"پاکستان اور افغانستان کی سرحد ہر صورتحال قابو میں ہیں۔ افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر قومی سلامتی اور ہر قسم کے خطرات سے آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کی بہتر سے بہتر کوشش کی جارہی ہے"
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پاکستان پر اثرات اور پاکستانی سرحد کو محفوظ بنانے کے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ" افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا اچانک ختم ہونا سب کی امیدوں کے برعکس تھا البتہ پاکستان نے پہلے ہی افغانستان کے ساتھ مل کر سرحد کے تحفظ کے لئے یقینی اقدامات کردیئے تھے"
پاک فوج کی جانب سے کیے گئے اقدامات
جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں جن میں اونچی باڑ لگانا، سینکڑوں واچ ٹاورز لگانا اس کے علاوہ ہر طرح سے ٹیکنالوجی اور نگرانی کو اپ ڈیٹ کرنے کے موثر اقدامات کرنا شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 'دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے، یہ تمام کارروائیاں ناقابل تسخیر جذبے اور پوری قوم کی کوششوں کی عظیم قربانی کا مظہر ہیں'۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں
واضح رہے کہ بلوچستان کی افغانستان کے ساتھ سات اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں/p>
افغانستان کی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ "طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور 'ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا ہوگا"