ہمارے ہاں لڑکیوں کی تربیت تو بہت کی جاتی ہے لیکن جب لڑکوں کی تربیت کا معاملہ آتا ہے تو انھیں صرف ڈگری اور اچھی نوکری حاصل کرنے تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ معاشرے میں ایک حساس انسان کے طور پر ابھر نہیں پاتے۔ اس آرٹیکل میں "ہماری ویب" کے پڑھنے والوں کو لڑکوں کی تربیت کے ایسے طریقے بتائے جارہے ہیں جن سے آپ کا بیٹا بھی اچھا انسان بن سکے گا
ہار ماننا سکھائیں
ہار جیت زندگی کا حصہ ہے۔ جہاں اپنے بیٹے کو جیتنے کے لئے اس کا حوصلہ بڑھانا ضروری ہے وہیں اسے یہ بھی بتائیں کہ ہارنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ اپنی ہار اور دوسرے کی جیت پر مبارکباد دینا سکھائیں۔ جب ماں باپ بچے کس ہنس کر کھلے دل سے دوسرے کی جیت پر مبارکباد دینا سکھائیں گے تو بچے کے اندر نفرت اور بدلے کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے اور وہ دوسروں کی خوشی سے جلنے سے زیادہ اپنی زندگی پر توجہ دینا سیکھے گا۔
گھر کے کام کیسے کرنے ہیں؟
گھر کے کام کرنا لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو بھی آنے چاہئیں تاکہ کل انھیں زندگی میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بٹن ٹانکنا، اپنا کھانا تیار کرنا، کمرا صاف کرنا اور پلیٹیں دھونا وہ بنیادی کام ہیں جو لڑکوں کو بھی لازمی آنے چاہئیں۔
غصہ ضبط کرنا
غصہ آنا بھی فطری عمل ہے۔ لیکن اس غصے کو برداشت کیسے کرنا ہے اور کس طرح خود کو اس کیفیت سے نکالنا ہے یہ سکھانا ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔ بچے کو سمجھائیں ہوسکتا ہے سامنے والا غلط ہو لیکن اس کا حل لڑنا جھگڑنا نہیں ہے بلکہ یا تو بات چیت سے معاملہ حل کریں اور اگر پانی سر سے گزر رہا ہو تو کسی ذمہ دار شخص کے سامنے معاملہ رکھیں
لڑکا بھی رو سکتا ہے
ہمارے معاشرے میں لڑکوں کا رونا اچھا نہیں سمجھا جاتا اگر وہ رہ جائیں تو انھیں کمزور ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں۔ ہنسی اور غصے کی طرح رونا آنا بھی فطری جذبہ ہے۔ بچے کو سکھائیں کہ کسی دل دکھانے والی بات پر اکیلے رولینا دل کو ہلکا کرتا ہے ۔ بڑے ہونے کے بعد بھی اپنی باتیں ماں باپ سے شئیر کرنا ایک اچھی عادت ہے کیونکہ ماں باپ بہترین راہنما ہوتے ہیں۔
لڑکیوں کی عزت کرنا سکھائیں
معاشرے میں لڑکیوں کے ساتھ بڑھتے جرائم کے پیچھے لڑکوں کے ایسے ماں باپ کا اہم کرداد ہے جو بیٹوں کو لڑکیوں کی عزت کرنا نہیں سکھاتے۔ اپنے بیٹوں کو یہ تربیت دیں کہ کوئی کسی بھی طرح موجود ہو آپ کو صرف اپنے کام سے کام رکھنا ہے۔ اونچی آواز میں بات کرنا، لڑنا، ہاتھا پائی کرنا یا بلاوجہ گھورنا اخلاقی اور قانونی طور پر غلط رویے ہیں