ملک میں بے ہنگم ٹریفک سے روزانہ بڑی تعداد میں ایکسیڈینٹس ہوتے ہیں اور ہزاروں روپے کا چالان کاٹا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کون سی خلاف ورزیاں کرتے ہیں اور ان کا کتنا چالان کاٹا جاتا ہے اس بارے میں “ہماری ویب“ نے اپنے پڑھنے والوں کے لئے خصوصی ویڈیو بنائی ہے جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ہر شہر کا ٹریفک چالان الگ ہوتا ہے البتہ اس آرٹیکل میں خصوصی طور پر کراچی کے حوالے سے ہی بات کی جارہی ہے۔
موٹر سائیکل والوں کا چالان
ٹریفک پولیس افسر رشید خان نے بتایا کہ موٹر سائیکل چلانے والے اکثر ہیلمٹ نہیں پہنتے جس کی وجہ سے انھیں چالان بھی بھرنا پڑتا ہے اور حلف نامہ بھی دستخط کرنا پڑتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ اب میں ہیلمٹ پہنوں گا۔ اگر اٹھارہ سال سے کم عمر بچہ موٹر سائیکل چلاتا ہے تو 500 کا جرمانہ بچے کو اور 500 کا اس کے والد کو چالان بھرنا پڑتا ہے۔
گاڑیوں کا چالان کن باتوں پر پوتا ہے؟
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ گاڑیوں کا چالان کالے شیشے چڑھانے، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور گاڑی کی مینٹیننس نہ کروانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کالے شیشے چڑھانے کا جرمانہ ہزار روپے ہے اس کے علاوہ شیشے سے کالے شیشے کی پنی بھی اتاری جاتی ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق سب سے بڑا جرمانہ دو ہزار کا ہوتا ہے جو گاڑی کی مینٹیننس نہ کرانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سب کے علاوہ گاڑی کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسنز ساتھ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ڈرائیونگ لائسنز ایک ہفتے تک واپس نہ لیا جائے تو۔۔۔
اگر چالان بھر دیا جائے لیکن اپنا ڈرائیونگ لائسنز ایک ہفتے تک واپس نہ لیا جائے تو ٹریفک پولیس اس شخص کا لائسنز کورٹ کے حوالے کردیتی ہے جس کے بعد کورٹ جا کر ہی لائسنز حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق یہ تمام چالان اس لئے کاٹے جاتے ہیں تاکہ شہری قانون کی حفاظت کریں آخر اس میں ان کا اپنا ہی فائدہ ہے۔