پاکستان میں ایک گنیش مندر گر جاتا ہے تو سپریم کورٹ سے لے کر پاکستان کے وزیرِ اعظم تک میں ہلچل مچ جاتی ہے اور مسلمان خود پیسے جمع کر کے مندر دوبارہ بنواتے ہیں لیکن بھارت میں کھلے عام مساجد شہید کی جاتی ہیں اور نہ سماج کو کوئی فرق پڑتا ہے نہ ہماری سرکار کو نہ پولیس کو“ یہ الفاظ بھارتی یوٹیوبر نوین کمار کے ہیں جو اپنی سرکار کے منافقانہ رویے سے تنگ ہیں۔ نوین کمار آرٹیکل 19 انڈیا کے نام سے ایک یوٹیوب چینل چلاتے ہیں اور بے لاگ کھرے تبصرے کرتے ہیں۔
پاکستان کو سلام کرنے کا دل چاہتا ہے
نوین اپنی ویڈیو میں بھارت کے وزیروں سے پوچھتے ہیں کہ اگر میں کہوں کہ پاکستان کو سلام کرنے کا دل چاہتا ہے تو آپ کو برا تو نہیں لگے گا؟ نوین کمار نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ بھارت کے ہندو منتریوں (وزیروں) کو اپنے بونے پن سے باہر آنا چاہئیے اور پاکستان سے کچھ سیکھنا چاہئیے۔
ہندو چاہتے ہیں کہ مسلمان ان سے ڈریں
نوین کمار کہتے ہیں کہ بھارت میں ہندو وزیر چاہتے ہیں کہ مسلمان شہری ان سے ڈریں اس کے لئے وہ ان کی عورتوں سے بدتمیزی کرتے ہیں اور ان کے گھروں نقصان پہنچانے کے ساتھ مساجد شہید کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ جب بابری مسجد کے حوالے سے فیصلہ آنے والا تھا تو بھارت کے بڑے بڑے نیوز اینکرز لکھ رہے تھے کہ ہم رام مندر کے حق میں فیصلہ آنے کے کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں لیکن جب رحیم یار خان میں مندر گرایا جاتا ہے تو پاکستانی وزیرِ اعظم اس پر دکھی ہوتے ہیں۔
بھارت پاکستان سے سبق سیکھے
نوین کمار کا کہنا ہے کہ بھارت مسلمانوں سے نفرت میں اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ اب انسانیت ہی باقی نہیں رہی اس کے مقابلے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم سے لے کر عوام تک ایک مثال ہیں جس سے بھارت کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔