری تھیں۔ والدین اور گھر والوں کی بے نظیر کے لیے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بے نظیر کو گھر والے پنکی کے نام سے بلاتے تھے۔
بے نظیر کی گوری رنگت اور گلابی گالوں کی وجہ سےگھر والے انہیں پیار سے پنکی کہا کرتے تھے۔
بے نظیر بھٹو نے کیتھولک اسکول سے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا تھا جبکہ 16 سال کی عمر میں ہی دنیا کی بہترین یونی ورسیٹی ہارورڈ یونی ورسٹی سے کمپیریٹو گورمنٹ میں ڈگری حاصل کی تھی۔
اسی طرح بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بے نظیر دنیا کی وہ پہلی خاتوں تھیں جو کہ آکسفارڈ یونی ورسٹی میں آکسفارڈ یونین کی پہلی صدر منتخب ہوئی تھیں۔
بے نظیر اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں بے حد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ذوالقفار علی بھٹو جس وقت جیل میں تھے، اسی وقت بے نظیر اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کو بھی نظر بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس دوری میں بھی بے نظیر اور نصرت بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کی راہ کو نہیں چھوڑا اور انہی کے نقش قدم پر چلتی رہی تھیں۔
بے نظیر اس وقت حیران اور پریشان ہو گئی تھیں جب ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت کی خبر انہیں اور والدہ کو ملی تھی۔ چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کا خیال تھا کہ ان کی جرم کی سزا سزائے موت نہیں ہو سکتی ہے، اسی لیے ان کے گھر والے بھی سزائے موت کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
بے نظیر اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات سے متعلق کہتی تھیں کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ آپ والد سے بات کرلیں، ہمیں یہ بالکل نہیں بتایاگیا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ بےنظیر کا کہنا تھا کہ جب ہمیں لے جایا گیا تو ہم سمجھ گئے تھے کہ یہ ہماری والد سے آخری ملاقات ہے مگرجب پوچھا تو حوالدار نے کہا کہ ہو سکتا کہ آخری ملاقات ہو اور ہو سکتا ہے کہ آخری ملاقات نہ ہو۔
بے نظیر کا کہنا تھا کہ میں نے بہانا بنا کر جانے سے انکار کر دیا مگر وہ والد سے آخری ملاقات کرانے کے لیے بضد تھے۔ اگلے دن دوبارہ ہولیس اہلکار آئے اور ہمیں کہا کہ اب آپ صحت مند ہیں، آج آپ دونوں والدہ اور میں والد سے مل لیں۔
بے نظیر کا کہنا تھا کہ جب ہم والد سے مل رہے تھے، تب جیل سپرٹنٹدنٹ نے والد کو اگلی صبح سزائے موت کی خبر کے بارے میں بتایا۔ جبکہ جیل سپرٹنٹدنٹ نے کہا کہ آپ کے پاس آدھا گھنٹہ ہے گھر والوں سے ملنے کے لیے۔
بے نظیر اپنی آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے رو پڑیں اور کہا کہ اس آخری ملاقات میں میں نے والد کو پیار سے دیکھا، انہیں گلے لگایا، وہ بہت ہی پُر سکون تھے۔ ہم نے پارٹی معامللات اور گھر کے معاملات پر بات چیت کری۔ بے نظیر کا کہنا تھا کہ جیل میں موجود لوگوں نے آخری بار مجھے اپنے والد کے ہاتھ بھی نہیں چومنے دیے اور خدا حافظ تک نہیں کہنے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے والد سے کہا کہ آپ کو کچھ چاہے تو انہوں نے کہا کہ میں صرف شالیمار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں، جو کہ ایک پرفیوم تھی۔
بے نظیر کا کہنا تھا کہ والد بہت پُر سکون تھے، وہ اپنے والد کی سزائے موت سے متعلق کہتی تھیں کہ سزائے موت سے تین چار ہفتے پہلے میں نے والد کو کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، لیکن والد نے کہا کہ میں کبھی غلط ہوا ہوں؟ والد کی اس بات پر میں شدید رو رہی تھی۔ والد نے کہا کہ تم افسردہ کیوں ہو رہی ہو؟ میں نے آزاد ہو جاؤن گا۔
آخری الفاظ سے متعلق بے ںظیر کہتی تھیں کہ والد نے ہمیں کہا کہ خدا حافظ، اب آخرت میں ملاقات ہوگی۔ جبکہ مزید کہا کہ والد کی موت کی خبر ہمیں ریڈیو سے ملی تھی اور اس وقت اسٹاف ہم سے کھانے کا پوچھ رہا تھا، کیا فوتگی والے گھر میں کچھ کھانے کا دل کرتا ہے؟
بے نظیر نے اپنے والد کو بچھڑنے سے ظلم و ستم سہنے تک بہت کچھ برداشت کیا تھا، وہ اکیلی خاتون تھیں جو کہ پاکستان کی سیاست میں گندگی کو بھی سہن کر رہی تھیں۔ لیکن ان سب صورتحال میں بے نظیر نے ہار نہیں مانی اور اپنے حوصلے اور ہمت سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں۔
بے نظیر کی اسی تکلیف نے انہیں اس حد تک طاقتور اور باہمت بنا دیا تھا کہ وہ ہر مشکل کو جھیل سکتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان بھر کی خواتین سمیت ہر کوئی انہیں بے حد چاہتا تھا، ان سے دلی لگاؤ تھا، وہ جب بھی کسی خاتون کو گلے لگاتی تھیں تو محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی اپنا ہو۔
آصف علی زرداری سے شادی ویسے تو بے نظیر کی چاہت نہیں تھی، دراصل یہ ایک ارینج میرج تھی۔ جس میں نصرت بھٹو کی خواہش تھی کہ بے نظیر کی شادی ہو جائے۔ غیر تصدیق شدہ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ نصرت بھٹو بے نظیر کی شادی اس لیے بھی کرانا چاہتی تھیں تاکہ وہ انہیں سیاسی گندگی سے بچا سکیں۔
بے نظیر کی شادی کے عوامی اجتماع میں عوام کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔ انہیں مبارک بار دینے، خوشی میں شریک ہونے کے لیے سب موجود تھے۔